Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 161

«14»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام رُوَاةُ الْكِتَابِ كَثِيرٌ وَ رُعَاتُهُ قَلِيلٌ فَكَمْ مِنْ مُسْتَنْصِحٍ لِلْحَدِيثِ مُسْتَغِشٌّ لِلْكِتَابِ وَ الْعُلَمَاءُ تَحْزُنُهُمُ الدِّرَايَةُ وَ الْجُهَّالُ تَحْزُنُهُمُ الرِّوَايَةُ.

منیۃ المرید: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کتاب کے روایت کرنے والے بہت ہیں اور اُس پر عمل کرنے والے کم۔ کتنے ہی ہیں جو حدیث سے نصیحت لینے کے طالب ہیں جبکہ قرآن پر پردہ ڈالتے ہیں۔ دانشوروں کو حدیث کا سمجھنا غمگین کرتا ہے اور نادانوں کو اُس کا روایت کرنا۔

«15»- وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام إِذَا حَدَّثْتُمْ بِحَدِيثٍ فَأَسْنِدُوهُ إِلَى الَّذِي حَدَّثَكُمْ فَإِنْ كَانَ حَقّاً فَلَكُمْ وَ إِنْ كَانَ كَذِباً فَعَلَيْهِ.

امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: جب تم کوئی حدیث نقل کرو تو اُسے اُس کی طرف منسوب کرو جس نے تمہیں نقل کی؛ کیونکہ اگر وہ حق ہے تو تمہارے لیے ہے اور اگر جھوٹ ہے تو اُس کی گردن پر۔

«16»- كِتَابُ الْإِجَازَاتِ، لِلسَّيِّدِ بْنِ طَاوُسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مِمَّا أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَسْمَعُ الْحَدِيثَ فَلَا أَدْرِي مِنْكَ سَمَاعُهُ أَوْ مِنْ أَبِيكَ قَالَ مَا سَمِعْتَهُ مِنِّي فَارْوِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله.

کتاب الإجازات: حسن بن محبوب امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا: میں کوئی حدیث سنتا ہوں، نہیں جانتا کہ آپ سے ہے یا آپ کے والد سے؟ فرمایا: جو تم نے مجھ سے سنا، اُسے پیغمبر سے روایت کرو۔

«17»- وَ مِنْهُ، نَقْلًا مِنْ كِتَابِ مَدِينَةِ الْعِلْمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ زَعْلَانَ عَنْ خَلَفِ بْنِ حَمَّادٍ عَنِ ابْنِ الْمُخْتَارِ أَوْ غَيْرِهِ رَفَعَهُ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَسْمَعُ الْحَدِيثَ مِنْكَ فَلَعَلِّي لَا أَرْوِيهِ مَا سَمِعْتُهُ فَقَالَ إِنْ أَصَبْتَ فِيهِ فَلَا بَأْسَ إِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ تَعَالَ وَ هَلُمَّ وَ اقْعُدْ وَ اجْلِسْ.

سید بن طاؤس نے شیخِ صدوق کی کتاب «مدینۃ العلم» سے ابن مختار کی سند سے روایت کی کہ وہ کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: میں آپ سے حدیث سنتا ہوں مگر نقل کرتے وقت آپ کی عین عبارت استعمال نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا: اگر تم نے حدیث اچھی طرح سمجھی ہو تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ «تعال» اور «ہلمّ» اور «اقعد» اور «اجلس» کے مانند ہے جن کا معنی «آؤ» اور «بیٹھو» ہے (جن کا ایک معنی ہے اور صرف الفاظ مختلف ہیں)۔

«18»- كِتَابُ حُسَيْنِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِذَا أَصَبْتَ الْحَدِيثَ فَأَعْرِبْ عَنْهُ بِمَا شِئْتَ.

کتاب حسین بن عثمان: وہ اپنے بعض اصحاب سے، وہ امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب تم کسی حدیث کے واقع اور معنی تک پہنچ جاؤ تو جیسے چاہو بیان کرو۔

«19»- غو، غوالي اللئالي قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.

عوالی اللئالی: پیغمبر نے فرمایا: مجھ سے صرف اُس وقت حدیث نقل کرو جب تم جانو کہ وہ مجھ سے ہے، ورنہ بچو؛ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے، اُس کا ٹھکانا یقیناً آگ میں ہے۔

بيان: قال الجزري فيه من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار قد تكررت هذه اللفظة في الحديث و معناه لينزل منزله في النار يقال بوأه اللّٰه منزلا أي أسكنه إياه و تبوأت منزلا اتخذته و المباءة المنزل.

«فلیتبوّأ مقعدہ من النار»: یہ لفظ احادیث میں بہت دہرایا گیا ہے اور اُس کا معنی یہ ہے کہ آگ میں اپنے لیے ایک گھر تیار کرے اور اُس میں بسے۔

«20»- غو، غوالي اللئالي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله أَنَّهُ قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا فَأَدَّاهَا كَمَا سَمِعَهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ.

عوالی اللئالی: پیغمبر سے یوں روایت ہوا ہے: اللہ اُس شخص پر رحم کرے جو میری بات سنے، سمجھے اور اُسی طرح بیان کرے جیسے سنی؛ کیونکہ کتنے ہی ایسے ہیں جو

وَ فِي رِوَايَةٍ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ.

فقہ کو اٹھائے پھرتے ہیں مگر فقیہ نہیں۔ اور دوسری روایت میں آیا ہے: کتنے ہی ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ جاننے والے تک لے جاتے ہیں۔

«21»- نهج، نهج البلاغة ضه، روضة الواعظين قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام اعْقِلُوا الْخَبَرَ إِذَا سَمِعْتُمُوهُ عَقْلَ رِعَايَةٍ لَا عَقْلَ رِوَايَةٍ فَإِنَّ رُوَاةَ الْعِلْمِ كَثِيرٌ وَ رُعَاتَهُ قَلِيلٌ.

نہج البلاغہ، روضۃ الواعظین: امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: جب تم کوئی حدیث سنو تو عمل کے لیے غور کرو نہ کہ روایت کے لیے، کیونکہ علم کے راوی بہت ہیں مگر اُس کے محافظ اور اُس پر عمل کرنے والے کم۔