«7»- مع، معاني الأخبار أَبِي عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّوْفَلِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ دَاوُدَ الْيَعْقُوبِيِّ عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عَلِيٍّ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله اللَّهُمَّ ارْحَمْ خُلَفَائِي اللَّهُمَّ ارْحَمْ خُلَفَائِي اللَّهُمَّ ارْحَمْ خُلَفَائِي قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَنْ خُلَفَاؤُكَ قَالَ الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي يَرْوُونَ حَدِيثِي وَ سُنَّتِي ١.
معانی الأخبار: علی علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اے اللہ! میرے خلیفوں پر رحم کر، اے اللہ! میرے خلیفوں پر رحم کر، اے اللہ! میرے خلیفوں پر رحم کر۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کے خلیفے کون ہیں؟ فرمایا: وہ لوگ جو میرے بعد آئیں اور میری حدیث اور سنت روایت کریں۔
«8»- ير، بصائر الدرجات أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ سَعْدَانَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام رَجُلٌ رَاوِيَةٌ لِحَدِيثِكُمْ يَبُثُّ ذَلِكَ إِلَى النَّاسِ وَ يُشَدِّدُهُ فِي قُلُوبِ شِيعَتِكُمْ وَ لَعَلَّ عَابِداً مِنْ شِيعَتِكُمْ لَيْسَتْ لَهُ هَذِهِ الرِّوَايَةُ أَيُّهُمَا أَفْضَلُ قَالَ رَاوِيَةٌ لِحَدِيثِنَا يَبُثُّ فِي النَّاسِ وَ يُشَدِّدُ فِي قُلُوبِ شِيعَتِنَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ.
بصائر الدرجات: معاویۃ بن عمار کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: ایک شخص جو آپ کی حدیث روایت کرے اور اُسے لوگوں میں پھیلائے اور اُس سے آپ کے شیعوں کے دل مضبوط کرے؛ اور شاید آپ کے شیعوں میں سے کوئی عابد ہو جو یہ کام نہ کر سکے ـ اِن میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا: وہ راوی جو ہماری احادیث لوگوں میں بہت پھیلائے اور ہمارے شیعوں کا دل مضبوط کرے، ہزار عابد سے بہتر ہے۔
بيان: الراوية صيغة مبالغة أي كثير الرواية.
«راویہ» صیغۂ مبالغہ ہے، بمعنیٔ بہت روایت کرنے والا شخص۔
«9»- ير، بصائر الدرجات ابْنُ عِيسَى عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَنْ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا فَقِيهٌ رَاوِيَةٌ لِلْحَدِيثِ وَ الْآخَرُ لَيْسَ لَهُ مِثْلُ رِوَايَتِهِ فَقَالَ الرَّاوِيَةُ لِلْحَدِيثِ الْمُتَفَقِّهُ فِي الدِّينِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ لَا فِقْهَ لَهُ وَ لَا رِوَايَةَ.
بصائر الدرجات: معاویۃ بن وہب کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے دو آدمیوں کے بارے میں پوچھا، جن میں سے ایک فقیہ اور بہت حدیث روایت کرنے والا ہے اور دوسرے کی روایت اُس شخص کے برابر نہیں۔ فرمایا: بہت حدیث روایت کرنے والا اور دین میں تفقہ کرنے والا، اُن ہزار عابدوں سے بہتر ہے جو نہ تفقہ رکھتے ہیں نہ روایت۔
«10»- سن، المحاسن الْقَاسِمُ عَنْ جَدِّهِ عَنِ ابْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام ذِكْرُنَا أَهْلَ الْبَيْتِ شِفَاءٌ مِنَ الْوَعْكِ ٢ وَ الْأَسْقَامِ وَ وَسْوَاسِ الرَّيْبِ وَ حُبُّنَا رِضَى الرَّبِّ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى.
المحاسن: محمد بن مسلم نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: ہم اہلِ بیت علیہم السلام کی یاد بخار کے درد، بیماریوں اور شک پیدا کرنے والے وسوسوں کی شفا ہے، اور ہماری محبت پروردگار کی رضا ہے۔
«11»- ير، بصائر الدرجات عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُعْفِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الرِّضَا عليه السلام وَ مَعِي صَحِيفَةٌ أَوْ قِرْطَاسٌ فِيهِ عَنْ جَعْفَرٍ عليه السلام إِنَّ الدُّنْيَا مُثِّلَتْ لِصَاحِبِ هَذَا الْأَمْرِ فِي مِثْلِ فِلْقَةِ الْجَوْزَةِ فَقَالَ يَا حَمْزَةُ ذَا وَ اللَّهِ حَقٌّ فَانْقُلُوهُ إِلَى أَدِيمٍ.
بصائر الدرجات: حمزۃ بن عبدالمطلب بن عبداللہ جعفی کہتے ہیں: میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا اور میرے پاس ایک دفترچہ یا کاغذ تھا جس میں یہ حدیث لکھی تھی: امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: دنیا شیعہ کے لیے اخروٹ کے چھلکے کے نصف کی مانند ہے۔ آپ نے فرمایا: اے حمزہ! اللہ کی قسم یہ حدیث حق ہے، اُسے چمڑے پر لکھ لو۔
«12»- ير، بصائر الدرجات عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَمَّنْ رَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَعْفَرِيِّ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: كَتَبْتُ فِي ظَهْرِ قِرْطَاسٍ أَنَّ الدُّنْيَا مُمَثَّلَةٌ لِلْإِمَامِ كَفِلْقَةِ الْجَوْزَةِ فَدَفَعْتُهُ إِلَى أَبِي الْحَسَنِ عليه السلام وَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّ أَصْحَابَنَا رَوَوْا حَدِيثاً مَا أَنْكَرْتُهُ غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ قَالَ فَنَظَرَ فِيهِ ثُمَّ طَوَاهُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هُوَ حَقٌّ فَحَوِّلْهُ فِي أَدِيمٍ.
بصائر الدرجات: حمزۃ بن عبداللہ جعفری نے ابوالحسن سے روایت کی کہ اُنہوں نے کہا: میں نے کاغذ پر لکھا: امام کے نزدیک دنیا کی مثال نصف اخروٹ کی مانند ہے، اور اُسے امام ہادی علیہ السلام کے پاس لے گیا اور عرض کیا: میں آپ پر فدا ہوں! ہمارے اصحاب میں سے کوئی ایک حدیث روایت کرتا ہے جس کا ہم انکار نہیں کرتے، البتہ میں پسند کرتا ہوں کہ اُسے آپ سے سنوں۔ ـ کہا: ـ پھر آپ نے اُس پر ایک نظر ڈالی اور اُسے لپیٹ دیا۔ میں نے گمان کیا کہ آپ پر گراں گزرا۔ پھر فرمایا: وہ حق ہے، اُسے چمڑے پر منتقل کر لو۔