Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 138

لَحْنَ الْقَوْلِ وَ هُوَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ ١.

یہ کہ وہ لحنِ قول کو جانے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے جو فرماتا ہے: «وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِی لَحْنِ الْقَوْلِ» {اور لہجۂ گفتار سے تم اُن کے [حال] کو پہچان لو گے}۔

«48»- وَ مِنَ الْكِتَابِ الْمَذْكُورِ عَنْ جَمِيلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ مُتَكَلِّمُو هَذِهِ الْعِصَابَةِ مِنْ شِرَارِ مَنْ هُمْ مِنْهُمْ.

اور اِسی طرح عبداللہ بن حمّاد انصاری کی کتاب میں اُس نسخے میں جو ہارون بن موسیٰ تلعکبری پر پڑھا گیا، میں نے پایا: جمیل بن درّاج کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: اِس طائفے کے متکلمین اِس طائفے کے بدترین لوگوں میں سے ہیں۔

قال السيد رحمه اللّٰه و يحتمل أن يكون المراد بهذا الحديث يا ولدي المتكلمين الذين يطلبون بكلامهم و علمهم ما لا يرضاه اللّٰه جل جلاله أو يكونون ممن يشغلهم الاشتغال بعلم الكلام عما هو واجب عليهم من فرائض اللّٰه جل جلاله ثم قال رحمه اللّٰه و مما يؤكد تصديق الروايات بالتحذير من علم الكلام و ما فيه من الشبهات أنني وجدت الشيخ العالم سعيد بن هبة اللّٰه الراوندي قد صنف كراسا و هي عندي الآن في الخلاف الذي تجدد بين الشيخ المفيد و المرتضی رحمهما اللّٰه و كانا من أعظم أهل زمانهما و خاصة شيخنا المفيد فذكر في الكراس نحو خمس و تسعين مسألة قد وقع الخلاف بينهما فيها من علم الأصول و قال في آخرها لو استوفيت ما اختلفا فيه لطال الكتاب و هذا يدلك على أنه طريق بعيد عن معرفة رب الأرباب.

پھر سید بن طاؤس کہتے ہیں: اے میرے فرزند! شاید اِس حدیث میں متکلمین سے مراد وہ ہوں جو اپنے کلام اور علم سے وہ طلب کرتے ہیں جس سے اللہ راضی نہیں؛ یا مراد وہ لوگ ہوں جنہیں علمِ کلام میں مشغولیت اُس چیز سے روکتی ہے جو فرائضِ الٰہی میں سے زیادہ واجب ہے۔ اور میں نے خود علمِ کلام سے منسوب لوگوں میں ایسے لوگ دیکھے ہیں جن میں اِس علم نے اسلام کے اہم مسائل میں شکوک و شبہات باقی چھوڑے ہیں۔ اور اُن چیزوں میں سے جو اُن روایات کی صحت پر گواہ ہیں جو علمِ کلام اور اُس کے شبہات سے منع کرتی ہیں، یہ ہے کہ علومِ کثیرہ کے عالم قطب الدین راوندی سعد بن ہبۃ اللہ ـ رحمہ اللہ ـ نے ایک رسالہ تصنیف کیا جو میرے پاس موجود ہے، اور اُس رسالے میں اُنہوں نے شیخِ مفید اور سیدِ مرتضیٰ کے درمیان واقع ہونے والے اختلافات جمع کیے ہیں ـ حالانکہ وہ دونوں بزرگوار، خصوصاً شیخِ مفید، اپنے زمانے کے اعاظم میں سے تھے ـ اور اُس رسالے میں اُنہوں نے علمِ اصول میں اِن دو بزرگواروں کے درمیان تقریباً پچانوے اختلافی مسائل ذکر کیے ہیں، اور اُس کے آخر میں فرمایا ہے: اگر میں اُن تمام مسائل کو شمار کروں جن میں اُنہوں نے اختلاف کیا تو ایک طویل کتاب بن جائے۔ اور یہ خود اِس بات کی دلیل ہے کہ علمِ کلام ربّ الارباب کی معرفت کی راہ سے کتنا دُور ہے۔

«49»- كَنْزُ الْكَرَاجُكِيِّ، قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام إِيَّاكُمْ وَ الْجِدَالَ فَإِنَّهُ يُورِثُ الشَّكَّ فِي دِينِ اللَّهِ.

کنز الکراجکی: حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: خبردار! گفتگو میں جھگڑالو نہ بنو کہ یہ دینِ خدا میں تردد کا سبب ہے۔

«50»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّهُ لَا تُفْهَمُ حِكْمَتُهُ وَ لَا تُؤْمَنُ فِتْنَتُهُ.

منیۃ المرید: پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جدال اور جھگڑالو پن کو ایک طرف رکھ دو، کیونکہ اُس کی حکمت تم نہیں سمجھتے اور اُس کے فتنے سے امان میں نہیں رہتے۔

«51»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَ هُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ وَ مَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَ هُوَ مُبْطِلٌ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ.

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اگر کوئی جدال چھوڑ دے جبکہ وہ خود کو حق پر سمجھتا ہو، تو اُس کے لیے جنت کے بلند ترین درجوں میں ایک گھر مہیا کیا جاتا ہے؛ اور اگر کوئی جدال سے باز رہے جبکہ حق اُس کے ساتھ نہ ہو، تو اُس کے لیے جنت کے وسط میں ایک گھر بنایا جاتا ہے۔

«52»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله مَا ضَلَّ قَوْمٌ إِلَّا أَوْثَقُوا الْجَدَلَ.

اور فرمایا: کوئی گروہ گمراہ نہ ہوا مگر یہ کہ اُس نے جدال اور جھگڑالو پن کو مضبوط کیا۔

«53»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله لَا يَسْتَكْمِلُ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَدَعَ الْمِرَاءَ وَ إِنْ كَانَ مُحِقّاً.

اور فرمایا: بندے کے ایمان کی حقیقت مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ جدال نہ چھوڑ دے، خواہ وہ حق پر ہو۔

«54»- وَ رُوِیَ عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ وَ أَبِي أُمَامَةَ وَ وَاثِلَةَ وَ أَنَسٍ قَالُوا خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله يَوْماً وَ نَحْنُ نَتَمَارَى فِي شَيْ ءٍ مِنْ أَمْرِ الدِّينِ فَغَضِبَ غَضَباً شَدِيداً لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِهَذَا ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُمَارِي ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَ

ابوالدرداء، ابوامامہ، واثلہ اور انس کہتے ہیں: ایک دن ہم کسی دینی مسئلے میں ایک دوسرے سے جدال کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ہم پر وارد ہوئے اور ایسے غضبناک ہوئے کہ ویسا غصہ آپ میں کبھی نہ دیکھا گیا تھا۔ پھر فرمایا: تم سے پہلے والے اِسی سبب سے ہلاک ہوئے۔ جدال چھوڑ دو، کیونکہ مؤمن جدال نہیں کرتا۔ جدال اور مراء

(١)1- أتی عن كتاب عاصم تحت الرقم 58کتابِ عاصم سے نمبر ۵۸ کے تحت آیا۔