«23»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ سِنَانٍ عَنْ مُرَازِمٍ وَ مُوسَی بْنِ بَكْرٍ قَالا سَمِعْنَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لَمْ يَزَلِ اللَّهُ يَبْعَثُ مِنَّا مَنْ يَعْلَمُ كِتَابَهُ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ وَ إِنَّ عِنْدَنَا مِنْ حَلَالِ اللَّهِ وَ حَرَامِهِ مَا يَسَعُنَا كِتْمَانُهُ مَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نُحَدِّثَ بِهِ أَحَداً.
بصائر الدرجات: مرازم اور موسیٰ بن بکر کہتے ہیں: ہم نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: اللہ ہمیشہ ہم اہلِ بیت میں سے کسی کو مبعوث کرتا ہے جو کتابِ خدا کو اول سے آخر تک جانتا ہے۔ اور اللہ کا حلال و حرام ہمارے پاس ہے، ہمیں اُسے چھپانے کا حق نہیں اور دوسری طرف ہم ہر کسی کو بتا بھی نہیں سکتے۔
«24»- ير، بصائر الدرجات عَبْدُ اللَّهِ ١ عَنْ مُحَسِّنٍ ٢ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَعْقُوبَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قُلْتُ لَهُ الْعِلْمُ الَّذِي يَعْلَمُهُ عَالِمُكُمْ بِمَا يَعْلَمُ قَالَ وِرَاثَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام يَحْتَاجُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَ لَا يَحْتَاجُ إِلَى النَّاسِ.
بصائر الدرجات: حارث بن مغیرہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: وہ علم جو آپ کا عالم جانتا ہے، کہاں سے ہے؟ فرمایا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اور علی بن ابی طالب علیہما السلام کی میراث ہے، جس کے لوگ محتاج ہیں اور ہمیں لوگوں کی کوئی حاجت نہیں۔
«25»- ير، بصائر الدرجات الْحَجَّالُ عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ بُرَيْدٍ الْعِجْلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى صُحُفاً مُطَهَّرَةً فِيها كُتُبٌ قَيِّمَةٌ قَالَ هُوَ حَدِيثُنَا فِي صُحُفٍ مُطَهَّرَةٍ مِنَ الْكَذِبِ.
بصائر الدرجات: برید عجلی کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے آیت «صُحُفاً مُطَهَّرَةً فِیها کُتُبٌ قَیِّمَةٌ» {پاکیزہ صحیفے، جن میں مضبوط تحریریں ہیں۔} کے بارے میں پوچھا۔ فرمایا: وہ ہماری حدیث ہے جو جھوٹ سے پاک صحیفوں میں ثبت ہے۔
«26»- سن، المحاسن عَبَّاسُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَثْعَمِيِّ عَنْ أَبِي غَيْلَانَ عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْجُعْفِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام إِنَّ اللَّهَ بَرَّأَ مُحَمَّداً صلى اللّٰه عليه و آله مِنْ ثَلَاثٍ أَنْ يَتَقَوَّلَ عَلَى اللَّهِ أَوْ يَنْطِقَ عَنْ هَوَاهُ أَوْ يَتَكَلَّفَ.
المحاسن: اسماعیل جعفی کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو تین چیزوں سے بیزار اور بری رکھا: اِس سے کہ اللہ پر جھوٹ اور افترا باندھیں، یا خواہش سے بات کریں، یا تکلف کریں، یعنی ایسی چیزوں کا دعویٰ کریں جن کے وہ اہل نہیں۔
بيان: إشارة إلى قوله تعالى وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنا بَعْضَ الْأَقاوِيلِ ٣» و سمي الافتراء تقولا لأنه قول متكلف و إلی قوله تعالی وَ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى ٤ و إلی قوله تعالی وَ ما أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ٥و التكلف التصنع و ادعاء ما ليس من أهله.
حدیث آیتِ مبارکہ کی طرف اشارہ ہے: «وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنا بَعْضَ الْأَقاوِیلِ» {اور اگر [وہ] ہم پر کچھ باتیں گھڑ لیتا۔} اور گھڑی ہوئی بات کو «تقوّل» کہا گیا کیونکہ وہ تکلف سے بنائی گئی بات ہے؛ اور آیتِ مبارکہ «وَ ما یَنْطِقُ عَنِ الْهَوی» {اور وہ خواہش سے بات نہیں کرتا۔} کی طرف اشارہ؛ اور اللہ تعالیٰ کے قول «وَ ما أَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِینَ» {اور میں اُن میں سے نہیں جو اپنی طرف سے کچھ بنائیں۔} کی طرف اشارہ ہے۔ «تکلف» خود سازی اور ایسی چیز کا دعویٰ ہے جس کا وہ اہل نہ ہو۔
«27»- جا، المجالس للمفيد ابْنُ قُولَوَيْهِ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنْ هَارُونَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ أَسْبَاطٍ عَنِ ابْنِ عَمِيرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام إِذَا حَدَّثْتَنِي بِحَدِيثٍ فَأَسْنِدْهُ لِي فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ عَنْ جَبْرَئِيلَ عليه السلام عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كُلُّ مَا أُحَدِّثُكَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ٦.
مجالسِ مفید: جابر کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے عرض کیا: اپنی حدیث کی اسناد بتائیے۔ فرمایا: میرے والد سے، وہ میرے جد سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے، وہ جبرئیل سے، وہ اللہ تعالیٰ سے؛ جب بھی میں تم سے حدیث کہتا ہوں، اُس کی سند یہی ہے۔
«28»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، رَوَى هِشَامُ بْنُ سَالِمٍ وَ حَمَّادُ بْنُ عُثْمَانَ وَ غَيْرُهُمَا قَالُوا سَمِعْنَا
منیۃ المرید: ہشام بن سالم، حمّاد بن عثمان اور دیگر نے روایت کی کہ ہم نے