مَنْصُورِ بْنِ يُونُسَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ ثَنَاؤُهُ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ قَالَ هُوَ الرَّجُلُ يَسْمَعُ الْحَدِيثَ فَيُحَدِّثُ بِهِ كَمَا سَمِعَهُ لَا يَزِيدُ فِيهِ وَ لَا يَنْقُصُ.
میں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: آیتِ مبارکہ «الَّذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ» {جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اُس کے بہترین حصے کی پیروی کرتے ہیں} کی تفسیر کیا ہے؟ فرمایا: یہ آیت اُس شخص کے بارے میں ہے جو حدیث سنتا ہے اور جیسا سنا ویسا ہی، بغیر کمی بیشی کے، نقل کرتا ہے۔
و بالغ بعضهم فقال لا يجوز تغيير قال النبي صلى اللّٰه عليه و آله إلى قال رسول اللّٰه و لا عكسه و هو عنت بيّن بغير ثمرة.
بعض علماء نے حد سے زیادہ مبالغہ کیا ہے اور یہاں تک اجازت نہیں دی کہ «قال النبی» کی جگہ «قال رسول اللہ» یا اُس کے برعکس کہا جائے ـ اور یہ ایک بے فائدہ ہٹ دھرمی ہے۔
تذنيب: قال بعض الأفاضل نقل المعنى إنما جوزوه في غير المصنفات أما المصنفات فقد قال أكثر الأصحاب لا يجوز حكايتها و نقلها بالمعنى و لا تغيير شي ء منها على ما هو المتعارف.
بعض افاضل نے کہا ہے: نقل بالمعنیٰ صرف اُن احادیث میں جائز ہے جو کتابوں میں نہیں آئیں؛ لیکن وہ احادیث جو کتابوں میں آ چکی ہیں، اُن کی حکایت اور نقل بالمعنیٰ اور اُن میں کوئی متعارف تبدیلی جائز نہیں۔
«25»- شی، تفسير العياشي عَنِ السَّكُونِيِّ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ قَالَ: الْوُقُوفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ خَيْرٌ مِنَ الِاقْتِحَامِ فِي الْهَلَكَةِ وَ تَرْكُكَ حَدِيثاً لَمْ تُرْوَهُ خَيْرٌ مِنْ رِوَايَتِكَ حَدِيثاً لَمْ تُحْصِهِ إِنَّ عَلَى كُلِّ حَقٍّ حَقِيقَةً وَ عَلَی كُلِّ صَوَابٍ نُوراً فَمَا وَافَقَ كِتَابَ اللَّهِ فَخُذُوا بِهِ وَ مَا خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ فَدَعُوهُ.
تفسیر عیاشی: سکونی نے امام باقر علیہ السلام سے، اُنہوں نے اپنے آباء سے، اُنہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی کہ شبہے کے وقت رُک جانا ہلاکت میں گرنے سے بہتر ہے؛ تمہارا کسی ایسی حدیث کو نقل نہ کرنا جو روایت نہ ہوئی ہو [جس کی روایت تمہارے لیے ثابت نہ ہو] بے شمار احادیث نقل کرنے سے بہتر ہے؛ کیونکہ ہر حق کی ایک حقیقت ہے اور ہر درست کام کا ایک نور۔ پس وہ احادیث جو کتابِ خدا کے موافق ہوں، اُنہیں لے لو اور جو کتابِ خدا کے مخالف ہو اُسے چھوڑ دو۔
بيان: الفعل في قوله عليه السلام لم تروه إما مجرد معلوم يقال روى الحديث رواية أي حمله أو مزيد معلوم من باب التفعيل أو الإفعال يقال رويته الحديث تروية و أرواه أي حملته على روايته أو مزيد مجهول من البابين و منه روينا في الأخبار و لنذكر ما به يتحقق تحمل الرواية و الطرق التي تجوز بها رواية الأخبار.
امام علیہ السلام کے قول «لم تروہ» میں فعل یا ثلاثی مجردِ معلوم ہے؛ کہا جاتا ہے «روی الحدیث روایۃً» یعنی اُسے اٹھایا۔ یا مزیدِ معلوم بابِ تفعیل یا افعال سے ہے؛ کہا جاتا ہے «روّیتہ الحدیث ترویۃً» اور «أرواہ» یعنی اُسے اُس کے روایت کرنے پر آمادہ کیا۔ یا اِنہی دو بابوں سے مزیدِ مجہول ہے، اور اِسی قبیل سے «رُوّینا فی الأخبار» ہے۔ اور اب ہم وہ راہیں ذکر کرتے ہیں جن سے تحملِ روایت محقق ہوتا ہے اور وہ طریقے جن سے اخبار کی روایت جائز ہے۔
اعلم أن لأخذ الحديث طرقا أعلاها سماع الراوي لفظ الشيخ أو إسماع الراوي لفظه إياه بقراءة الحديث عليه و يدخل فيه سماعه مع قراءة غيره على الشيخ و يسمی الأول بالإملاء و الثاني بالعرض و قد يقيد الإملاء بما إذا كتب الراوي ما يسمع من شيخه و في ترجيح أحدهما علی الآخر و التسوية بينهما أوجه و مما يستدل به على ترجيح السماع من الشيخ على إسماعه ما
جان لو کہ حدیث کے حصول کے کئی راستے ہیں، جن میں سب سے اعلیٰ یہ ہے کہ راوی شیخ کے الفاظِ حدیث سنے، یا راوی الفاظِ حدیث شیخ کو سنائے، اِس طور پر کہ حدیث شیخ پر پڑھے۔ پہلی صورت کو «املا» کہتے ہیں اور دوسری کو «عرض»۔ کبھی «املا» کو اُس صورت میں مقید کیا جاتا ہے جب راوی وہ لکھے جو اُس نے شیخ سے سنا؛ اور اِس بارے میں کہ کون سی صورت دوسری پر ترجیح رکھتی ہے یا وہ برابر ہیں، کئی اقوال ہیں۔ اُن دلائل میں سے ایک جو پہلی صورت کو دوسری صورت (صورتِ عرض) پر ترجیح دیتا ہے، کلینی کی وہ روایت ہے جو وہ سندِ صحیح کے ساتھ ابن سنان سے یوں روایت کرتے ہیں:
رَوَاهُ الْكُلَيْنِيُّ بِسَنَدٍ صَحِيحٍ ١ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَجِيئُنِي الْقَوْمُ فَيَسْمَعُونَ مِنِّي حَدِيثَكُمْ فَأَضْجَرُ وَ لَا أَقْوَى قَالَ فَاقْرَأْ عَلَيْهِمْ مِنْ أَوَّلِهِ حَدِيثاً وَ مِنْ آخِرِهِ حَدِيثاً.
میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: لوگ میرے پاس آتے ہیں اور آپ کی حدیث مجھ سے سنتے ہیں اور میں تنگ آ گیا ہوں اور طاقت نہیں رکھتا۔ فرمایا: اُس کے اول سے ایک حدیث، وسط سے ایک حدیث اور آخر سے ایک حدیث پڑھ دو۔