Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 174

كِتَابِ اللَّهِ وَ سُنَّتِهِ أَوْ تَقُولُونَ بِرَأْيِكُمْ قَالَ بَلْ كُلُّ شَيْ ءٍ نَقُولُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَ سُنَّتِهِ.

کتاب و سنت میں ہے یا آپ کی رائے ہے؟ فرمایا: جو کچھ ہم کہتے ہیں وہ کتاب و سنت میں ہے۔

«9»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَعْقُوبَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُغِيرَةِ النَّضْرِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عِلْمُ عَالِمِكُمْ أَيُّ شَيْ ءٍ وَجْهُهُ قَالَ وِرَاثَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا يَحْتَاجُ النَّاسُ إِلَيْنَا وَ لَا نَحْتَاجُ إِلَيْهِمْ.

بصائر الدرجات: حارث بن مغیرہ نضری کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: آپ کے عالم کا علم کس راہ سے ہے؟ فرمایا: ہم نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ اور علی علیہ السلام سے وراثت میں پایا؛ لوگ ہمارے محتاج ہیں مگر ہم اُن کے محتاج نہیں۔

«10»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ عَنِ ابْنِ بَشِيرٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ عِلْمِ عَالِمِكُمْ قَالَ وِرَاثَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليهما السلام فَقُلْتُ إِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ يُقْذَفُ فِي قَلْبِهِ أَوْ يُنْكَتُ فِي أُذُنِهِ فَقَالَ أَوْ ذَاكَ ١.

بصائر الدرجات: حارث کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: اپنے عالم کے علم کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا: وہ ہمیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ اور علی علیہ السلام سے وراثت میں پہنچا۔ میں نے عرض کیا: ہم کہتے ہیں کہ امام کے دل یا کان میں ڈالا جاتا ہے؟ فرمایا: کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔

بيان: قوله عليه السلام أو ذاك أي قد يكون ذاك أيضا و سيأتي شرحه في كتاب الإمامة.

«أو ذاک» یعنی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔ اور عنقریب اِس مطلب کی شرح کتابِ امامت میں آئے گی۔

«11»- ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ عَمَّنْ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ أَبِي الْجَارُودِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله دَعَا عَلِيّاً عليه السلام فِي الْمَرَضِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ يَا عَلِيُّ ادْنُ مِنِّي حَتَّى أُسِرَّ إِلَيْكَ مَا أَسَرَّ اللَّهُ إِلَيَّ وَ أَئْتَمِنَكَ عَلَى مَا ائْتَمَنَنِيَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله بِعَلِیٍّ عليه السلام وَ فَعَلَهُ عَلِيٌّ عليه السلام بِالْحَسَنِ عليه السلام وَ فَعَلَهُ حَسَنٌ عليه السلام بِالْحُسَيْنِ عليه السلام وَ فَعَلَهُ الْحُسَيْنُ عليه السلام بِأَبِي عليه السلام وَ فَعَلَهُ أَبِي عليه السلام بِي صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ.

بصائر الدرجات: ابوجارود امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنے مرضِ وفات میں علی علیہ السلام کو بلایا اور فرمایا: میرے قریب آؤ تاکہ اللہ کے وہ راز جو اُس نے میرے سپرد کیے، تمہارے سپرد کروں، اور جو چیز اللہ نے مجھے امانت دی، وہ تمہیں امانت دوں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے وہ اسرار اور امانت علی علیہ السلام کے سپرد کی اور علی علیہ السلام نے حسن علیہ السلام کے سپرد کی اور حسن علیہ السلام نے حسین علیہ السلام کے سپرد کی اور حسین علیہ السلام نے میرے والد کے سپرد کی اور میرے والد نے میرے سپرد کی۔ اللہ کا درود اُن سب پر ہو۔

ير، بصائر الدرجات أحمد بن محمد عن ابن أبي عمير عن عبد الصمد مثله- ير، بصائر الدرجات أحمد بن موسى عن ابن يزيد عمن رواه عن عبد الصمد مثله.

بصائر الدرجات: اِس حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔ بصائر الدرجات: اِس حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔

«12»- ير، بصائر الدرجات عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُعَمَّرِ بْنِ خَلَّادٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا عليه السلام قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَسَرَّ اللَّهُ سِرَّهُ إِلَى جَبْرَئِيلَ عليه السلام وَ أَسَرَّ جَبْرَئِيلُ عليه السلام إِلَى مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله وَ أَسَرَّ مُحَمَّدٌ صلى اللّٰه عليه و آله إِلَى مَنْ شَاءَ اللَّهُ ٢.

بصائر الدرجات: معمر بن خلّاد کہتے ہیں: میں نے امام رضا علیہ السلام سے سنا، فرمایا: اللہ اپنا راز جبرئیل سے کہتا ہے اور وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے، اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ جس سے اللہ چاہے۔

٣

(١)1- ترديده عليه السلام إبهام منه لما سأله و ذلك أن السائل لما كان يزعم أن القذف في القلب غير هذا الذي ذكره عليه السلام و أن هذه الوراثة إنّما هي بالتحمل مثل رواية أحدنا عن مثله و لم يرق ذهنه إلی أزيد من ذلك صدق عليه السلام ما ذكره بطريق الإبهام، و حقيقة الامر أن الطريقان فيهم واحد كما يدلّ عليه الروايات الآتية ط.آپ علیہ السلام کا تکرار، سائل کے سوال کے بارے میں آپ کی طرف سے ایک ابہام ہے؛ کیونکہ سائل گمان کرتا تھا کہ دل میں ڈالنا اُس کے سوا کچھ ہے جو امام علیہ السلام نے فرمایا، اور یہ وراثت صرف سیکھنے سے ہے، جیسے ہم میں سے کسی کا اپنے جیسے سے روایت کرنا، اور اُس کا ذہن اِس سے زیادہ تک نہ پہنچا؛ پس امام علیہ السلام نے اُس کی بات کو ابہام کے طریقے سے تصدیق کیا۔ اور حقیقتِ امر یہ ہے کہ دونوں راہیں اُن میں ایک ہیں، جیسا کہ آنے والی روایات اُس پر دلالت کرتی ہیں۔ ط۔
(٢)2- لعله قطعة من الحديث 14شاید حدیث ۱۴ کا ایک ٹکڑا ہو۔
(٣)3- لعله قطعة من الحديث 14شاید حدیث ۱۴ کا ایک ٹکڑا ہو۔