Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 17

فِي الْقُرْآنِ الَّذِي يُؤَلِّفُهُ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله أَوِ الْإِمَامُ فَإِذَا دَعَا بِهِ أُجِيبَ ذلِكَ الْكِتابُ لا رَيْبَ فِيهِ هُدىً لِلْمُتَّقِينَ قَالَ بَيَانٌ لِشِيعَتِنَا الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ مِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ قَالَ مِمَّا عَلَّمْنَاهُمْ يَبُثُّونَ وَ مِمَّا عَلَّمْنَاهُمْ مِنَ الْقُرْآنِ يَتْلُونَ.

{یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں؛ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے}، فرمایا: یعنی ہمارے پیروکاروں کے لیے روشن بیان ہے؛ «الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیمُونَ الصَّلاةَ وَ مِمَّا رَزَقْناهُمْ یُنْفِقُونَ»، {جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے اُنہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں}، وہ اُس سے آگاہی پاتے ہیں جو ہم اُنہیں سکھاتے ہیں، اور قرآن کا وہی حصہ جو ہم نے اُنہیں سکھایا خود پڑھتے ہیں اور دوسروں کو سکھاتے ہیں۔

«39»- ل، الخصال فِي الْأَرْبَعِمِائَةِ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام عَلِّمُوا صِبْيَانَكُمْ مَا يَنْفَعُهُمُ اللَّهُ بِهِ لَا يَغْلِبُ عَلَيْهِمُ الْمُرْجِئَةُ بِرَأْيِهَا.

الخصال: اپنے بچوں کو وہ چیز سکھاؤ جس سے اللہ اُنہیں نفع دے، کہیں ایسا نہ ہو کہ مرجئہ اپنے عقائد اُن پر مسلط کر دیں۔

«40»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجْرَانَ وَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّ مُعَلِّمَ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ دَوَابُّ الْأَرْضِ وَ حِيتَانُ الْبَحْرِ وَ كُلُّ ذِي رُوحٍ فِي الْهَوَاءِ وَ جَمِيعُ أَهْلِ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ وَ إِنَّ الْعَالِمَ وَ الْمُتَعَلِّمَ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَفَرَسَيْ رِهَانٍ يَزْدَحِمَانِ.

بصائر الدرجات: جابر نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: معلّمِ خیر کے لیے زمین کے چوپائے، سمندر کی مچھلیاں، ہوا کے تمام جاندار، اور آسمان و زمین کے سب لوگ استغفار کرتے ہیں۔ بے شک عالم اور طالبِ علم قیامت کے دن اجر میں برابر ہیں، اور دو مقابلے کے گھوڑوں کی طرح ایک دوسرے سے سبقت لیتے ہیں۔

بيان: أي كفرسي رهان يتسابق عليهما يزحم كل منهما صاحبه أي يجي ء بجنبه و يضيق عليه.

یعنی دو مقابلے کے گھوڑوں کی طرح ایک دوسرے سے سبقت لیتے ہیں اور ہر ایک دوسرے کے لیے مزاحم ہوتا ہے، یعنی اُس کے پہلو میں آ جاتا ہے اور اُس پر تنگی کرتا ہے۔

«41»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ هَاشِمٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَيْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: مُعَلِّمُ الْخَيْرِ تَسْتَغْفِرُ لَهُ دَوَابُّ الْأَرْضِ وَ حِيتَانُ الْبَحْرِ وَ كُلُّ صَغِيرَةٍ وَ كَبِيرَةٍ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَ سَمَائِهِ.

بصائر الدرجات: جابر کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: زمین کے چوپائے، سمندر کی مچھلیاں، اور اللہ کی زمین و آسمان کا ہر چھوٹا بڑا معلّمِ خیر کے لیے استغفار کرتے ہیں۔

ثو، ثواب الأعمال أبی عن سعد عن ابن عيسى و ابن هاشم عن الحسين بن سيف مثله.

ثواب الأعمال: حسین بن سیف نے اِسی کی مانند روایت کی ہے۔

«42»- ير، بصائر الدرجات عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنِ ابْنِ أَسْبَاطٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام الْمُؤْمِنُ الْعَالِمُ أَعْظَمُ أَجْراً مِنَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ إِذَا مَاتَ ثُلِمَ فِي الْإِسْلَامِ ثُلْمَةٌ لَا يَسُدُّهَا شَيْ ءٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

بصائر الدرجات: ابن اسباط نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ امیر المؤمنین نے فرمایا: عالم مؤمن کا اجر روزہ دار، نمازگزار اور راہِ خدا میں جہاد کرنے والے سے بڑا ہے؛ اور جب عالم مؤمن مر جائے تو اسلام میں ایسا رخنہ پیدا ہوتا ہے جسے قیامت تک کوئی چیز پُر نہیں کرتی۔

بيان: الثلمة بالضم فرجة المكسور و المهدوم.

«الثُّلمہ» ٹوٹی اور منہدم چیز کے شگاف کو کہتے ہیں۔

«43»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ مَنْ عَلَّمَ خَيْراً فَلَهُ بِمِثْلِ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهِ قُلْتُ فَإِنْ عَلَّمَهُ غَيْرَهُ يَجْرِي ذَلِكَ لَهُ قَالَ إِنْ عَلَّمَهُ النَّاسَ كُلَّهُمْ جَرَى لَهُ قُلْتُ فَإِنْ مَاتَ قَالَ وَ إِنْ مَاتَ.

بصائر الدرجات: ابوحمزہ نے ابوبصیر سے روایت کی کہ میں نے امام صادق علیہ السلام کو فرماتے سنا: جس نے کوئی بھلائی سیکھی، اُس کا اجر اُس شخص کے اجر جیسا ہے جو اُس پر عمل کرے۔ میں نے عرض کیا: اگر وہ کسی اور کو سکھائے تو اِتنا ہی ثواب پاتا ہے؟ فرمایا: اگر وہ تمام لوگوں کو سکھائے تو ایسا ہی ثواب پاتا ہے۔ میں نے کہا: اور اگر وہ مر جائے؟ فرمایا: اگرچہ مر جائے!

ير، بصائر الدرجات أحمد عن محمد البرقي عن ابن أبي عمير عن علي بن يقطين عن أبي بصير عن أبي عبد اللّٰه عليه السلام مثله

بصائر الدرجات: ابوبصیر نے امام صادق علیہ السلام سے اِسی کی مانند روایت کی ہے۔