Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 168

و يقرب منه الوصية و هي أن يوصي عند سفره أو موته بكتاب يرويه فلان بعد موته و قد جوز بعض السلف للموصى له روايته و يدل عليه الخبر السالف.

نقلِ حدیث کی اقسام میں سے ایک اور قسم «وصیت» ہے، کہ سفر کے وقت یا اپنی موت کے وقت کسی کتاب کی وصیت کرے کہ اُس کی موت کے بعد فلاں اُسے روایت کرے۔ بعض گزشتہ علماء نے اُس شخص کے لیے جس کے حق میں یہ وصیت ہوئی، اُس حدیث کی روایت کو جائز قرار دیا ہے، اور گزشتہ خبر بھی اِس پر دلالت کرتی ہے۔

و الثامن من تلك الأقسام الوجادة و هي أن يقف الإنسان على أحاديث بخط راويها أو في كتابه المروي له معاصرا كان أو لا فله أن يقول وجدت أو قرأت بخط فلان أو في كتابه حدثنا فلان و يسوق الإسناد و المتن و هذا هو الذي استمر عليه العمل حديثا و قديما و هو من باب المنقطع و فيه شوب اتصال و يجوز العمل به و روايته عند كثير من المحققين عند حصول الثقة بأنه خط المذكور و روايته و إلا قال بلغني عنه أو وجدت في كتاب أخبرني فلان أنه خط فلان أو روايته أو أظن أنه خطه أو روايته لوجود آثار روايته له بالبلاغ و نحوه و يدل على جواز العمل بها خبر أبي جعفر عليه السلام الذي تقدم ذكره.

احادیث کی اقسام میں سے آٹھویں «وجادہ» ہے۔ وجادہ یہ ہے کہ انسان اُن احادیث تک رسائی پائے جو اُن کے راوی کے خط میں ہوں یا اُس کی اُس کتاب میں ہوں جو اُس نے روایت کی، خواہ وہ اُس کا ہم عصر ہو یا نہ۔ پس وہ کہہ سکتا ہے: میں نے پایا، یا میں نے فلاں کے خط میں پڑھا، یا اُس کی کتاب میں کہ فلاں نے مجھے حدیث بیان کی ـ اور سند اور متنِ حدیث جاری رکھے۔ اور دُور کے زمانوں سے اب تک اصحاب کا عمل اِسی پر رہا ہے، اور وہ حدیثِ منقطع کے باب سے ہے، اگرچہ اُس میں اتصال کا گمان بھی ہے۔ اُس پر عمل اور اُس کی روایت بہت سے محققین کے نزدیک اُس وقت جائز ہے جب خط اور اُس کی روایت پر اعتماد اور توثیق حاصل ہو۔ ورنہ محدث کو کہنا چاہیے: مجھے فلاں سے پہنچا، یا میں نے کتاب میں پایا کہ فلاں نے خبر دی کہ یہ فلاں کا خط یا اُس کی روایت ہے، یا میں گمان کرتا ہوں کہ یہ اُس کا خط یا اُس کی روایت ہے، اُس کی روایت کے آثار کے وجود کے سبب «بلاغ» یا اُس جیسی چیز سے؛ اور ابوجعفر کی خبر جو گزری، اُس کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔

و ربما يلحق بهذا القسم ما إذا وجد كتابا بتصحيح الشيخ و ضبطه و الأظهر جواز العمل بالكتب المشهورة المعروفة التي يعلم انتسابها إلى مؤلفيها كالكتب الأربعة و سائر الكتب المشهورة و إن كان الأحوط تصحيح الإجازة و الإسناد في جميعها و سنفصل القول في تلك الأنواع و فروعها في المجلد الخامس و العشرين من الكتاب بعون الملك الوهاب.

بسا اوقات اِس قسم کے ساتھ ایک اور قسم ملحق ہوتی ہے اور وہ اُس وقت ہے جب کتاب شیخ کی تصحیح اور ضبط کے ساتھ ملے۔ اور اظہر اُن مشہور و معروف کتابوں پر عمل کا جواز ہے جن کی اُن کے مؤلفین کی طرف نسبت معلوم ہے، جیسے کتبِ اربعہ اور دیگر مشہور کتابیں، اگرچہ احوط یہ ہے کہ اُن سب میں اجازہ اور اسناد کی تصحیح کی جائے۔ اور اُس کی تمام اقسام و فروع میں بحار کی جلدِ پچیس میں تفصیلی کلام آئے گا، ان شاء اللہ۔

باب 22 أن لكل شي ء حدا و أنه ليس شي ء إلا ورد فيه كتاب أو سنة و علم ذلك كله عند الإمام

باب بائیسواں: ہر چیز کی ایک حد ہے اور کوئی چیز نہیں جو کتاب اور سنت میں نہ آئی ہو اور اُس سب کا علم امام کے پاس ہے

الآيات؛

آیات

الأنعام: «ما فَرَّطْنا فِي الْكِتابِ مِنْ شَيْ ءٍ»(37)

{اور زمین میں کوئی چلنے والا نہیں اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے، مگر یہ کہ وہ [بھی] تمہاری طرح کی جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب [لوحِ محفوظ] میں کوئی چیز فروگزاشت نہیں کی؛ پھر [سب] اپنے پروردگار کی طرف محشور کیے جائیں گے۔}

«1»- ير، بصائر الدرجات عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْيَقْطِينِيِّ يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: أَبَى اللَّهُ أَنْ يُجْرِيَ الْأَشْيَاءَ إِلَّا بِالْأَسْبَابِ فَجَعَلَ لِكُلِّ شَيْ ءٍ سَبَباً وَ جَعَلَ لِكُلِّ سَبَبٍ شَرْحاً وَ جَعَلَ لِكُلِّ شَرْحٍ مِفْتَاحاً وَ جَعَلَ لِكُلِّ مِفْتَاحٍ عَلَماً وَ جَعَلَ لِكُلِّ عَلَمٍ بَاباً نَاطِقاً مَنْ عَرَفَهُ عَرَفَ اللَّهَ وَ مَنْ أَنْكَرَهُ أَنْكَرَ اللَّهَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله وَ نَحْنُ.

بصائر الدرجات: یقطینی نے ایک مرفوع حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ سبب کے راستے کے سوا کوئی کام نہیں کرتا؛ چنانچہ ہر چیز کا ایک سبب ہے، ہر سبب کی ایک شرح، ہر شرح کی ایک کلید، ہر کلید کا ایک علم، اور ہر علم کا ایک بولنے والا دروازہ: جو اُسے نہ پہچانے اُس نے اللہ کو بھی نہ پہچانا، اور جو اُس کا انکار کرے اُس نے اللہ کا انکار کیا۔ وہ دروازہ پیغمبر کا علم اور ہم ہیں۔