فلو لا ترجيح قراءة الشيخ على قراءة الراوي لأمره بترك القراءة عند التضجر و قراءة الراوي مع سماعه إياه و لا خلاف في أنه يجوز للسامع أن يقول في الأول حدثنا و أنبأنا و سمعته يقول و قال لنا و ذكر لنا هذا كان في الصدر الأول ثم شاع تخصيص أخبرنا بالقراءة على الشيخ و أنبأنا و نبأنا بالإجازة و في الثاني المشهور جواز قول أخبرني و حدثني مقيدين بالقراءة على الشيخ و ما ينقل عن السيد من منعه مقيدا أيضا بعيد و اختلف في الإطلاق فجوزه بعضهم و منعه آخرون و فصل ثالث فجوز أخبرني و منع حدثني و استند إلى أن الشائع في استعمال أخبرني هو قراءته على الشيخ و في استعمال حدثني هو سماعه عنه و في كون الشياع دليلا على المنع من غير الشائع نظر.
اگر شیخ کی قرائت راوی کی قرائت پر برتری نہ رکھتی تو امام علیہ السلام اُسے تنگ آنے کے وقت قرائت چھوڑنے کا حکم دیتے اور فرماتے کہ راوی کی قرائت سن لینا کافی ہے، مگر امام علیہ السلام نے ایسا حکم نہ دیا۔ البتہ اِس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سننے والے کے لیے پہلی صورت میں یہ کہنا جائز ہے: «ہمیں حدیث بیان کی، ہمیں خبر دی، یا میں نے سنا کہ اُس نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی، اور کہا: اور ہمارے لیے ذکر کیا» ـ یہ تمام اصطلاحات صدرِ اول اسلام میں رائج تھیں، مگر بعد کے زمانوں میں «اخبرنا» سے مراد راوی کا شیخ پر پڑھنا ہے اور «انبأنا و نبّأنا» سے مراد اجازۂ روایت۔ اور دوسری صورت میں، مشہور کے مطابق یہ کہنا جائز ہے: «اخبرنی» اور «حدثنی قراءۃً علی الشیخ»، یعنی قرائت کو شیخ پر مقید کرتے ہوئے۔ سید سے نقل ہے کہ اِس صورت میں حدیث بیان کرنا، حتیٰ کہ قرائت کو شیخ پر مقید کرنے کے ساتھ بھی جائز نہیں ـ اور سید سے ایسی بات بعید ہے۔ لیکن اگر مطلقاً «اخبرنی و حدثنی» کہے اور شیخ پر قرائت سے مقید نہ کرے تو بعض نے اُسے جائز اور بعض نے ممنوع جانا ہے، اور ایک گروہ تفصیل کا قائل ہوا کہ «اخبرنی» جائز اور «حدثنی» ممنوع ہے؛ کیونکہ «اخبرنی» شیخ پر پڑھنے میں بہت استعمال ہوتا ہے اور «حدثنی» کا استعمال اُس موقع پر شائع ہے جب راوی حدیث شیخ سے سنے۔ البتہ خیال رہے کہ شیوع اور کثرتِ استعمال اُس صورت کے منع پر دلیل نہیں بن سکتے جو شائع نہیں۔
ثم إن صيغة حدثني و شبهها فيما يكون الراوي متفردا في المجلس و حدثنا و أخبرنا فيما يكون مجتمعا مع غيره و هذان قسمان من أقسامها.
«حدثنی» اور اُس جیسے الفاظ وہاں استعمال ہوتے ہیں جہاں راوی مجلس میں تنہا ہو، لیکن «حدثنا» اور «اخبرنا» اُس موقع پر ہیں جہاں راوی کے ساتھ اور لوگ بھی ہوں۔
و بعدهما الإجازة سواء كان معينا لمعين كإجازة الكافي لشخص معين أو معينا لغير معين كإجازته لكل أحد أو غير معين لمعين كأجزتك مسموعاتي أو غير معين لغير معين كأجزت كل أحد مسموعاتي كما حكي عن بعض أصحابنا أنه أجاز على هذا الوجه.
تیسرا راستہ «اجازہ» ہے، خواہ کوئی معین شخص کسی معین کو اجازت دے یا معین غیر معین کو اجازت دے؛ پہلی صورت جیسے کسی معین شخص کے لیے کافی کی اجازت اور دوسری صورت جیسے ہر کسی کے لیے کافی کی اجازت؛ یا غیر معین کی کسی معین کو اجازتِ روایت دے، مثلاً کہے: میں نے اپنے مسموعات اور سنی ہوئی باتوں کی تمہیں اجازت دی۔ یا غیر معین کی غیر معین کو اجازت دے، جیسے کہے: میں نے ہر کسی کو اجازت دی کہ میری سنی ہوئی باتیں روایت کرے۔ یہ آخری قسم ہمارے بعض اصحاب نے جائز رکھی ہے، مگر اُس شخص کو اجازت دینے میں جو ابھی موجود نہیں، اشکال ہے، مگر یہ کہ وہ موجود پر عطف ہو؛ لیکن غیر ممیز کو، جیسے چھوٹے بچوں کو، اجازت دینا مشہور کے نزدیک جائز ہے۔
و في إجازة المعدوم نظر إلا مع عطفه على الموجود و أما غير المميز كالأطفال الصغيرة فالمشهور الجواز ١ و في جواز إجازة المجاز وجهان للأصحاب و الأصح الجواز.
خیال رہے کہ جو خود اجازۂ روایت رکھتا ہے، کیا وہ دوسروں کو اجازت دے سکتا ہے؟ دو نظریے ہیں اور صحیح تر نظریہ ایسے مواقع کا جواز ہے۔
و أفضل أقسامها ما كانت على وفق صحيحة ابن سنان المتقدمة بأن يقرأ عليه من أوله حديثا و من وسطه حديثا و من آخره حديثا ثم يجيزه بل الأولى الاقتصار عليه و يحتمل أن يكون المراد بالأول و الوسط و الآخر الحقيقي منها أو الأعم منه و من الإضافي و الثاني أظهر و إن كان رعاية الأول أحوط و أولی.
اور بہترین راہ یہ ہے کہ صحیحۂ ابن سنان کے مطابق عمل کیا جائے، یعنی اُس کے اول سے ایک حدیث اور وسط اور آخر سے بھی ایک ایک حدیث شیخ پر پڑھی جائے، پھر وہ اُسے اجازت دے۔ اور اِس صحیحہ میں احتمال ہے کہ اول، آخر اور وسط سے مراد اُن کا حقیقی معنی ہو، یا حقیقی اور اضافی سے اعم؛ دوسرا معنی زیادہ واضح ہے مگر پہلے معنی کی رعایت احتیاط کے مطابق ہے۔