و بعدها المناولة و هي مقرونة بالإجازة و غير مقرونة و الأولی هي أن يناوله كتابا و يقول هذا روايتي فاروه عني أو شبهه و الثانية أن يناوله إياه و يقول هذا سماعي و يقتصر عليه و في جواز الرواية بالثاني قولان و الأظهر الجواز
نقلِ حدیث کے راستوں میں سے ایک «مناولہ» ہے، جو اجازہ سے مقرون ہوتا ہے یا غیر مقرون۔ پہلی قسم یہ ہے کہ وہ اُسے ایک کتاب دے اور کہے: یہ میری روایت ہے، مجھ سے روایت کرو، یا اُس جیسی بات کہے۔ دوسری قسم یہ ہے کہ کتاب دے اور کہے: یہ میری سنی ہوئی باتیں ہیں ـ اور اِسی پر اکتفا کرے؛ اور اِس قسم سے روایت کے جواز میں دو قول ہیں، جن میں اظہر اُس کا جواز ہے،
لِمَا رَوَاهُ الْكُلَيْنِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بِإِسْنَادِهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْحَلَّالِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا عليه السلام الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِنَا يُعْطِينِي الْكِتَابَ وَ لَا يَقُولُ ارْوِهِ عَنِّي يَجُوزُ لِي أَنْ أَرْوِيَهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ الْكِتَابَ لَهُ فَارْوِهِ عَنْهُ.
اُس روایت کی بنا پر جو کلینی نے محمد بن یحییٰ سے، اپنی اسناد کے ساتھ، احمد بن عمر حلّال سے نقل کی، جو کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن الرضا علیہ السلام سے عرض کیا: ہمارے اصحاب میں سے ایک شخص مجھے ایک کتاب دیتا ہے مگر یہ نہیں کہتا کہ یہ کتاب مجھ سے روایت کرو؛ کیا میں وہ کتاب اُس سے روایت کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: جب تم جانتے ہو کہ کتاب اُسی کی ہے تو اُس سے روایت کرو۔
١و هل يجوز إطلاق حدثنا و أخبرنا في الإجازة و المناولة قولان و أما مع التقييد بمثل قولنا إجازة و مناولة فالأصح جوازه و اصطلح بعضهم على قولنا أنبأنا.
ایک اور بات یہ کہ کیا اجازہ اور مناولہ میں «حدثنا» اور «اخبرنا» کے الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ دو نظریے ہیں؛ لیکن اگر مقید کیا جائے اور کہا جائے «اخبرنا» اور «حدثنا اجازۃً و مناولۃً» تو صحیح ترین نظریہ اُس کا جائز ہونا ہے۔
و بعدها المكاتبة و هي أن يكتب مسموعه لغائب بخطه و يقرنه بالإجازة أو يعريه عنها و الكلام فيه كالكلام في المناولة.
ایک اور راستہ «مکاتبہ» ہے، اور وہ یہ کہ اپنی سنی ہوئی باتیں کسی غائب شخص کے لیے اپنے خط سے لکھے، خواہ اُسے اجازہ سے مقرون کرے یا نہ۔ جو باتیں مناولہ میں کہی گئیں، عیناً یہاں بھی آتی ہیں۔
و الظاهر عدم الفرق بين الكتابة التفصيلية و الإجمالية كأن يكتب الشيخ مشيرا إلى مجموع محدود إشارة يأمن معها اللبس و الاشتباه هذا مسموعي و مرويی فاروه عني و الحق أنه مع العلم بالخط و المقصود بالقرائن لا فرق يعتد به بينه و بين سائر الأقسام ككتابة النبي إلی كسرى و قيصر، مع أنها كانت حجة عليهم، و كتابة أئمتنا عليهم السلام الأحكام إلى أصحابهم في الأعصار المتطاولة و الظاهر أنه يكفي الظن الغالب أيضا في ذلك.
بظاہر تفصیلی اور اجمالی کتابت کے درمیان فرق نہیں، مثلاً یہ کہ شیخِ حدیث احادیث کے اُس مجموعے کی طرف جو محدود ہے اور التباس و اشتباہ سے محفوظ، اشارہ کرے کہ یہ میری سنی ہوئی اور روایت کی ہوئی باتیں ہیں، اُنہیں مجھ سے روایت کرو۔ حق بات یہ ہے کہ خط کی شناخت اور موجود قرائن کے سبب راوی کے مقصود کی شناخت کے ساتھ، اِس قسم اور باقی اقسام کے درمیان کوئی فرق نہیں ـ جیسے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کے کسریٰ اور قیصر کی طرف خطوط، جو اُن پر حجت تھے؛ اور نہ ہی ائمہ معصومین علیہم السلام کی احکام کے بارے میں اپنے اصحاب کی طرف طویل زمانوں میں تحریروں سے کوئی بڑا فرق ہے۔ بظاہر اِس بارے میں گمانِ غالب بھی کافی ہے۔
و بعدها الإعلام و هو أن يعلم الشيخ الطالب أن هذا الحديث أو الكتاب سماعه و في جواز الرواية به قولان و الأظهر الجواز لما مر في خبر أحمد بن عمر
کتابت کے بعد کا مرتبہ «اعلام» ہے کہ شیخ طالبِ علم کو حدیث یا کتاب کے سننے کی اطلاع دے۔ اُس کے جواز میں دو نظریے ہیں اور جو زیادہ واضح ہے وہ اُس کا جواز ہے، احمد بن عمر کی حدیث کی بنا پر
وَ لِمَا رَوَاهُ الْكُلَيْنِيُّ عَنْ عِدَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي خَالِدٍ شَيْنُولَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ الثَّانِي عليه السلام جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّ مَشَايِخَنَا رَوَوْا عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ وَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام وَ كَانَتِ التَّقِيَّةُ شَدِيدَةً فَكَتَمُوا كُتُبَهُمْ فَلَمْ تُرْوَ عَنْهُمْ فَلَمَّا مَاتُوا صَارَتِ الْكُتُبُ إِلَيْنَا فَقَالَ حَدِّثُوا بِهَا فَإِنَّهَا حَقٌّ.
اور اُس حدیث کی بنا پر جو کلینی نے اپنی سند سے اپنے بہت سے اصحاب سے، امام صادق اور امام باقر علیہما السلام سے روایت کی، اور اُن زمانوں میں تقیہ شدید تھا، پس وہ اپنی کتابیں چھپاتے تھے اور اُن سے حدیث نقل نہ کرتے تھے۔ جب وہ دنیا سے گئے تو اُن کی کتابیں ہم تک پہنچیں اور اُنہوں نے کہا: اُنہیں بیان کرو کہ وہ حق ہیں۔