«4»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ الثُّمَالِيِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام يَا جَابِرُ وَ اللَّهِ لَوْ كُنَّا نُحَدِّثُ النَّاسَ أَوْ حَدَّثْنَاهُمْ بِرَأْيِنَا لَكُنَّا مِنَ الْهَالِكِينَ وَ لَكِنَّا نُحَدِّثُهُمْ بِآثَارٍ عِنْدَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله يَتَوَارَثُهَا كَابِرٌ عَنْ كَابِرٍ نَكْنِزُهَا كَمَا يَكْنِزُ هَؤُلَاءِ ذَهَبَهُمْ وَ فِضَّتَهُمْ ١
بصائر الدرجات: ابوحمزہ ثمالی نے جابر سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: اے جابر! اگر وہ حدیث جو ہم تم سے کہتے ہیں اپنی رائے اور خواہشِ نفس سے ہو تو ہم ہلاک ہو جائیں؛ لیکن ہم تمہیں پیغمبر کی وہ احادیث بیان کرتے ہیں جو ہم نے اپنے بزرگوار آباء و اجداد سے عزت و شرافت کے ساتھ وراثت میں پائیں اور جن کی ہم خزانے کی طرح حفاظت کرتے ہیں ـ جس طرح لوگ اپنا سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں۔
«5»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ وَ اللَّهِ لَوْ لَا أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ وَلَايَتَنَا وَ مَوَدَّتَنَا وَ قَرَابَتَنَا مَا أَدْخَلْنَاكُمْ بُيُوتَنَا وَ لَا أَوْقَفْنَاكُمْ عَلَى أَبْوَابِنَا وَ اللَّهِ مَا نَقُولُ بِأَهْوَائِنَا وَ لَا نَقُولُ بِرَأْيِنَا وَ لَا نَقُولُ إِلَّا مَا قَالَ رَبُّنَا.
بصائر الدرجات: محمد بن شریح کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: اللہ کی قسم، اگر اللہ نے ہماری ولایت و سرپرستی، مودت و دوستی اور رعایتِ قرابت واجب نہ کی ہوتی تو ہم تمہیں گھر کے دروازے پر اور اپنے مکان میں [منتظر] نہ رکھتے۔ اللہ کی قسم، ہم خواہشِ نفس اور ذاتی رائے سے کچھ نہیں کہتے اور اللہ کی طرف سے کے سوا کچھ نہیں کہتے۔
جا، المجالس للمفيد عمر بن محمد الصيرفي عن محمد بن همام الإسكافي عن أحمد بن إدريس عن أحمد بن محمد عن علي بن النعمان مثله- ير، بصائر الدرجات محمد بن هارون عن أبي الحسن موسى عن موسى بن القاسم عن علي بن النعمان عن محمد بن شريح عنه عليه السلام مثله:
مجالسِ مفید: اُس حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔ بصائر الدرجات: اُس حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔
ير، بصائر الدرجات مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَيْحٍ مِثْلَهُ وَ زَادَ فِي آخِرِهِ أُصُولٌ عِنْدَنَا نَكْنِزُهَا كَمَا يَكْنِزُ هَؤُلَاءِ ذَهَبَهُمْ وَ فِضَّتَهُمْ
بصائر الدرجات: اُس حدیث کی مانند روایت ہوا ہے مگر اُس کے آخر میں اضافہ ہے: اصول ہمارے پاس ہیں، سونے چاندی کے اُس خزانے کی مانند جس کی لوگ حفاظت کرتے ہیں، ہم اُس کی نگہبانی کرتے ہیں۔
«6»- ير، بصائر الدرجات إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ يُونُسَ عَنْ عَنْبَسَةَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَنْ مَسْأَلَةٍ فَأَجَابَهُ فِيهَا فَقَالَ الرَّجُلُ إِنْ كَانَ كَذَا وَ كَذَا مَا كَانَ الْقَوْلُ فِيهَا فَقَالَ لَهُ مَهْمَا أَجَبْتُكَ فِيهِ بِشَيْ ءٍ فَهُوَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله لَسْنَا نَقُولُ بِرَأْيِنَا مِنْ شَيْ ءٍ ٢.
بصائر الدرجات: عنبسہ کہتے ہیں: ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے ایک مسئلہ پوچھا، امام نے جواب دیا۔ اُس شخص نے کہا: اگر صورتِ مسئلہ یوں یوں ہو تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: جب بھی میں تمہیں کوئی جواب دوں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی طرف سے ہے اور ہم ذاتی رائے سے کچھ نہیں کہتے۔
«7»- ختص، الإختصاص ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْأَهْوَازِيِّ عَنْ فَضَالَةَ عَنْ جَمِيلٍ عَنِ الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: إِنَّا عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّنَا بَيَّنَهَا لِنَبِيِّهِ صلى اللّٰه عليه و آله فَبَيَّنَهَا نَبِيُّهُ لَنَا فَلَوْ لَا ذَلِكَ كُنَّا كَهَؤُلَاءِ النَّاسِ.
الاختصاص اور بصائر الدرجات: فضیل کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشن حجت اور دلیل ہے جو اُس نے اپنے رسول کے لیے بیان کی اور پیغمبر نے بھی ہم پر بیان فرمائی؛ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم اِن لوگوں سے مختلف نہ ہوتے۔
«8»- ختص، الإختصاص ير، بصائر الدرجات ابْنُ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيِّ عَنِ ابْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَمِيرَةَ عَنْ أَبِي الْمِعْزَی عَنْ سَمَاعَةَ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ عليه السلام قَالَ: قُلْتُ لَهُ كُلُّ شَيْ ءٍ تَقُولُ بِهِ فِي
الاختصاص، بصائر الدرجات: سماعہ کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن علیہ السلام سے پوچھا: جو آپ فرماتے ہیں وہ