المراد بعثه في القيامة في زمرتهم لتشبهه بهم و إن لم يكن منهم و يطلق الفقيه غالبا في الأخبار على العالم العامل الخبير بعيوب النفس و آفاتها التارك للدنيا الزاهد فيها الراغب إلى ما عنده تعالى من نعيمه و قربه و وصاله و استدل بعض الأفاضل بهذا الخبر على حجية خبر الواحد و توجيهه ظاهر.
مراد یہ ہے کہ وہ شخص قیامت میں عمل کرنے والے علماء اور فقہاء کے زمرے میں مبعوث ہو گا، اُن سے مشابہت کے سبب، اگرچہ وہ اُن میں سے نہ ہو۔ اور معصومین کی احادیث میں «فقیہ» عموماً اُس عمل کرنے والے عالم پر بولا جاتا ہے جو نفس کے عیوب اور اُس کی آفات سے آگاہ ہو، دنیا کو چھوڑنے والا اور اُس میں زاہد ہو اور اُس چیز کا رغبت رکھنے والا ہو جو اللہ کے پاس ہے، نعمتوں، قربِ الٰہی اور اللہ تک پہنچنے میں سے۔ اور بعض افاضل نے اِس خبر سے خبرِ واحد کی حجیت پر استدلال کیا ہے، جس کی توجیہ واضح ہے۔
باب 21 آداب الرواية
باب اکیسواں: نقلِ روایت کے آداب
الآيات؛
آیات
الحاقة: «وَ تَعِيَها أُذُنٌ واعِيَةٌ»(11)
الحاقہ: {تاکہ ہم اُسے تمہارے لیے [باعثِ] نصیحت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اُسے محفوظ رکھیں۔}
«1»- ختص، الإختصاص جَعْفَرُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُؤْمِنُ عَنِ ابْنِ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَحَدِهِمَا عليهما السلام فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَبَشِّرْ عِبادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ قَالَ هُمُ الْمُسَلِّمُونَ لِآلِ مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله إِذَا سَمِعُوا الْحَدِيثَ أَدَّوْهُ كَمَا سَمِعُوهُ لَا يَزِيدُونَ وَ لَا يَنْقُصُونَ.
الاختصاص: ابوبصیر امام باقر یا امام صادق علیہما السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آیت «فَبَشِّرْ عِبادِ الَّذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ» {پس میرے اُن بندوں کو بشارت دو جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اُس کے بہترین حصے کی پیروی کرتے ہیں۔} کے بارے میں فرمایا: وہ آلِ محمد کے تسلیم شدہ ہیں؛ حدیث اُسی طرح بیان کرتے ہیں جیسے سنی، اور کم و زیادہ نہیں کرتے۔
«2»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: مَنْ أَرَادَ الْحَدِيثَ لِمَنْفَعَةِ الدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ وَ مَنْ أَرَادَ بِهِ خَيْرَ الْآخِرَةِ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ.
منیۃ المرید: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو حدیث کو دنیا کے فائدے کے لیے چاہے، اُس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں؛ اور جو حدیث سے آخرت کی بھلائی چاہے، اللہ اُسے دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا کرے۔
«3»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي حَمَّوَيْهِ ١ عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِي خَلِيفَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ رَوَی عَنِّي حَدِيثاً وَ هُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ.
امالیِ شیخ طوسی: سمرہ کہتے ہیں: پیغمبر نے فرمایا: جو ہم سے کوئی ایسی حدیث روایت کرے جسے وہ جھوٹ جانتا ہو، وہ خود جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔
بيان: يدل على عدم جواز رواية الخبر الذي علم أنه كذب و إن أسنده إلى راويه.
یہ حدیث جھوٹی خبر کی روایت کی حرمت پر دلالت کرتی ہے، جس کا جھوٹ ہونا تم جانتے ہو، اگرچہ تم اُس کی سند راوی تک پہنچا دو۔
«4»- مع، معاني الأخبار أَبِی عَنْ سَعْدٍ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ رَفَعَهُ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِيَّاكُمْ وَ الْكَذِبَ الْمُفْتَرَعَ قِيلَ لَهُ وَ مَا الْكَذِبُ الْمُفْتَرَعُ قَالَ أَنْ يُحَدِّثَكَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ فَتَرْوِيَهُ عَنْ غَيْرِ الَّذِي حَدَّثَكَ بِهِ.
معانی الأخبار: محمد بن علی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: گھڑے ہوئے اور شاخ دار جھوٹ سے بچو۔ عرض کیا گیا: گھڑا ہوا جھوٹ کیا ہے؟ فرمایا: یہ کہ کوئی شخص تم سے کوئی حدیث بیان کرے اور تم وہ حدیث اُس کی طرف نسبت دیے بغیر کسی اور سے روایت کرو۔
بيان: لم وصف هذا النوع من الكذب بالمفترع قيل لأنه حاجز بين الرجل و بين قبول روايته من فرع فلان بين الشيئين إذا حجز بينهما و قيل لأنه يريد أن
اِس قسم کے جھوٹ کو «کذبِ مفترع» کیوں کہا گیا؟ اُس کی وجہِ تسمیہ میں درج ذیل احتمال کہے گئے ہیں: ۱۔ کیونکہ یہ کلام انسان اور اُس کی روایت کی قبولیت کے درمیان ایک پردہ ہے۔ «مفترع» مادۂ «فرع فلانٌ بین الشیئین» سے ہے، جب دو چیزوں کے درمیان کوئی پردہ ہو۔ ۲۔ کیونکہ وہ شخص واسطوں کو ساقط کر کے