Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 146

بيان: فلقة الجوزة بالكسر بعضها أو نصفها قال الجوهري الفلقة أيضا الكسرة يقال أعطني فلقة الجفنة و هي نصفها و المعنى أن جميع الدنيا حاضرة عند علم الإمام يعلم ما يقع فيها كنصف جوزة يكون في يد أحدكم ينظر إليه و إنما قال عليه السلام فحوله في أديم و في بعض النسخ إلى أديم ليكون أدوم و أكثر بقاء من القرطاس لاهتمامه بضبط هذا الحديث و يظهر منه استحباب كتابة الحديث و ضبطه و الاعتناء به و كون ما يكتب فيه الحديث شيئا لا يسرع إليه الاضمحلال لا سيما الأخبار المتعلقة بفضائلهم و مناقبهم عليهم السلام.

«فِلقۃ الجوزۃ» اخروٹ کا کچھ حصہ یا اُس کا نصف۔ جوہری کہتے ہیں: «فلقہ» کسی چیز کے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ «أعطنی فلقۃ الجفنۃ» یعنی مجھے آدھا پیالہ دو۔ حدیث کا معنی یوں ہے کہ تمام دنیا امام علیہ السلام کے علم کے سامنے حاضر ہے، جو کچھ اُس میں واقع ہوتا ہے آپ جانتے ہیں، جیسے آدھا اخروٹ تم میں سے کسی کی ہتھیلی میں ہو اور تم اُسے دیکھ رہے ہو۔ آپ کا یہ فرمانا کہ «اُسے چمڑے پر منتقل کر لو»، حدیث کے ضبط کے بارے میں آپ کے اہتمام کے سبب تھا تاکہ وہ کاغذ سے زیادہ پائیدار اور دیرپا ہو۔ اور اِس حدیث سے حدیث لکھنے اور ضبط کرنے کا استحباب ظاہر ہوتا ہے کہ اُسے کسی ایسی چیز پر لکھیں جو زیادہ دیرپا ہو، خصوصاً اہلِ بیت علیہم السلام کے فضائل و مناقب کی روایات۔

«13»- سن، المحاسن أَبِي عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَلَبِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام مَا أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ وَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ وَ لَأَنْصَحَنَّ لَكُمْ وَ كَيْفَ لَا أَنْصَحُ لَكُمْ وَ أَنْتُمْ وَ اللَّهِ جُنْدُ اللَّهِ وَ اللَّهِ مَا يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ فَخُذُوهُ وَ لَا تُذِيعُوهُ وَ لَا تَحْبِسُوهُ عَنْ أَهْلِهِ فَلَوْ حَبَسْتُ عَنْكُمْ يُحْبَسُ عَنِّي.

المحاسن: حلبی کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میرا ارادہ نہ تھا کہ تم سے بات کروں، مگر میں ضرور تم سے بات کروں گا اور تمہیں نصیحت کروں گا؛ اور میں کیسے نصیحت نہ کروں، جبکہ اللہ کی قسم تم اللہ کا لشکر ہو۔ اللہ کی قسم، تمہارے سوا کسی دین کے لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ ہماری وہ حدیث لے لو اور اُسے ضائع نہ کرو اور اُس کے اہل سے نہ روکو؛ کیونکہ اگر میں تم سے روکوں تو مجھ سے روک لی جائے گی [اور دوسروں تک نہ پہنچے گی]۔

بيان: لعل المراد أني قبل ذلك ما كنت أريد أن أحدثكم إما لعدم قابليتكم أو للتقية و لكن الآن أحدثكم لرفع هذا المانع و حمله علی الاستفهام الإنكاري بعيد و قوله عليه السلام و لا تذيعوه أي عند غير أهله و قوله فلو حبست عنكم لحبس عني حث على بذله لأهله بأن الحبس عنهم يوجب الحبس عنكم.

شاید امام کی اِس حدیث سے مراد یہ ہو کہ پہلے تمہاری عدمِ قابلیت کے سبب یا تقیہ کے سبب میں تم سے حدیث بیان نہ کرتا تھا، لیکن اب اُس مانع کے دُور ہو جانے کے سبب تم سے حدیث بیان کرتا ہوں۔ بعید ہے کہ ہم حدیث کو استفہامِ انکاری پر محمول کریں۔ «و لا تضیعوہ» یعنی جو اُس کی اہلیت نہیں رکھتا، اُس سے حدیث بیان نہ کرو۔ «فلو حبست عنکم لحُبس عنی» اُن لوگوں کے لیے حدیث کی ترغیب ہے جو اُس کے اہل ہوں، اِس طور پر کہ اُن سے حدیث کا روکنا تم سے روکے جانے کا سبب بنے گا۔

«14»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ يُونُسَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: سَارِعُوا فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَحَدِيثٌ وَاحِدٌ فِي حَلَالٍ وَ حَرَامٍ تَأْخُذُهُ عَنْ صَادِقٍ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَ مَا حَمَلَتْ مِنْ ذَهَبٍ وَ فِضَّةٍ وَ ذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَ إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لَيَأْمُرُ بِقِرَاءَةِ الْمُصْحَفِ.

المحاسن: جابر نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: علم سیکھنے میں جلدی کرو۔ قسم اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، حلال و حرام میں ایک حدیث جو تم کسی سچے آدمی سے لو، دنیا اور جو کچھ اُس میں ہے اور دنیا کے تمام سونے چاندی سے بہتر ہے ـ قرآن کی اِس آیت کے مطابق: «ما آتاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا» {اور جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو، اور جس سے تمہیں روکے اُس سے رُک جاؤ۔} اگر علی علیہ السلام ہوتے تو قرآن پڑھنے کا حکم فرماتے۔

بيان: يظهر من استشهاده بالآية أن الأخذ فيها شامل للتعلم و العمل و إن احتمل أن يكون الاستشهاد من جهة أن العمل يتوقف على العلم و إن في قوله و إن كان مخففة.

آیتِ مبارکہ سے استشہاد سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کا لینا سیکھنے اور عمل کرنے دونوں کو شامل ہے۔ اگرچہ احتمال ہے کہ آیت سے استشہاد اِس سبب ہو کہ عمل علم پر موقوف ہے، اور یہ کہ علی علیہ السلام علم پر توقف رکھتے ہیں۔ اور حدیث میں «ان» مخففہ از مثقلہ ہے۔

«15»- سن، المحاسن بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنِ ابْنِ أَسْبَاطٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: قَالَ لِي يَا جَابِرُ وَ اللَّهِ لَحَدِيثٌ تُصِيبُهُ مِنْ

المحاسن: جابر نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی: آپ نے مجھ سے فرمایا: اللہ کی قسم اے جابر! ایک حدیث اُس آدمی سے