Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 130

بيان: المجاراة الجري مع الخصم في المناظرة.

«مجاراۃ» کا معنی مناظرے میں دشمن کے ساتھ کشمکش ہے۔

«15»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي الْمُفِيدُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ حَمْزَةَ الْحَسَنِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ بَزِيعٍ ١ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّادِقِ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ اسْمَعُوا مِنِّي كَلَاماً هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنَ الدُّهْمِ الْمُوقَفَةِ لَا يَتَكَلَّمْ أَحَدُكُمْ بِمَا لَا يَعْنِيهِ وَ لْيَدَعْ كَثِيراً مِنَ الْكَلَامِ فِيمَا يَعْنِيهِ حَتَّى يَجِدَ لَهُ مَوْضِعاً فَرُبَّ مُتَكَلِّمٍ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ جَنَى عَلَى نَفْسِهِ بِكَلَامِهِ وَ لَا يُمَارِيَنَّ أَحَدُكُمْ سَفِيهاً وَ لَا حَلِيماً فَإِنَّهُ مَنْ مَارَى حَلِيماً أَقْصَاهُ وَ مَنْ مَارَى سَفِيهاً أَرْدَاهُ وَ اذْكُرُوا أَخَاكُمْ إِذَا غَابَ عَنْكُمْ بِأَحْسَنِ مَا تُحِبُّونَ أَنْ تُذْكَرُوا بِهِ إِذَا غِبْتُمْ عَنْهُ وَ اعْمَلُوا عَمَلَ مَنْ يَعْلَمُ أَنَّهُ مُجَازًى بِالْإِحْسَانِ مَأْخُوذٌ بِالْإِجْرَامِ.

امالیِ شیخ طوسی: ابن عبداللہ امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: مجھ سے ایک بات سنو جو تمہارے لیے اُن سیاہ گھوڑوں سے بہتر ہے جو تمہاری ضرورت کے لیے تیار کیے گئے ہوں: تم میں سے کوئی ایسی بات نہ کہے جو اُس کے لیے فائدہ مند نہ ہو، اور زیادہ گفتار سے بچو خواہ وہ تمہارے لیے مفید ہی ہو؛ ہر بات اپنی جگہ پر کہو، کتنے ہی بولنے والے ہیں جو بے موقع بولتے ہیں اور اپنے آپ پر جنایت کرتے ہیں۔ نادانوں اور بردباروں سے مجادلہ نہ کرو، کیونکہ بردبار شخص سے جدال اُسے تم سے محبت کا رشتہ توڑنے پر آمادہ کرتا ہے، اور بے وقوف سے جدال پستی اور ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔ اپنے بھائیوں کا اُن کی پیٹھ پیچھے یوں ذکر کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ تمہاری پیٹھ پیچھے کہا جائے۔

إيضاح:، الدهم بالضم جمع أدهم أي خير لكم من الخيول السود التي أوقفت و هيأت لكم و لحوائجكم أو بالفتح أي العدد الكثير من الناس أوقفت عندكم يطيعونكم فيما تأمرونهم و الأول أظهر قوله عليه السلام أقصاه أي أبعده عن نفسه أي هو موجب لقطع محبته و رفع الفتنة أو أبعده عن الحق قوله عليه السلام أرداه أي أهلكه بأن صار سببا لصدور السفاهة عنه فأهلكه أو صار سببا لرسوخه في باطله.

«دُہْم» ادہم کی جمع ہے، یعنی سیاہ رنگ کا وہ لشکر جو تمہاری اور تمہاری حاجتوں کی خدمت کے لیے تیار ہے؛ یا «دَہم» جو عدد کے معنی میں ہے، یعنی لوگوں کی ایک بڑی تعداد جو تمہاری اطاعت و فرمانبرداری کے لیے تیار ہے۔ پہلا معنی زیادہ واضح ہے۔ «أقصاہ» یعنی اُسے اپنے سے دُور کرتا ہے، یعنی محبت کے کٹنے اور فتنے کے دُور ہونے کا سبب بنتا ہے، یا اُسے حق سے دُور کر دیتا ہے۔ «أرداہ» یعنی اُسے ہلاک کر دیتا ہے، اِس طور پر کہ اُس سے سفاہت کے صدور کا سبب بنتا ہے، پس اُسے ہلاک کر دیتا ہے؛ یا اُس کے باطل میں پختہ ہو جانے کا سبب بنتا ہے۔

«16»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي بِإِسْنَادِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: وَصِيَّةُ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ لِخَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ عليها السلام إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا يَقُولُ لَهَا يَا بِنْتَ أَخِي لَا تُمَارِي جَاهِلًا وَ لَا

امالیِ شیخ طوسی: قتادہ امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ ورقۃ بن نوفل حضرت خدیجہ علیہا السلام کو یوں نصیحت کرتے تھے: اے میرے بھائی کی بیٹی! نادان اور دانا سے جدال نہ کرو، کیونکہ جاہل سے جدال تمہیں خوار

(١)1- بفتح الباء و كسر الزاي، قال النجاشيّ في ص 233: محمّد بن إسماعيل بن بزيع أبو جعفر مولى المنصور أبي جعفر، و ولد بزيع بيت منهم حمزة بن بزيع، كان من صالحي هذه الطائفة و ثقاتهم، كثير العمل، له كتب منها كتاب ثواب الحجّ و كتاب الحجّ «الى أن قال»: قال محمّد بن عمر الكشّيّ: كان محمّد بن إسماعيل بن بزيع من رجال أبي الحسن موسى عليه السلام و أدرك أبا جعفر الثاني عليه السلام. و قال أبو العباس بن سعيد في تاريخه: ان محمّد بن إسماعيل بن بزيع سمع منصور بن يونس و حماد بن عيسى و يونس بن عبد الرحمن و هذه الطبقة كلها. و قال: سألت عنه عليّ بن الحسن فقال: ثقة، ثقة. و قال محمّد بن يحيی العطاء: أخبرنا محمّد بن أحمد بن يحيى قال: كنت بفيد فقال لي محمّد بن عليّ بن بلال: مرّ بنا الى قبر محمّد بن إسماعيل بن بزيع لنزوره فلما أتيناه جلس عند راسه مستقبل القبلة و القبر امامه ثمّ قال: أخبرني صاحب هذا القبر- يعني محمّد بن إسماعيل- أنه سمع أبا جعفر عليه السلام يقول: من زار قبر أخيه و وضع يده علی قبره و قرأ انا أنزلناه في ليلة القدر امن من فزع الأكبرباء کے فتحہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ۔ نجاشی ص ۲۳۳ پر کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل بن بزیع، ابوجعفر، مولائے منصور ابوجعفر؛ اور بزیع کی اولاد ایک خاندان ہے جس میں سے حمزۃ بن بزیع ہیں۔ وہ اِس طائفے کے صالحین اور ثقات میں سے اور بہت کام کرنے والے تھے۔ اُن کی کتابیں ہیں، اُن میں کتاب ثواب الحج اور کتاب الحج… محمد بن عمر کشّی نے کہا: محمد بن اسماعیل بن بزیع ابوالحسن موسیٰ علیہ السلام کے رجال میں سے تھے اور اُنہوں نے امام جواد علیہ السلام کو بھی پایا۔ اور ابوالعباس بن سعید نے اپنی تاریخ میں کہا: محمد بن اسماعیل بن بزیع نے منصور بن یونس، حمّاد بن عیسیٰ، یونس بن عبدالرحمن اور اِس پورے طبقے سے سنا ہے۔ اور کہا: میں نے علی بن الحسن سے اُن کے بارے میں پوچھا تو کہا: ثقہ ہیں، ثقہ۔ اور محمد بن یحییٰ العطّار نے کہا: محمد بن احمد بن یحییٰ نے ہمیں خبر دی اور کہا: میں «فَید» میں تھا کہ محمد بن علی بن بلال نے مجھ سے کہا: ہمارے ساتھ محمد بن اسماعیل بن بزیع کی قبر کی طرف چلو تاکہ اُس کی زیارت کریں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو وہ سرِ قبر رو بہ قبلہ بیٹھے اور قبر اُن کے سامنے تھی، پھر کہا: اِس قبر کے صاحب ـ یعنی محمد بن اسماعیل ـ نے مجھے خبر دی کہ اُنہوں نے ابوجعفر علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: جو اپنے بھائی کی قبر کی زیارت کرے اور اپنا ہاتھ اُس کی قبر پر رکھے اور «إنا أنزلناہ فی لیلۃ القدر» پڑھے، وہ بڑی ہولناکی سے امان میں ہے۔