Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 177

بيان: ليس المراد بالرجم هنا القول بالظن بل القول بإلهامه تعالى- ير، بصائر الدرجات علي بن إسماعيل بن عيسى عن صفوان بن يحيى عن عبد اللّٰه بن مسكان عن عبد الرحيم مثله- ير، بصائر الدرجات أحمد بن موسى عن أيوب بن نوح عن صفوان مثله- ير، بصائر الدرجات أحمد بن محمد عن الأهوازي عن القاسم بن محمد عن محمد بن يحيى عن عبد الرحيم مثله.

«رجم» سے مراد ظن و گمان کے ساتھ بات کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے الہام سے بات کرنا ہے۔ بصائر الدرجات میں تین سندوں کے ساتھ اِس حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔

«20»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْأَهْوَازِيِّ وَ الْبَرْقِيِّ عَنِ النَّضْرِ عَنْ يَحْيَى الْحَلَبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْكَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ إِنَّ عَلِيّاً عليه السلام إِذَا وَرَدَ عَلَيْهِ أَمْرٌ لَمْ يَجِئْ بِهِ كِتَابٌ وَ لَا سُنَّةٌ رَجَمَ بِهِ يَعْنِي سَاهَمَ فَأَصَابَ ثُمَّ قَالَ يَا عَبْدَ الرَّحِيمِ وَ تِلْكَ الْمُعْضِلَاتُ.

بصائر الدرجات: عبدالرحیم کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: جب امیر المؤمنین علیہ السلام پر کوئی ایسا مسئلہ پیش آتا جو کتاب و سنت میں نہ ہوتا تو آپ اُسے قرعہ سے معین کرتے اور حق تک پہنچ جاتے۔ پھر فرمایا: اے عبدالرحیم! یہ مشکلات میں سے ہے۔

بيان: قوله عليه السلام ساهم أي استعلم ذلك بالقرعة و هذا يحتمل وجهين الأول أن يكون المراد الأحكام الجزئية المشتبهة التي قرر الشارع استعلامها بالقرعة فلا يكون هذا من الاشتباه في أصل الحكم بل في مورده و لا ينافي الأخبار السابقة لأن القرعة أيضا من أحكام القرآن و السنة و الثاني أن يكون المراد الأحكام الكلية التي يشكل عليهم استنباطها من الكتاب و السنة فيستنبطون منهما بالقرعة و يكون هذا من خصائصهم عليهم السلام لأن قرعة الإمام لا تخطئ أبدا و الأول أوفق بالأصول و سائر الأخبار و إن كان الأخير أظهر ١.

«ساہم» یعنی وہ مسئلہ قرعہ سے جان لیتے تھے، اور اِس کے دو احتمال ہیں: ۱۔ مراد جزوی مشتبہ احکام ہوں جن کا معلوم کرنا شارعِ مقدس نے قرعہ پر منوط کیا ہے؛ اور یہ اصلِ حکم میں اشتباہ نہیں بلکہ حکم کے موارد میں ہے، اور گزشتہ اخبار سے اِس میں کوئی منافات نہیں، کیونکہ قرعہ بھی قرآن و سنت کے احکام میں سے ہے۔ ۲۔ مراد کلی احکام ہوں جن کا کتاب و سنت سے استنباط ائمہ علیہم السلام پر مشکل ہے؛ پس ائمہ علیہم السلام اُسے کتاب و سنت سے قرعہ کی قید کے ساتھ استنباط کرتے تھے، اور یہ ائمہ معصومین علیہم السلام کا طریقہ تھا؛ کیونکہ امام کا قرعہ ڈالنا ہرگز غلط نہیں جاتا۔ پہلا احتمال قواعد اور دیگر اخبار سے زیادہ سازگار ہے، اگرچہ آخری احتمال زیادہ واضح ہے۔

«21»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى عَنْ أَبِي يُوسُفَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْقَصِيرِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كَانَ عَلِيٌّ عليه السلام إِذَا سُئِلَ فِيمَا لَيْسَ فِي كِتَابٍ وَ لَا سُنَّةٍ رَجَمَ فَأَصَابَ وَ هِيَ الْمُعْضِلَاتُ ٢.

بصائر الدرجات: عبدالرحیم قصیر نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ میں نے آپ سے سنا، فرما رہے تھے: جب حضرت علی علیہ السلام پر کوئی ایسا مسئلہ پیش آتا جو کتاب و سنت میں نہ ہوتا تو آپ اللہ کے الہام سے حکم فرماتے۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: یہ مشکلات میں سے ہے۔

«22»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى عَنْ مُوسَى الْحَلَبِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: كَانَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام إِذَا وَرَدَ عَلَيْهِ مَا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَ لَا سُنَّةِ نَبِيِّهِ فَيَرْجُمُهُ فَيُصِيبُ ذَلِكَ وَ هِيَ الْمُعْضِلَاتُ.

بصائر الدرجات: موسیٰ حلبی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب حضرت علی علیہ السلام پر کوئی ایسا مسئلہ پیش آتا جو کتاب و سنت میں نہ ہوتا تو آپ اللہ کے الہام سے حکم فرماتے اور حق تک پہنچ جاتے؛ اور یہ مشکلات میں سے ہے۔

(١)1- لا يخفی أنّه احتمال فاسد لا يمكن اقامة دليل عليه قطعا. ط.پوشیدہ نہیں کہ یہ ایک نادرست احتمال ہے اور یقیناً اُس پر کوئی دلیل قائم نہیں کی جا سکتی۔ ط۔
(٢)2- الظاهر اتّحاد الحديث مع الحديث 19 و 20بظاہر یہ حدیث حدیث ۱۹ اور ۲۰ کے ساتھ متحد ہے۔