قَالَ كِتَابَتُهُ ١.
فرمایا: اُسے لکھنا۔
«36»- وَ رُوِیَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ يَجْلِسُ إِلَى النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله فَيَسْمَعُ مِنْهُ صلى اللّٰه عليه و آله الْحَدِيثَ فَيُعْجِبُهُ وَ لَا يَحْفَظُهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله اسْتَعِنْ بِيَمِينِكَ وَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ أَيْ خُطَّ.
روایت ہوا ہے کہ انصار کا ایک شخص پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کے پاس بیٹھتا تھا اور آپ سے حدیث سنتا اور تعجب کرتا تھا، مگر وہ احادیث یاد نہ رکھ سکتا تھا۔ پس اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے اِس مشکل کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو ـ اور دستِ مبارک سے لکھنے کی طرف اشارہ فرمایا۔
«37»- وَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عليهما السلام أَنَّهُ دَعَا بَنِيهِ وَ بَنِی أَخِيهِ فَقَالَ إِنَّكُمْ صِغَارُ قَوْمٍ وَ يُوشِكُ أَنْ تَكُونُوا كِبَارَ قَوْمٍ آخَرِينَ فَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ فَمَنْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ أَنْ يَحْفَظَهُ فَلْيَكْتُبْهُ وَ لْيَضَعْهُ فِي بَيْتِهِ.
امام حسن علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے فرزندوں اور اپنے بھائی کے فرزندوں کو بلایا اور فرمایا: تم ایک قوم کے خردسال ہو، قریب ہے کہ تم دوسری قوم کے بزرگ بن جاؤ۔ علم سیکھو؛ تم میں سے جو اُسے یاد نہ رکھ سکے، اُسے چاہیے کہ علم لکھے اور اپنے گھر میں رکھے۔
«38»- وَ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ اكْتُبُوا فَإِنَّكُمْ لَا تَحْفَظُونَ حَتَّى تَكْتُبُوا.
ابوبصیر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: لکھو، کیونکہ تم یاد نہ رکھ سکو گے جب تک نہ لکھو۔
«39»- وَ عَنْهُ عليه السلام قَالَ: الْقَلْبُ يَتَّكِلُ عَلَى الْكِتَابَةِ٢.
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دل لکھے ہوئے پر اعتماد کرتا ہے۔
«40»- وَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام احْتَفِظُوا بِكُتُبِكُمْ فَإِنَّكُمْ سَوْفَ تَحْتَاجُونَ إِلَيْهَا.
عبید بن زرارہ کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اپنی کتابوں کی حفاظت کرو، کیونکہ جلد ہی تم اُن کے محتاج ہو گے۔
«41»- وَ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله أَنَّهُ قَالَ لِبَعْضِ كُتَّابِهِ أَلِقِ الدَّوَاةَ وَ حَرِّفِ الْقَلَمَ وَ انْصِبِ الْبَاءَ وَ فَرِّقِ السِّينَ وَ لَا تُعَوِّرِ الْمِيمَ وَ حَسِّنِ اللَّهَ وَ مُدَّ الرَّحْمَنَ وَ جَوِّدِ الرَّحِيمَ وَ ضَعْ قَلَمَكَ عَلَى أُذُنِكَ الْيُسْرَى فَإِنَّهُ أَذْكَرُ لَكَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے بعض کاتبوں سے فرمایا: دوات میں لیقہ ڈالو، قلم کا سر ترچھا کاٹو، «باء» کو اوپر لکھو، «سین» کے دندانے جدا کرو، «میم» کا سر بڑا لکھو، «اللہ» کو اچھا لکھو، «رحمن» کو مد دو، «رحیم» کو عمدہ لکھو، اور قلم اپنے دائیں کان پر رکھو، کیونکہ یہ کام تمہیں زیادہ یاد دلانے والا ہے۔
«42»- وَ قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: حاضر غائب تک پہنچائے، کیونکہ شاید حاضر اُس شخص تک پہنچائے جو علم کے لیے اُس سے زیادہ ظرفیت رکھتا ہو۔
«43»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ أَدَّى إِلَى أُمَّتِي حَدِيثاً يُقَامُ بِهِ سُنَّةٌ أَوْ يُثْلَمُ بِهِ بِدْعَةٌ فَلَهُ الْجَنَّةُ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو میری امت تک ایک ایسی حدیث پہنچائے جس سے میری سنت قائم ہو یا کسی بدعت میں رخنہ پڑے، اُس کے لیے جنت ہے۔
«44»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ تَعَلَّمَ حَدِيثَيْنِ اثْنَيْنِ يَنْفَعُ بِهِمَا نَفْسَهُ أَوْ يُعَلِّمُهُمَا غَيْرَهُ فَيَنْتَفِعُ بِهِمَا كَانَ خَيْراً مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو دو حدیثیں سیکھے جن سے وہ خود فائدہ اٹھائے یا کسی دوسرے کو سکھائے تاکہ دوسرا فائدہ اٹھائے، یہ ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
«45»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله تَذَاكَرُوا وَ تَلَاقَوْا وَ تَحَدَّثُوا فَإِنَّ الْحَدِيثَ جِلَاءُ الْقُلُوبِ إِنَّ الْقُلُوبَ لَتَرِينُ كَمَا يَرِينُ السَّيْفُ وَ جِلَاؤُهُ الْحَدِيثُ.
آپس میں مذاکرہ کرو، ایک دوسرے کی ملاقات کو جاؤ اور ایک دوسرے سے حدیث بیان کرو، کیونکہ حدیث دلوں کو نورانی کرتی ہے۔ بے شک دلوں کو ویسے ہی زنگ لگتا ہے جیسے تلوار کو، اور دل کا صیقل حدیث ہے۔