«2»- ير، بصائر الدرجات عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنِ الْحَسَنِ عَنْ فَضَالَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ مِيرَاثِ الْعِلْمِ مَا بَلَغَ أَ جَوَامِعُ مِنَ الْعِلْمِ أَمْ يُفَسِّرُ كُلَّ شَيْ ءٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمُورِ الَّتِي يَتَكَلَّمُ فِيهَا النَّاسُ مِنَ الطَّلَاقِ وَ الْفَرَائِضِ فَقَالَ إِنَّ عَلِيّاً عليه السلام كَتَبَ الْعِلْمَ كُلَّهُ وَ الْفَرَائِضَ فَلَوْ ظَهَرَ أَمْرُنَا لَمْ يَكُنْ مِنْ شَيْ ءٍ إِلَّا وَ فِيهِ سُنَّةٌ يُمْضِيهَا.
بصائر الدرجات: محمد بن مسلم کہتے ہیں: میں نے امام علیہ السلام سے میراثِ علم کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ کلی قواعد ہیں جن سے آپ احکام نکالتے ہیں، یا یہ کہ طلاق اور میراث جیسے اُن امور کے بارے میں جن میں لوگ گفتگو کرتے ہیں، کوئی خاص روایت اور نص موجود ہے؟ فرمایا: علی علیہ السلام نے تمام علوم اور فرائض لکھے ہیں؛ اگر حکومت ہمارے ہاتھ میں ہو تو سنت ہر چیز کا جواب دینے والی ہے، جسے ہمارا قائم نافذ کرے گا۔
بيان: قوله ما بلغ بدل من ميراث العلم أي ما بلغ منه إليكم أ جوامع أي ضوابط كلية يستنبط منها خصوصيات الأحكام أو ورد في كل من تلك الخصوصيات نص مخصوص قوله عليه السلام يمضيها على الغيبة أي صاحب الأمر أو على التكلم.
حدیث میں «ما بلغ» (میراث العلم) کا بدل ہے، یعنی میراثِ علم جو تم تک پہنچی۔ «أجوامع؟» کیا میراثِ علم کلی قواعد ہیں جن سے احکام کی خصوصیات مستنبط ہوتی ہیں، یا ہر مورد میں خاص نص آئی ہے؟ «یمضیہا علی الغیبۃ»: کوئی سنت باقی نہیں رہتی مگر یہ کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ اُسے نافذ کرتے ہیں یا اُس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
«3»- ير، بصائر الدرجات عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنِ الْأَهْوَازِيِّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُغِيرِيَّةِ ١ فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْ ءٍ مِنَ السُّنَنِ فَقَالَ مَا مِنْ شَيْ ءٍ يَحْتَاجُ إِلَيْهِ وُلْدُ آدَمَ إِلَّا وَ قَدْ خَرَجَتْ فِيهِ السُّنَّةُ مِنَ اللَّهِ وَ مِنْ رَسُولِهِ وَ لَوْ لَا ذَلِكَ مَا احْتَجَّ عَلَيْنَا بِمَا احْتَجَّ فَقَالَ الْمُغِيرِيُّ وَ بِمَا احْتَجَّ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَوْلُهُ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ فَلَوْ لَمْ يُكْمِلْ سُنَّتَهُ وَ فَرَائِضَهُ وَ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ النَّاسُ مَا احْتَجَّ بِهِ ٢.
بصائر الدرجات: ابواسامہ کہتے ہیں: میں امام صادق علیہ السلام کے پاس تھا اور مغیریہ گروہ کا ایک شخص بھی موجود تھا اور اُس نے بعض سنتوں کے بارے میں سوال کیا۔ امام نے فرمایا: بنی آدم کی تمام حاجتیں اللہ اور اُس کے رسول کی سنت میں بیان ہو چکی ہیں؛ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ ہم پر حجت نہ کرتا۔ مغیری کہتے ہیں: میں نے پوچھا: اللہ کی حجت کون سی ہے؟ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا قول: «الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَ رَضِیتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ دِیناً فَمَنِ اضْطُرَّ فِی مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ» {آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کیا۔ اور جو بھوک سے مجبور ہو جائے، بغیر اِس کے کہ گناہ کی طرف مائل ہو، تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔} اگر اللہ کی سنت اور فرائض اور لوگوں کے محتاجٌ الیہ مسائل کامل نہ ہوتے تو اللہ اِس آیت سے حجت نہ کرتا۔
«4»- سن، المحاسن بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمِيثَمِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مُوسَى عليه السلام قَالَ: أَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله بِمَا اكْتَفَوْا بِهِ فِي عَهْدِهِ وَ اسْتَغْنَوْا بِهِ مِنْ بَعْدِهِ.
المحاسن: محمد بن حکیم امامِ ہفتم علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اُن کے پاس وہ کچھ پہنچایا جو آپ کے زمانے میں اُن کے لیے کافی ہوا اور جس کے ذریعے وہ آپ کے بعد بے نیاز ہو گئے۔