الْمُمَارِيَ قَدْ تَمَّتْ خَسَارَتُهُ ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُمَارِيَ لَا أَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَرُوا الْمِرَاءَ فَأَنَا زَعِيمٌ بِثَلَاثَةِ أَبْيَاتٍ فِي الْجَنَّةِ فِي رِيَاضِهَا١وَ أَوْسَطِهَا وَ أَعْلَاهَا لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَ هُوَ صَادِقٌ ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ مَا نَهَانِي عَنْهُ رَبِّي بَعْدَ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ الْمِرَاءُ.
کو چھوڑ دو، کیونکہ جدال کرنے والے کا نقصان مکمل ہے۔ اور جدال چھوڑ دو، کیونکہ قیامت کے دن میں جدال کرنے والے کی شفاعت نہ کروں گا۔ جدال چھوڑ دو، کیونکہ میں اُس شخص کے لیے جو مراء چھوڑ دے جبکہ وہ سچا ہو، جنت میں تین گھروں کا ضامن ہوں: ایک گھر جنت کے وسط میں، ایک گھر جنت کے بالائی حصے میں، اور ایک گھر جنت کے نچلے حصے میں۔ جدال چھوڑ دو، کیونکہ سب سے پہلی چیز جس سے اللہ نے مجھے بتوں کی پرستش کے بعد منع فرمایا، یہی مراء تھی۔
«55»- وَ عَنْهُ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: ثَلَاثٌ مَنْ لَقِىَ اللَّهَ بِهِنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ بَابٍ شَاءَ مَنْ حَسُنَ خُلُقُهُ وَ خَشِيَ اللَّهَ فِي الْمَغِيبِ وَ الْمَحْضَرِ وَ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَ إِنْ كَانَ مُحِقّاً.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو اللہ سے تین چیزوں کے ساتھ ملے، وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو گا: وہ جو خوش اخلاق ہو، وہ جو کھلے اور چھپے میں اللہ سے ڈرے، اور وہ جو جدال چھوڑ دے خواہ حق اُسی کے ساتھ ہو۔
«56»- وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام إِيَّاكُمْ وَ الْمِرَاءَ وَ الْخُصُومَةَ فَإِنَّهُمَا يُمْرِضَانِ الْقُلُوبَ عَلَى الْإِخْوَانِ وَ يَنْبُتُ عَلَيْهِمَا النِّفَاقُ.
امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: جدال اور دشمنی سے بچو، کیونکہ وہ دونوں دینی بھائیوں کے دلوں کو بیمار کرتے ہیں اور نفاق کا بیج اگاتے ہیں۔
«57»- وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قَالَ جَبْرَئِيلُ عليه السلام لِلنَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله إِيَّاكَ وَ مُلَاحَاةَ الرِّجَالِ.
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جبرئیل علیہ السلام نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ سے کہا: لوگوں سے جھگڑالو پن سے بچو۔
«58»- كِتَابُ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ الْحَذَّاءِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عليه السلام يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَ أَصْحَابَ الْخُصُومَاتِ وَ الْكَذَّابِينَ فَإِنَّهُمْ تَرَكُوا مَا أُمِرُوا بِعِلْمِهِ وَ تَكَلَّفُوا مَا لَمْ يُؤْمَرُوا بِعِلْمِهِ حَتَّى تَكَلَّفُوا عِلْمَ السَّمَاءِ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ خَالِقِ النَّاسَ بِأَخْلَاقِهِمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ إِنَّا لَا نَعُدُّ الرَّجُلَ فِينَا عَاقِلًا حَتَّى يَعْرِفَ لَحْنَ الْقَوْلِ ثُمَّ قَرَأَ عليه السلام وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ وَ اللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمالَكُمْ تقدم الحديث عن كشف المحجة تحت الرقم 47.
کتاب عاصم بن حمید: ابوعبیدہ حذّاء نے کہا: میں نے امام باقر علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: جھوٹوں اور جھگڑالوؤں سے دُور رہو، کیونکہ اُنہوں نے جس کے جاننے کا حکم دیا گیا تھا اُسے چھوڑ دیا اور جس کے جاننے کا حکم نہ تھا اُس میں خود کو تکلف میں ڈالا، یہاں تک کہ آسمان کے علم کو بھی اپنا فریضہ سمجھا۔ اے ابوعبیدہ! لوگوں سے اُنہی کے اخلاق کے مطابق پیش آؤ؛ ہم اپنے میں سے کسی کو عاقل نہیں سمجھتے جب تک وہ لہجۂ گفتار کو نہ پہچانے: «وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِی لَحْنِ الْقَوْلِ وَ اللَّهُ یَعْلَمُ أَعْمالَکُمْ» {اور لہجۂ گفتار سے تم اُن کے [حال] کو پہچان لو گے؛ اور اللہ تمہارے اعمال جانتا ہے۔}
«59»- كِتَابُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ أُنَاساً دَخَلُوا عَلَى أَبِي رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَذَكَرُوا لَهُ خُصُومَتَهُمْ مَعَ النَّاسِ فَقَالَ لَهُمْ هَلْ تَعْرِفُونَ كِتَابَ اللَّهِ مَا كَانَ فِيهِ نَاسِخٌ أَوْ مَنْسُوخٌ قَالُوا لَا فَقَالَ لَهُمْ وَ مَا حَمَلَكُمْ عَلَى الْخُصُومَةِ لَعَلَّكُمْ تُحِلُّونَ حَرَاماً أَوْ تُحَرِّمُونَ حَلَالًا وَ لَا تَدْرُونَ إِنَّمَا يَتَكَلَّمُ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنْ يَعْرِفُ حَلَالَ اللَّهِ وَ حَرَامَهُ قَالُوا لَهُ أَ تُرِيدُ أَنْ نَكُونَ مُرْجِئَةً قَالَ لَهُمْ أَبِي وَيْحَكُمْ مَا أَنَا بِمُرْجِئِيٍّ وَ لَكِنْ أَمَرْتُكُمْ بِالْحَقِّ.
کتاب جعفر بن محمد بن شریح: جابر جعفی کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: ایک گروہ میرے والد کے پاس آیا اور لوگوں سے اپنے جھگڑوں کا ذکر کیا۔ میرے والد نے اُن سے فرمایا: کیا تمہیں قرآن کے ناسخ و منسوخ کا علم ہے؟ اُنہوں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: پھر کس چیز نے تمہیں دشمنی پر آمادہ کیا؟ شاید تم ناواقفی میں کسی حلال کو حرام کر دو یا کسی حرام کو حلال بنا دو۔ قرآن کے بارے میں صرف وہی بول سکتا ہے جو اللہ کے حلال و حرام کو پہچانتا ہو۔ اُس گروہ نے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم مرجئہ ہو جائیں؟ میرے والد نے فرمایا: تم پر افسوس! میں مرجئی نہیں ہوں، میں تمہیں حق کا حکم دے رہا ہوں۔
«60»- وَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَدْعُو أَصْحَابَهُ مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْراً سَمِعَ وَ عَرَفَ مَا يَدْعُوهُ إِلَيْهِ وَ مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ شَرّاً طَبَعَ عَلَى قَلْبِهِ فَلَا يَسْمَعُ وَ لَا يَعْقِلُ وَ ذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ إِذا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكَ قالُوا
جابر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ اپنے اصحاب کو بلاتے تھے، اور جس کے لیے اللہ خیر چاہتا وہ سنتا اور آپ کی دعوت سمجھ لیتا، اور جس کے لیے اللہ شر چاہتا، اُس کے دل پر مہر لگا دیتا، پس وہ نہ سنتا اور نہ غور کرتا؛ اور یہی آیتِ مبارکہ کا معنی ہے: «حَتَّی إِذا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِکَ قالُوا لِلَّذِینَ أُوتُوا الْعِلْمَ ما ذا قالَ آنِفاً أُولئِکَ الَّذِینَ طَبَعَ اللَّهُ عَلی قُلُوبِهِمْ»،