«20»- نی، الغيبة للنعماني قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عليهما السلام اعْرِفُوا مَنَازِلَ شِيعَتِنَا عَلَى قَدْرِ رِوَايَتِهِمْ عَنَّا وَ فَهْمِهِمْ مِنَّا.
الغیبۃ للنعمانی: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے شیعوں کا مرتبہ اُس کے مطابق پہچانو جو وہ ہم سے روایت کرتے ہیں اور ہماری احادیث کے اُن کے فہم کے مطابق۔
«21»- جا، المجالس للمفيد ابْنُ قُولَوَيْهِ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنْ هَارُونَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ أَسْبَاطٍ عَنِ ابْنِ عَمِيرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام إِذَا حَدَّثْتَنِي بِحَدِيثٍ فَأَسْنِدْهُ لِي فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله عَنْ جَبْرَئِيلَ عليه السلام عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كُلُّ مَا أُحَدِّثُكَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَ قَالَ يَا جَابِرُ لَحَدِيثٌ وَاحِدٌ تَأْخُذُهُ عَنْ صَادِقٍ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَ مَا فِيهَا.
مجالسِ مفید: عمرو بن شمر نے جابر سے روایت کی کہ میں نے امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: جب آپ ہمیں کوئی حدیث بیان کریں تو اُسے سند کے ساتھ بیان فرمائیں۔ فرمایا: مجھ سے میرے والد نے، اُنہوں نے میرے جد سے، اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے، اُنہوں نے جبرئیل سے، اُنہوں نے اللہ عزوجل سے حدیث بیان کی ـ اور وہ تمام احادیث جو میں تمہیں بیان کرتا ہوں اِسی سند کے ساتھ ہیں۔ اور فرمایا: اے جابر! ایک حدیث جو تم کسی سچے شخص سے لو، تمہارے لیے دنیا اور جو کچھ اُس میں ہے، اُس سے بہتر ہے۔
«22»- جا، المجالس للمفيد أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ ابْنِ مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ مَهْزِيَارَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ يُونُسَ عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْقَمَّاطِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عليهما السلام قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله يَوْمَ مِنًى فَقَالَ نَضَّرَ اللَّهُ عَبْداً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا وَ بَلَّغَهَا مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا فَكَمْ مِنْ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ وَ كَمْ مِنْ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ عَبْدٍ مُسْلِمٍ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَ النَّصِيحَةُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَ اللُّزُومُ لِجَمَاعَتِهِمْ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ مُحِيطَةٌ مِنْ وَرَائِهِمْ الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَ هُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ.
مجالسِ مفید: ابوخالد قمّاط نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے عیدِ قربان کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: اللہ اُس بندے کو شاد و شاداب کرے جو میری بات سنے اور اُسے یاد رکھے اور اُن تک پہنچائے جنہوں نے نہیں سنی: کتنے ہی فقہ کے حامل ہیں جو خود فقیہ نہیں، اور کتنے ہی فقہ کے حامل ہیں جو فقہ کو اُس تک لے جاتے ہیں جو اُن سے زیادہ فقیہ ہے۔ تین چیزیں ہیں جن میں مسلمان بندے کا دل خیانت نہیں کرتا: ۱۔ عمل میں اللہ کے لیے اخلاص۔ ۲۔ مسلمانوں کے پیشواؤں کے لیے خیرخواہی۔ ۳۔ مسلمانوں کی جماعت کا ساتھ، کیونکہ مسلمانوں کی ایک دوسرے کے لیے دعا سب کو شامل ہوتی ہے۔ مؤمنوں کا خون آپس میں برابر ہے اور وہ اپنے غیروں کے مقابلے میں ایک مضبوط ہاتھ ہیں۔ مسلم معاشرے کے سب سے چھوٹے فرد کی دی ہوئی پناہ سب پر لازم ہے۔
بيان: قال الجزري فيه نضر اللّٰه امرأ سمع مقالتي فوعاها نضره و نضره و أنضره أي نعمه و يروي بالتخفيف و التشديد من النضارة و هي في الأصل حسن الوجه و البريق و إنما أراد حسن خاتمته و قدره انتهی و قيل المراد البهجة و السرور و في بعض الروايات فأداها كما سمعها إما بعدم التغيير أصلا أو بعدم التغيير المخل بالمعنى و سيأتي الكلام فيه و قوله فكم من حامل فقه بهذه الرواية أنسب أي ينبغي أن ينقل اللفظ فرب حامل رواية لم يعرف معناها أصلا و رب حامل رواية يعرف بعض معناها و ينقلها إلى من هو أعرف بمعناها منه و قال الجزري فيه ثلاث لا يغل عليهن قلب مؤمن هو من الإغلال الخيانة في كل شي ء و يروي يغل بفتح الياء من الغل و هو الحقد و الشحناء أي لا يدخله حقد يزيله عن الحق و يروي يغل بالتخفيف من الوغول في الشر و المعنى أن هذه الخلال الثلاث تستصلح بها القلوب فمن تمسك بها طهر قلبه من
جزری کہتے ہیں: «نضر اللہ» مادۂ «نَضَرَہ» اور «نضّرہ» اور «أنضرہ» سے بمعنیٔ اللہ اُسے نعمت دے، اور یہ کلمہ تشدید اور تخفیف دونوں کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور مادۂ «نضارۃ» سے ہے، جو اصل میں چہرے کی خوبصورتی اور نورانیت کو کہتے ہیں۔ اِس حدیث سے مراد یہ ہے: اللہ اُس کی عاقبت اور منزلت بخیر کرے۔ بعض نے کہا ہے: مراد شادابی اور خوشحالی ہے۔ اور بعض روایتوں میں «فأدّاہا کما سمعہا» ہے، یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کی حدیث کو اُسی طرح جیسا اُس نے سنا، ذرہ برابر تبدیلی کے بغیر، یا معنی میں خلل ڈالنے والی تبدیلی کے بغیر، دوسروں تک پہنچائے۔ اِس بارے میں ایک گفتگو آئے گی۔ آپ کا قول: «فکم من حامل فقہ» یعنی اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سزاوار ہے حدیث لفظِ مأثور کے ساتھ نقل کی جائے۔ پس کتنے ہی روایت کے حامل ہیں جنہوں نے اُس کا معنی بالکل نہیں سمجھا، اور کتنے ہی روایت کے حامل ہیں جنہوں نے اُس کا بعض معنی سمجھا اور اُسے اُس تک نقل کرتے ہیں جو اُس حدیث کے معنی کو اُن سے زیادہ جانتا ہے۔ جزری کہتے ہیں: «ثلاث لا یُغِلُّ علیہنّ قلبُ مؤمن»: «غِل» مادۂ «إغلال» سے بمعنیٔ خیانت ہے، ہر چیز میں؛ اور مؤمن کے دل میں کوئی کینہ داخل نہیں ہوتا جو اُسے حق سے دُور کرے۔ اگر «یَغِل» پڑھا جائے تو مادۂ «وُغُول» اور برائی میں ڈوبنے سے ہے، جس سے حدیث کا معنی یوں ہوتا ہے کہ یہ تین چیزیں دل کی اصلاح کا سبب بنتی ہیں، جو اُنہیں تھام لے اُس کا دل