Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 16

«33»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي الْمُفِيدُ عَنِ ابْنِ قُولَوَيْهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى عَنْ سَمَاعَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغَيْرِ نَفْسٍ ... فَكَأَنَّما قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعاً وَ مَنْ أَحْياها فَكَأَنَّما أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعاً قَالَ مَنْ أَخْرَجَهَا مِنْ ضَلَالٍ إِلَى هُدًى فَقَدْ أَحْيَاهَا وَ مَنْ أَخْرَجَهَا مِنْ هُدًى إِلَى ضَلَالٍ فَقَدْ وَ اللَّهِ أَمَاتَهَا.

امالیِ شیخ طوسی: سماعہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: اللہ نے آیت «مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغَیْرِ نَفْسٍ فَکَأَنَّما قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعاً وَ مَنْ أَحْیاها فَکَأَنَّما أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعاً»، {جس نے کسی جان کو قتل کیا، بغیر اِس کے کہ وہ کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد کی سزا ہو، گویا اُس نے تمام لوگوں کو قتل کیا} نازل فرمائی — اِس کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: جو کسی شخص کو گمراہی سے ہدایت کی طرف نکالے، اُس نے یقیناً اُس جان کو زندہ کیا؛ اور جو کسی جان کو ہدایت سے گمراہی کی طرف لے جائے، اللہ کی قسم، اُس نے اُسے مار ڈالا۔

«34»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي بِإِسْنَادِ أَخِي دِعْبِلٍ عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَالَ: فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى إِبْلِيسَ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ.

امالیِ شیخ طوسی: دعبل کے بھائی نے امام رضا علیہ السلام سے، اُنہوں نے اپنے آباء سے، اُنہوں نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ایک فقیہ ابلیس پر ہزار عابدوں سے زیادہ گراں ہے۔

«35»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي بِإِسْنَادِ الْمُجَاشِعِيِّ عَنِ الصَّادِقِ عَنْ آبَائِهِ عَنْ عَلِيٍّ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وُزِنَ مِدَادُ الْعُلَمَاءِ بِدِمَاءِ الشُّهَدَاءِ فَيَرْجَحُ مِدَادُ الْعُلَمَاءِ عَلَى دِمَاءِ الشُّهَدَاءِ.

امالیِ شیخ طوسی: مجاشعی کی سند سے امام صادق علیہ السلام سے، اُنہوں نے اپنے آباء سے، اُنہوں نے علی علیہ السلام سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: قیامت کے دن علماء کی سیاہی شہداء کے خون کے ساتھ تولی جائے گی، اور علماء کی سیاہی شہداء کے خون پر بھاری رہے گی۔

«36»- ع، علل الشرائع الْعَطَّارُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنْ يُونُسَ عَمَّنْ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ الْعَالِمَ وَ الْعَابِدَ فَإِذَا وَقَفَا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ قِيلَ لِلْعَابِدِ انْطَلِقْ إِلَى الْجَنَّةِ وَ قِيلَ لِلْعَالِمِ قِفْ تَشْفَعْ لِلنَّاسِ بِحُسْنِ تَأْدِيبِكَ لَهُمْ.

علل الشرائع: احمد بن محمد نے اپنے والد سے، اُنہوں نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، اُنہوں نے یونس بن عبدالرحمن سے، اُنہوں نے ایک ایسے شخص سے جس کا نام لیا، اُنہوں نے حضرت ابی عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ عزّوجل عالم اور عابد کو اٹھائے گا اور دونوں حق کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ عابد سے کہا جائے گا: جنت میں جاؤ۔ اور عالم کو حکم دیا جائے گا: جنت میں جاؤ۔ اور عالم کو حکم دیا جائے گا: ٹھہرو، اور اُس حسنِ تادیب و تربیت کے سبب جو تم نے لوگوں کی کی، اُن کی شفاعت کرو۔

ير، بصائر الدرجات اليقطيني عن يونس عمن رواه مثله.

بصائر الدرجات: یقطینی نے یونس سے، اُنہوں نے ایک راوی سے اِسی کی مانند روایت کی ہے۔

«37»- ع، علل الشرائع أَبُو الْحَسَنِ طَاهِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ الْفَقِيهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْهَرَوِيِّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمِيدَةَ الرَّازِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ١ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَجْمَعُ الْعُلَمَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ يَقُولُ لَهُمْ لَمْ أَضَعْ نُورِي وَ حِكْمَتِي فِي صُدُورِكُمْ إِلَّا وَ أَنَا أُرِيدُ بِكُمْ خَيْرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ اذْهَبُوا فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْكُمْ.

علل الشرائع: ابوالحسن طاہر بن یونس فقیہ نے محمد بن عثمان ہروی سے، اُنہوں نے ابوحامد احمد بن تمیم سے، اُنہوں نے محمد بن عبیدہ سے، اُنہوں نے محمد بن حمیدہ رازی سے، اُنہوں نے محمد بن عیسیٰ سے، اُنہوں نے عبداللہ بن زید سے، اُنہوں نے ابو الدرداء سے نقل کیا کہ اُنہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کو فرماتے سنا: اللہ عزّوجل قیامت کے دن علماء کو جمع کرے گا اور اُن سے فرمائے گا: میں نے اپنا نور اور اپنی حکمت تمہارے سینوں میں نہ رکھی مگر اِس لیے کہ اِس سے دنیا و آخرت کی بھلائی کا ارادہ کیا۔ جاؤ، میں نے تم سب کو بخش دیا۔

«38»- مع، معاني الأخبار الْهَمْدَانِيُّ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ عِمْرَانَ عَنْ يُونُسَ عَنْ سَعْدَانَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: الم هُوَ حَرْفٌ مِنْ حُرُوفِ اسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ الْمُقَطَّعِ

معانی الاخبار: ابوبصیر کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: «الم» اللہ کے اسمِ اعظم کے بعض حروف میں سے ایک حرف ہے، جس کا ہر جزو قرآنِ مجید میں کسی نہ کسی جگہ آیا ہے؛ اور پیغمبر اور امامِ معصوم، جو اُن کی جگہوں سے واقف ہیں، جب چاہیں کہ اللہ کو اُس کے اسمِ اعظم سے پکاریں تو اُن مقطّع حروف کو باہم ملا کر دعا کرتے ہیں، اور اللہ قبول فرماتا ہے۔ «ذلِکَ الْکِتابُ لا رَیْبَ فِیهِ هُدیً لِلْمُتَّقِینَ»،

(١)1- هو عويمر- بضم العين المهملة و فتح الواو و سكون الياء و كسر الميم- ابن عامر بن زيد أبو الدرداء الخزرجي الأنصاريّ المدنيّ، عده الشيخ من أصحاب رسول اللّٰه صلّى اللّٰه عليه و آله و مات قبل قتل عثمان بسنة بدمشق، و كأنّها سنة أربع و ثلاثين علی ما قاله البخاري «تنقيح المقال ج 3552».وہ عویمر ہیں ـ عینِ بے نقطہ کے ضمہ، واو کے فتحہ، یاء کے سکون اور میم کے کسرہ کے ساتھ ـ بن عامر بن زید، ابو الدرداء خزرجی انصاری مدنی۔ شیخ نے اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ وہ عثمان کے قتل سے ایک سال پہلے دمشق میں وفات پا گئے، اور بخاری کے قول کے مطابق بظاہر سنہ چونتیس میں۔ «تنقیح المقال، ج ۳، ص ۵۵۲»