Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 15

«27»- لي، الأمالي للصدوق عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ عَنِ الْأَسَدِيِّ عَنْ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْحَسَنِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْهَادِي عَنْ آبَائِهِ عَنْ عَلِيٍّ عليه السلام قَالَ: لَمَّا كَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عليهما السلام قَالَ مُوسَى إِلَهِي مَا جَزَاءُ مَنْ دَعَا نَفْساً كَافِرَةً إِلَى الْإِسْلَامِ قَالَ يَا مُوسَى آذَنُ لَهُ فِي الشَّفَاعَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِمَنْ يُرِيدُ.

امالیِ صدوق: عبدالعظیم حسنی نے امام ہادی علیہ السلام سے، اُنہوں نے اپنے آباء سے، اُنہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی کہ جب اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا تو موسیٰ نے عرض کیا: اے میرے معبود! اُس شخص کا اجر کیا ہے جو کسی کافر کو اسلام کی دعوت دے؟ اللہ نے فرمایا: اے موسیٰ! قیامت کے دن میں اُسے اجازت دوں گا کہ جس کے لیے چاہے شفاعت کرے۔

أقول: سيجی ء الخبر بتمامه.

مؤلف: پوری حدیث آگے آئے گی۔

«28»- فس، تفسير القمي حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى عَنْ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْحَسَنِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ رُشَيْدٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لِلَّذِينَ مَنَنَّا عَلَيْهِمْ بِمَعْرِفَتِنَا أَنْ يُعَرِّفُوا الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ فَإِذَا عَرَّفُوهُمْ فَقَدْ غَفَرُوا لَهُمْ.

تفسیر القمی: عبدالعظیم نے اپنی سند سے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے آیت «قُلْ لِلَّذِینَ آمَنُوا یَغْفِرُوا لِلَّذِینَ لا یَرْجُونَ أَیَّامَ اللَّهِ»، {ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اُن لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے} کی تفسیر میں فرمایا: یعنی جن پر ہم نے اپنی معرفت کا احسان کیا ہے، وہ اُنہیں بتائیں جو نہیں جانتے؛ اور جب اُنہیں بتا دیا تو یقیناً اُن کی مغفرت ہو گئی۔

«29»- ب، قرب الإسناد هَارُونُ عَنِ ابْنِ صَدَقَةَ عَنِ الصَّادِقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ آبَائِهِ عليهم السلام أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: ثَلَاثَةٌ يَشْفَعُونَ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُشَفِّعُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْعُلَمَاءُ ثُمَّ الشُّهَدَاءُ.

قرب الاسناد: ابن صدقہ نے امام صادق علیہ السلام سے، اُنہوں نے اپنے آباء سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے حضور شفاعت کرنے والے جن کی شفاعت قبول ہوتی ہے، تین ہیں: ۱۔ انبیاء ۲۔ علماء ۳۔ شہداء۔

بيان: فيشفعهم على صيغة التفعيل أي يقبل شفاعتهم.

«فیشفعہم» بابِ تفعیل کے فعلِ مضارع کا صیغہ ہے، یعنی اللہ اُن کی شفاعت قبول کرتا ہے۔

«30»- ل، الخصال أَبِی عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَرَّارٍ عَنْ يُونُسَ يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: كَانَ فِيمَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله عَلِيّاً يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ مِنْ حَقَائِقِ الْإِيمَانِ الْإِنْفَاقُ مِنَ الْإِقْتَارِ وَ إِنْصَافُ النَّاسِ مِنْ نَفْسِكَ وَ بَذْلُ الْعِلْمِ لِلْمُتَعَلِّمِ.

الخصال: اے علی! تین کام حقیقتِ ایمان میں سے ہیں: تنگ دستی میں بخشش، اپنے خلاف لوگوں کو اُن کا حق دینا، اور شاگرد کو علم سکھانا۔

بيان: الإقتار التضيق في المعاش.

بیان: «الاقتار» معاش و زندگی میں تنگ دستی کو کہتے ہیں۔

«31»- ل، الخصال ابْنُ مَسْرُورٍ عَنِ ابْنِ عَامِرٍ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ ابْنِ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ لِمُنَافِقٍ وَ لَا فَاسِقٍ حُسْنَ السَّمْتِ وَ الْفِقْهَ وَ حُسْنَ الْخُلُقِ أَبَداً.

الخصال: تین خصلتیں اللہ عزّوجل منافق اور فاسق میں جمع نہیں کرتا۔ عبّاد بن صہیب کہتے ہیں: میں نے امامِ ششم سے سنا، آپ فرماتے تھے: اللہ منافق اور فاسق کے لیے خوش ظاہری، مسئلہ دانی اور خوش اخلاقی کو ہرگز جمع نہیں کرتا۔

«32»- ن، عيون أخبار الرضا عليه السلام بِالْأَسَانِيدِ الثَّلَاثَةِ عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: مَنْ حَسُنَ فِقْهُهُ فَلَهُ حَسَنَةٌ.

عیون اخبار الرضا علیہ السلام: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو اپنی دینی سمجھ کو نیکو بنائے، اُس کے لیے ایک نیکی ہے۔

بيان: لعل المراد أن حصول الحسنة مشروط بحسن الفقه أو أن حسن الفقه في كل مسألة يوجب حسنة كاملة.

مراد یہ ہے کہ نیکی کا حاصل ہونا دینی سمجھ کو نیکو بنانے پر مشروط ہے؛ یا یہ کہ ہر مسئلے میں دینی سمجھ کو نیکو بنانا کامل نیکی کا سبب ہے۔