«13»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْأَهْوَازِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ أَسَرَّ اللَّهُ سِرَّهُ إِلَى جَبْرَئِيلَ عليه السلام وَ أَسَرَّهُ جَبْرَئِيلُ عليه السلام إِلَى مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله وَ أَسَرَّهُ مُحَمَّدٌ صلى اللّٰه عليه و آله إِلَى عَلِيٍّ عليه السلام وَ أَسَرَّهُ عَلِيٌّ عليه السلام إِلَى مَنْ شَاءَ وَاحِداً بَعْدَ وَاحِدٍ.
بصائر الدرجات: ابوبصیر کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے سنا، فرمایا: اللہ نے اپنا راز جبرئیل سے کہا، جبرئیل نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ سے، اور اُنہوں نے علی علیہ السلام سے، اور علی علیہ السلام نے جس سے چاہا، ایک کے بعد ایک۔
«14»- ير، بصائر الدرجات بُنَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَمَّرِ بْنِ خَلَّادٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ عليه السلام قَالَ: لَا يَقْدِرُ الْعَالِمُ أَنْ يُخْبِرَ بِمَا يَعْلَمُ فَإِنَّ سِرَّ اللَّهِ أَسَرَّهُ إِلَى جَبْرَئِيلَ عليه السلام وَ أَسَرَّهُ جَبْرَئِيلُ عليه السلام إِلَى مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله وَ أَسَرَّهُ مُحَمَّدٌ صلى اللّٰه عليه و آله إِلَى مَنْ شَاءَ اللَّهُ.
بصائر الدرجات: معمر بن خلّاد نے امام رضا علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: عالم اِس پر قادر نہیں کہ جو وہ جانتا ہے سب خبر دے، کیونکہ اللہ نے اپنا راز جبرئیل کے سپرد کیا اور اُنہوں نے وہ راز محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے سپرد کیا اور آپ نے وہ راز اُس کے سپرد کیا جسے اللہ نے چاہا۔
«15»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ مَعْرُوفٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ سَوْرَةَ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام بِأَيِّ شَيْ ءٍ يُفْتِي الْإِمَامُ قَالَ بِالْكِتَابِ قُلْتُ فَمَا لَمْ يَكُنْ فِي الْكِتَابِ قَالَ بِالسُّنَّةِ قُلْتُ فَمَا لَمْ يَكُنْ فِي الْكِتَابِ وَ السُّنَّةِ قَالَ لَيْسَ شَيْ ءٌ إِلَّا فِي الْكِتَابِ وَ السُّنَّةِ قَالَ فَكَرَّرْتُ مَرَّةً أَوِ اثْنَتَيْنِ قَالَ يُسَدَّدُ وَ يُوَفَّقُ فَأَمَّا مَا تَظُنُّ فَلَا.
بصائر الدرجات: سَورۃ بن کلیب کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: امام کس چیز سے فتویٰ دیتے ہیں؟ فرمایا: کتابِ خدا سے۔ میں نے عرض کیا: اگر کتابِ خدا میں نہ ہو؟ فرمایا: سنت سے۔ میں نے عرض کیا: اگر کتاب و سنت میں نہ ہو؟ فرمایا: کوئی چیز ایسی نہیں جو کتاب و سنت میں نہ ہو۔ راوی کہتا ہے: میں نے اپنا سوال ایک دو بار دہرایا۔ فرمایا: امام اللہ کے الہام اور توفیق اور روح القدس کے القا اور اُس کی مدد سے فتویٰ دیتے ہیں، مگر وہ نہیں جو تم گمان کرتے ہو۔
«16»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ يَزِيدَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ خَيْثَمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قُلْتُ لَهُ يَكُونُ شَيْ ءٌ لَا يَكُونُ فِي الْكِتَابِ وَ السُّنَّةِ قَالَ لَا قَالَ قُلْتُ فَإِنْ جَاءَ شَيْ ءٌ قَالَ لَا حَتَّى أَعَدْتُ عَلَيْهِ مِرَاراً فَقَالَ لَا يَجِي ءُ ثُمَّ قَالَ بِإِصْبَعِهِ بِتَوْفِيقٍ وَ تَسْدِيدٍ لَيْسَ حَيْثُ تَذْهَبُ لَيْسَ حَيْثُ تَذْهَبُ.
بصائر الدرجات: خیثم امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: کیا کوئی ایسی چیز ہے جو کتاب و سنت میں نہ ہو؟ فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آئے جو کتاب و سنت میں نہ ہو تو؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ یہاں تک کہ میں نے کئی بار اپنا سوال دہرایا۔ فرمایا: ایسا مسئلہ پیش نہ آئے گا۔
بيان: قوله عليه السلام بتوفيق و تسديد أي بإلهام من اللّٰه و إلقاء من روح القدس كما يأتي في كتاب الإمامة و ليس حيث تذهب من الاجتهاد و القول بالرأي ١
پھر آپ نے انگشتِ مبارک سے اشارہ کیا کہ یہ اللہ کے الہام اور روح القدس کے القا سے ہو گا۔ اور اجتہاد اور رائے سے نہیں جیسا تم سوچتے ہو۔
ير، بصائر الدرجات أحمد بن الحسين بن سعيد عن الميثمي ٢ عن ربعي مثله.
بصائر الدرجات: اِس حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔
«17»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: سَأَلَهُ سَوْرَةُ ٣ وَ أَنَا شَاهِدٌ فَقَالَ جُعِلْتُ فِدَاكَ بِمَا يُفْتِي الْإِمَامُ قَالَ بِالْكِتَابِ قَالَ فَمَا لَمْ يَكُنْ فِي الْكِتَابِ قَالَ بِالسُّنَّةِ قَالَ فَمَا لَمْ يَكُنْ فِي الْكِتَابِ وَ السُّنَّةِ
بصائر الدرجات: حمّاد بن عثمان نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ سَورۃ بن کلیب نے آپ سے ایک سوال کیا اور میں اُس مجلس میں حاضر تھا۔ عرض کیا: میں آپ پر فدا ہوں! امام کس چیز سے فتویٰ دیتے ہیں؟ فرمایا: کتابِ خدا سے۔ عرض کیا: اگر کتابِ خدا میں نہ ہو؟ فرمایا: سنت سے۔