Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 144

باب 19 فضل كتابة الحديث و روايته

باب انیسواں: حدیث لکھنے اور اُس کی روایت کی فضیلت

«1»- لي، الأمالي للصدوق عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله الْمُؤْمِنُ إِذَا مَاتَ وَ تَرَكَ وَرَقَةً وَاحِدَةً عَلَيْهَا عِلْمٌ تَكُونُ تِلْكَ الْوَرَقَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِتْراً فِيمَا بَيْنَهُ وَ بَيْنَ النَّارِ وَ أَعْطَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى بِكُلِّ حَرْفٍ مَكْتُوبٍ عَلَيْهَا مَدِينَةً أَوْسَعَ مِنَ الدُّنْيَا سَبْعَ مَرَّاتٍ.

امالیِ صدوق: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو مؤمن بھی مر جائے اور اُس سے ایک ورق باقی رہ جائے جس پر کوئی علم ہو، وہ ورق قیامت کے دن اُس کے اور دوزخ کے درمیان پردہ بن جائے گا، اور اللہ تبارک و تعالیٰ اُس پر لکھے ہوئے ہر حرف کے بدلے اُسے ایک شہر دے گا جو دنیا سے سات گنا بڑا ہو گا۔

«2»- وَ نُقِلَ مِنْ خَطِّ الشَّهِيدِ الثَّانِي قُدِّسَ سِرُّهُ نَقْلًا مِنْ خَطِّ قُطْبِ الدِّينِ الْكَيْدُرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله مِثْلَهُ وَ زَادَ فِي آخِرِهِ وَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَقْعُدُ سَاعَةً عِنْدَ الْعَالِمِ إِلَّا نَادَاهُ رَبُّهُ جَلَسْتَ إِلَى حَبِيبِي وَ عِزَّتِي وَ جَلَالِي لَأُسْكِنَنَّكَ الْجَنَّةَ مَعَهُ وَ لَا أُبَالِي.

شہیدِ ثانی کے قلم سے، قطب الدین کیدری کے قلم سے، پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے اُسی کی مانند نقل ہوا ہے اور اُس کے آخر میں اضافہ کیا ہے: کوئی مؤمن ایسا نہیں جو ایک گھڑی کسی عالم کے پاس بیٹھے مگر یہ کہ اُس کا پروردگار اُسے ندا دیتا ہے: تم میرے دوست کے پاس بیٹھے! میری عزت و جلال کی قسم، میں تمہیں اُنہی کے ساتھ جنت میں بساؤں گا اور مجھے کوئی پروا نہیں۔

وَ رَوَاهُ فِي كِتَابِ الدُّرَّةِ الْبَاهِرَةِ مِنَ الْأَصْدَافِ الطَّاهِرَةِ.

اور یہ حدیث اُنہوں نے کتاب «درۃ الباہرۃ من الأصداف الطاہرۃ» میں روایت کی ہے۔

«3»- لي، الأمالي للصدوق ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَسَّانَ الرَّازِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَلَوِيِّ الْعُمَرِيِّ عَنْ آبَائِهِ عَنْ عَلِيٍّ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله اللَّهُمَّ ارْحَمْ خُلَفَائِي ثَلَاثاً قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَنْ خُلَفَاؤُكَ قَالَ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ حَدِيثِي وَ سُنَّتِي ثُمَّ يُعَلِّمُونَهَا أُمَّتِي.

امالیِ صدوق: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے تین بار فرمایا: اے اللہ! میرے خلیفوں پر رحم کر۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کے خلیفے کون ہیں؟ فرمایا: وہ لوگ جو میری حدیث اور سنت کی تبلیغ کریں اور میری امت کو سکھائیں۔

«4»- ن، عيون أخبار الرضا عليه السلام بِالْأَسَانِيدِ الثَّلَاثَةِ عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عليهم السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله اللَّهُمَّ ارْحَمْ خُلَفَائِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَنْ خُلَفَاؤُكَ قَالَ الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي وَ يَرْوُونَ أَحَادِيثِي وَ سُنَّتِي فَيُسَلِّمُونَهَا النَّاسَ مِنْ بَعْدِی.

عیون أخبار الرضا علیہ السلام: تین سندوں سے امام رضا علیہ السلام نے اپنے آباء سے، اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کی کہ آپ نے تین بار فرمایا: اے اللہ! میرے خلیفوں پر رحم کر۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کے خلیفے کون ہیں؟ فرمایا: وہ لوگ جو میرے بعد آئیں اور میری حدیث اور سنت کی تبلیغ کریں اور اُنہیں میرے بعد کے لوگوں کے سپرد کریں۔

صح، صحيفة الرضا عليه السلام عنه عليه السلام مثله

صحیفۃ الرضا علیہ السلام: اوپر والی حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔

غو، غوالي اللئالي عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله مِثْلَهُ وَ زَادَ فِي آخِرِهِ أُولَئِكَ رُفَقَائِي فِي الْجَنَّةِ

عوالی اللئالی: کتاب عوالی اللئالی میں پیغمبر سے اُسی کی مانند روایت کی اور اُس کے آخر میں اضافہ کیا: وہ جنت میں میرے رفیق ہیں۔

«5»- لي، الأمالي للصدوق ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ ابْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ خَطَّابِ بْنِ مَسْلَمَةَ عَنِ الْفُضَيْلِ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام يَا فُضَيْلُ إِنَّ حَدِيثَنَا يُحْيِي الْقُلُوبَ.

امالیِ صدوق: فضیل کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے فضیل! ہماری احادیث دلوں کو زندہ کرتی ہیں۔

«6»- ل، الخصال أَبِی عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُمْرَانَ عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام تَزَاوَرُوا فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ ذَلِكَ حَيَاةٌ لِأَمْرِنَا رَحِمَ اللَّهُ عَبْداً أَحْيَا أَمْرَنَا.

الخصال: خیثمہ کہتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اپنے گھروں میں ایک دوسرے کی زیارت کرو، کیونکہ یہ کام ہماری ولایت کے زندہ ہونے کا سبب بنتا ہے؛ اللہ اُس بندے پر رحم کرے جو ہماری ولایت کو زندہ کرے۔