فِي السُّنَّةِ قَالَ وَ كَانَ عَلِيٌّ عليه السلام يَقُولُ لَوِ اخْتَصَمَ إِلَيَّ رَجُلَانِ فَقَضَيْتُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ مَكَثَا أَحْوَالًا كَثِيرَةً ثُمَّ أَتَيَانِي فِي ذَلِكَ الْأَمْرِ لَقَضَيْتُ بَيْنَهُمَا قَضَاءً وَاحِداً لِأَنَّ الْقَضَاءَ لَا يَحُولُ وَ لَا يَزُولُ أَبَداً.
اور آپ ہمیشہ فرماتے تھے: اگر دو آدمی میرے پاس فیصلے کے لیے آئیں اور میں اُن کے درمیان فیصلہ کروں، پھر برسوں گزر جائیں اور وہ دوبارہ اُسی سابقہ موضوع کے ساتھ میرے پاس آئیں، تو میں وہی حکم کروں گا جو ماضی میں کیا؛ کیونکہ قضاوت بدلتی نہیں۔
باب 23 أنهم عليهم السلام عندهم مواد العلم و أصوله و لا يقولون شيئا برأي و لا قياس بل ورثوا جميع العلوم عن النبي صلى اللّٰه عليه و آله و أنهم أمناء اللّٰه على أسراره
باب تئیسواں: علم کے مواد اور اصول اماموں کے پاس ہیں۔ وہ کوئی بات رائے اور قیاس سے نہیں کہتے بلکہ پیغمبر کے تمام علوم کے وارث ہیں اور وہ اللہ کے اسرار کے امین ہیں
الآيات؛
آیات
النجم: «وَ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحى»(3 ، 4)
{اور وہ خواہش سے بات نہیں کرتا۔ یہ بات اُس وحی کے سوا کچھ نہیں جو اُس پر کی جاتی ہے۔}
«1»- ختص، الإختصاص ير، بصائر الدرجات حَمْزَةُ بْنُ يَعْلَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: يَا جَابِرُ إِنَّا لَوْ كُنَّا نُحَدِّثُكُمْ بِرَأْيِنَا وَ هَوَانَا لَكُنَّا مِنَ الْهَالِكِينَ وَ لَكِنَّا نُحَدِّثُكُمْ بِأَحَادِيثَ نَكْنِزُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله كَمَا يَكْنِزُ هَؤُلَاءِ ذَهَبَهُمْ وَ فِضَّتَهُمْ ١.
الاختصاص، بصائر الدرجات: جابر کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: اے جابر! اگر وہ حدیث جو ہم تم سے کہتے ہیں اپنی رائے اور خواہشِ نفس سے ہو تو ہم ہلاک ہو جائیں؛ لیکن ہم تمہیں پیغمبر کی وہ احادیث بیان کرتے ہیں جن کی ہم خزانے کی طرح حفاظت کرتے ہیں، جس طرح لوگ اپنا سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں۔
«2»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ أُذَيْنَةَ عَنِ الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: لَوْ أَنَّا حَدَّثْنَا بِرَأْيِنَا ضَلَلْنَا كَمَا ضَلَّ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا وَ لَكِنَّا حَدَّثْنَا بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّنَا بَيَّنَهَا لِنَبِيِّهِ صلى اللّٰه عليه و آله فَبَيَّنَهُ لَنَا.
بصائر الدرجات: فضیل کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: اگر میں اپنی رائے سے حدیث کہوں تو ہم اپنے سے پہلوں کی طرح گمراہ ہو جائیں؛ لیکن جو حدیث ہم کہتے ہیں، اُس کی دلیل اللہ کی طرف سے ہے جس نے اپنے پیغمبر کو دی اور پیغمبر نے بھی ہمارے لیے بیان فرمائی۔
«3»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْأَهْوَازِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام يَا جَابِرُ لَوْ كُنَّا نُفْتِي النَّاسَ بِرَأْيِنَا وَ هَوَانَا لَكُنَّا مِنَ الْهَالِكِينَ وَ لَكِنَّا نُفْتِيهِمْ بِآثَارٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ أُصُولِ عِلْمٍ عِنْدَنَا نَتَوَارَثُهَا كَابِراً عَنْ كَابِرٍ نَكْنِزُهَا كَمَا يَكْنِزُ هَؤُلَاءِ ذَهَبَهُمْ وَ فِضَّتَهُمْ.
بصائر الدرجات: جابر کہتے ہیں: اگر ہم اپنی رائے اور خواہش کے مطابق فتویٰ دیں تو یقیناً ہلاک ہوں گے؛ لیکن ہم لوگوں کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کے آثار سے اور اُن اصولوں سے فتویٰ دیتے ہیں جو ہمارے پاس ہیں، جو ہم نے اپنے آباء و اجداد سے عزت و شرافت کے ساتھ وراثت میں پائے اور ذخیرہ کیے، جس طرح لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں۔
بيان: قال الجزري في حديث الأقرع و الأبرص ورثته كابرا عن كابر أي ورثته عن آبائي و أجدادي كبيرا عن كبير في العز و الشرف- ير، بصائر الدرجات عبد اللّٰه بن عامر عن الحجال عن داود بن أبي يزيد عن أبي عبد اللّٰه عليه السلام مثله.
بصائر الدرجات: اوپر والی حدیث کی مانند نقل ہوا ہے۔