يرفع حديثه بإسقاط الواسطة من فرع الشي ء أي ارتفع و علا و فرعت الجبل أي صعدته و قيل لأنه يزيل عن الراوي ما يوجب قبول روايته و العمل بها أي العدالة من افترعت البكر أي اقتضضتها و قيل لأنه قال كذب أزيل بكارته أي صدر مثله من السابقين كثيرا و قيل لأنه الكذب المستحدث أي لم يقع مثله من السابقين و قيل لأنه ابتدأ بذكر من ينبغي أن يذكره أخيرا من قولهم بئس ما افترعت به أي ابتدأت به و قيل لأنه كذب فرع كذب رجل آخر فإنك إن أسندته إليه فإن كان كاذبا أيضا فلست بكاذب بخلاف ما إذا أسقطته فإنه إن كان كاذبا فأنت أيضا كاذب فعلى الثلاثة الأولى و الاحتمال الأخير اسم فاعل و علی البواقي اسم مفعول.
اپنی حدیث کو بلند کرتا ہے، پس اِس بنا پر «فرع» ارتفاع کے معنی میں آیا۔ ۳۔ کیونکہ یہ اُس چیز کے زائل ہونے کا سبب بنتا ہے جو روایت کی قبولیت اور اُس پر عمل کا موجب ہے، یعنی عدالت؛ پس اِس بنا پر «فرع» «زائل» ہونے کے معنی میں آیا۔ ۴۔ کیونکہ یہ ایسا جھوٹ ہے جس کی مانند گزشتہ لوگوں سے بہت صادر ہوئی۔ ۵۔ کیونکہ یہ ایسا جھوٹ ہے جس کی مانند گزشتہ لوگوں سے واقع نہیں ہوئی۔ ۶۔ کیونکہ وہ شخص اُس کے ذکر سے شروع کرتا ہے جسے آخر میں ذکر کرنا سزاوار تھا۔ ۷۔ کیونکہ وہ جھوٹ کسی اور شخص کے جھوٹ کی فرع ہے؛ کیونکہ اگر تم وہ حدیث اصل راوی کی طرف منسوب کرو تو اگرچہ اُس نے جھوٹ کہا ہو، تم جھوٹے نہ ہو گے، برخلاف اِس صورت کے کہ راوی اگر جھوٹا ہو تو تم بھی جھوٹے ہو جاؤ گے۔ پہلے تین احتمالات اور آخری احتمال کی بنا پر «کذب» اسمِ فاعل کے معنی میں ہے اور باقی احتمالات میں اسمِ مفعول کے معنی میں۔
«5»- مع، معاني الأخبار أَبِی عَنْ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَيْفٍ عَنْ أَخِيهِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَارِدٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَعْيَنَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام جُعِلْتُ فِدَاكَ حَدِيثٌ يَرْوِيهِ النَّاسُ ١ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ حَدِّثْ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَ لَا حَرَجَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَنُحَدِّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا سَمِعْنَاهُ وَ لَا حَرَجَ عَلَيْنَا قَالَ أَ مَا سَمِعْتَ مَا قَالَ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِباً أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ فَقُلْتُ وَ كَيْفَ هَذَا قَالَ مَا كَانَ فِي الْكِتَابِ أَنَّهُ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَحَدِّثْ أَنَّهُ كَانَ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَ لَا حَرَجَ.
معانی الأخبار: عبدالاعلیٰ بن اعین کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: آپ پر قربان، اہلِ سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بنی اسرائیل سے حدیث بیان کرو اور کوئی حرج نہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: تو جو کچھ ہم نے بنی اسرائیل سے سنا، وہ بیان کریں اور ہمارے لیے کوئی حرج نہیں؟ فرمایا: کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو فرمائی گئی: آدمی کے جھوٹا ہونے کی دلیل یہی ہے کہ وہ جو کچھ سنے بیان کر دے؟ میں نے عرض کیا: تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کے اُس فرمان کا مصداق کیا ہے؟ فرمایا: مراد یہ ہے کہ قرآن میں بنی اسرائیل کے جو واقعات آئے ہیں، وہ تم بیان کرو، کیونکہ وہ ہماری اِس امت میں پیش آئیں گے اور اُس میں کوئی حرج نہیں۔