مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ شَيْ ءٌ إِلَّا وَ لَهُ حَدٌّ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام نَعَمْ أَنَا أَقُولُ إِنَّهُ لَيْسَ شَيْ ءٌ مِمَّا خَلَقَ اللَّهُ صَغِيراً وَ كَبِيراً إِلَّا وَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ حَدّاً إِذَا جُوِّزَ بِهِ ذَلِكَ الْحَدُّ فَقَدْ تُعُدِّىَ حَدُّ اللَّهِ فِيهِ فَقَالَ فَمَا حَدُّ مَائِدَتِكَ هَذِهِ قَالَ تَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ حِينَ تُوضَعُ وَ تَحْمَدُ اللَّهَ حِينَ تُرْفَعُ وَ تَقُمُّ مَا تَحْتَهَا قَالَ فَمَا حَدُّ كُوزِكَ هَذَا قَالَ لَا تَشْرَبْ مِنْ مَوْضِعِ أُذُنِهِ وَ لَا مِنْ مَوْضِعِ كَسْرِهِ فَإِنَّهُ مَقْعَدُ الشَّيْطَانِ وَ إِذَا وَضَعْتَهُ عَلَى فِيكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَ إِذَا رَفَعْتَهُ عَنْ فِيكَ فَاحْمَدِ اللَّهَ وَ تَنَفَّسْ فِيهِ ثَلَاثَةَ أَنْفَاسٍ فَإِنَّ النَّفَسَ الْوَاحِدَ يُكْرَهُ.
کیا تم وہی ہو جو گمان کرتے ہو کہ ہر چیز کی ایک حد ہے؟ فرمایا: ہاں، میں وہی ہوں جو کہتا ہوں کہ ہر چھوٹی بڑی چیز جو اللہ نے پیدا کی، اُس کی ایک حد ہے؛ اور اگر اُس سے تجاوز کیا جائے تو اللہ کی حد سے تجاوز ہوا۔ میں نے عرض کیا: آپ کے دسترخوان کی حد کیا ہے؟ فرمایا: جب تم دسترخوان بچھاؤ تو «بسم اللہ» کہو اور جب اٹھاؤ تو اللہ کی حمد و ثنا کرو۔ میں نے عرض کیا: آپ کے آب خورے کی حد کیا ہے؟ فرمایا: اُس کے کنارے اور ٹوٹی ہوئی جگہ سے پانی نہ پیو کہ وہ شیطان کی جگہ ہے۔ جب پانی پیو تو اللہ کا نام زبان پر لاؤ، جب اُسے منہ سے ہٹاؤ تو اللہ کی حمد کرو، اور تین سانسوں میں پانی پیو، کیونکہ ایک سانس میں پینا مکروہ ہے۔
«11»- سن، المحاسن مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ ابْنِ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله فِي خُطْبَتِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ مَا مِنْ شَيْ ءٍ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ وَ يُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا وَ قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ وَ أَمَرْتُكُمْ بِهِ.
المحاسن: ابوحمزہ امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا: اے لوگو! اللہ سے ڈرو! کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہیں جنت کے قریب اور جہنم سے دُور کرے، مگر میں نے اُس کا حکم دیا یا اُس سے منع کیا۔
«12»- سن، المحاسن صَالِحُ بْنُ السِّنْدِيِّ عَنِ ابْنِ بَشِيرٍ عَنْ صَبَّاحٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُغِيرِيَّةِ عَنْ شَيْ ءٍ مِنَ السُّنَنِ فَقَالَ مَا مِنْ شَيْ ءٍ يَحْتَاجُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْ وُلْدِ آدَمَ إِلَّا وَ قَدْ جَرَتْ فِيهِ مِنَ اللَّهِ وَ مِنْ رَسُولِهِ سُنَّةٌ عَرَفَهَا مَنْ عَرَفَهَا وَ أَنْكَرَهَا مَنْ أَنْكَرَهَا قَالَ الرَّجُلُ فَمَا السُّنَّةُ فِي دُخُولِ الْخَلَاءِ قَالَ تَذْكُرُ اللَّهَ وَ تَتَعَوَّذُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا فَرَغْتَ قُلْتَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى مَا أَخْرَجَ عَنِّي مِنَ الْأَذَى فِي يُسْرٍ مِنْهُ وَ عَافِيَةٍ فَقَالَ الرَّجُلُ فَالْإِنْسَانُ يَكُونُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَلَا يَصْبِرُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ فِي الْأَرْضِ آدَمِيٌّ إِلَّا وَ مَعَهُ مَلَكَانِ مُوَكَّلَانِ بِهِ فَإِذَا كَانَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ثَنَيَا رَقَبَتَهُ ١ ثُمَّ قَالا ابْنَ آدَمَ انْظُرْ إِلَى مَا كُنْتَ تَكْدَحُ ٢ لَهُ فِي الدُّنْيَا إِلَى مَا هُوَ صَائِرٌ٣.
المحاسن: ابواسامہ کہتے ہیں: میں امام صادق علیہ السلام کے پاس تھا۔ مغیریہ گروہ کا ایک شخص آدابِ اسلام میں سے کچھ پوچھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: انسانوں کی تمام حاجتوں کے بارے میں اللہ اور اُس کے رسول کی سنت جاری ہے؛ جو اُسے پہچانتا ہے پہچانتا ہے اور جو اُسے نہیں پہچانتا، انکار کرتا ہے۔ اُس شخص نے پوچھا: بیت الخلا جانے کے بارے میں سنت کیا ہے؟ فرمایا: اللہ کو یاد کرو اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو۔ جب فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی حمد و ثنا کرو اور کہو: شکر ہے اُس اللہ کا جس نے یہ آزار مجھ سے آسانی اور سلامتی کے ساتھ باہر نکالا۔ اُس شخص نے کہا: اُس حالت میں کسی کو اتنا صبر نہیں کہ جو اُس سے نکلا اُسے دیکھے۔ فرمایا: ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہیں جو انسان کے قضائے حاجت کے وقت اُس کی گردن جھکاتے ہیں اور اُس سے کہتے ہیں: اے فرزندِ آدم! دیکھ اُس چیز کو جس کے لیے تو نے دنیا میں کوشش کی کہ کیا ہو گئی۔
«13»- جا، المجالس للمفيد الْجِعَابِيُّ عَنِ ابْنِ عُقْدَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُمْدُونٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ظَرِيفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ مَا رَأَيْتُ عَلِيّاً عليه السلام قَضَى قَضَاءً إِلَّا وَجَدْتُ لَهُ أَصْلًا
مجالسِ مفید: حسن بن ظریف کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: علی علیہ السلام جو بھی قضاوت اور حکم کرتے، اُس کی جڑ اور دلیل درست ہوتی