خَيْرٍ وَ مُجَالَسَةُ الْمَوْتَى فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَا الْمَوْتَى قَالَ كُلُّ غَنِيٍّ مُتْرَفٍ.
اور مُردوں کے ساتھ ہم نشینی۔ عرض کیا گیا: اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ! مُردے کون ہیں؟ فرمایا: ہر عیش پسند دولت مند۔
«11»- ل، الخصال ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ عَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ أَبِي وَلَّادٍ ١ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليهما السلام يَقُولُ إِنَّ الْمَعْرِفَةَ بِكَمَالِ دِينِ الْمُسْلِمِ تَرْكُهُ الْكَلَامَ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ وَ قِلَّةُ الْمِرَاءِ وَ حِلْمُهُ وَ صَبْرُهُ وَ حُسْنُ خُلُقِهِ.
الخصال: امام زین العابدین علیہ السلام ہمیشہ فرماتے تھے: مسلمان کے کمالِ دین کی پہچان اِس راہ سے ہے کہ وہ بیہودہ بات نہ کرے، کم جھگڑے، بردبار، صابر اور خوش اخلاق ہو۔
بيان: أي سبب المعرفة.
یعنی سببِ شناخت۔
«12»- ل، الخصال أَبِی وَ ابْنُ الْوَلِيدِ مَعاً عَنْ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارِ وَ أَحْمَدَ بْنِ إِدْرِيسَ مَعاً عَنِ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا يَعْنِي جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْوَاسِطِيِّ عَمَّنْ ذَكَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَ تَرَی هَذَا الْخَلْقَ كُلَّهُ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ أَلْقِ مِنْهُمُ التَّارِكَ لِلسِّوَاكِ وَ الْمُتَرَبِّعَ فِي مَوْضِعِ الضَّيِّقِ وَ الدَّاخِلَ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ وَ الْمُمَارِيَ فِيمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ وَ الْمُتَمَرِّضَ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ وَ الْمُتَشَعِّثَ مِنْ غَيْرِ مُصِيبَةٍ وَ الْمُخَالِفَ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي الْحَقِّ وَ قَدِ اتَّفَقُوا عَلَيْهِ وَ الْمُفْتَخِرَ يَفْتَخِرُ بِآبَائِهِ وَ هُوَ خِلْوٌ مِنْ صَالِحِ أَعْمَالِهِمْ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْخَلَنْجِ يُقْشَرُ لِحاً مِنْ لِحاً حَتَّى يُوصَلَ إِلَى جَوْهَرِيَّتِهِ وَ هُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا.
الخصال: راوی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: کیا آپ اِن تمام دو پاؤں والی مخلوقات کو آدمی سمجھتے ہیں؟ فرمایا: اُن میں سے آٹھ گروہ نکال باہر کرو: وہ جو مسواک نہ کرے؛ وہ جو تنگ جگہ میں چار زانو بیٹھے؛ وہ جو بیہودہ کام میں دخل دے؛ وہ جو بغیر علم کے بحث کرے؛ وہ جو بغیر درد کے خود کو بیمار ظاہر کرے؛ وہ جو بغیر مصیبت کے پریشان حال ہو؛ وہ جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایسی درست بات میں مخالفت کرے جس پر وہ متفق ہیں؛ وہ جو اپنے آباء پر فخر کرے اور اُن کے نیک کاموں سے بے بہرہ ہو۔ یہ آدمی «خلنج» کے پودے کی مانند ہے جس کی چھال اتاری جاتی ہے تاکہ اُس کے گودے اور مغز تک پہنچا جائے۔ وہ ویسا ہی ہے جیسا اللہ عزوجل نے فرمایا: «إِنْ هُمْ إِلَّا کَالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِیلًا» {یا تم گمان کرتے ہو کہ اُن میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ وہ تو صرف چوپایوں کی مانند ہیں، بلکہ اُن سے بھی زیادہ گمراہ۔}
بيان: الخلنج كسمند شجر فارسي معرب و كانوا ينحتون منه القصاع و الظاهر أنه شبه من يفتخر بآبائه مع كونه خاليا عن صالح أعمالهم بلحا شجر الخلنج فإن لحاه فاسد و لا ينفع اللحاء كون لبه صالحا لأن ينحت منه الأشياء بل إذا أرادوا ذلك قشروا لحاه و نبذوها و انتفعوا بلبه و أصله فكما لا ينفع صلاح اللب للقشر مع مجاورته له فكذا لا ينفع صلاح الآباء للمفتخر بهم مع كونه فاسدا- ل، الخصال في الأربعمائة ما يناسب الباب.
بظاہر اِس حدیث میں اُس شخص کو جو اپنے آباء پر فخر کرتا ہے جبکہ وہ خود اُن کے نیک اعمال سے خالی ہے، درختِ «خلنج» سے تشبیہ دی گئی ہے۔ کیونکہ اُس درخت کی چھال بے کار ہے، اُس کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب اُس درخت سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو اُس کی چھال اتار دیتے ہیں اور صرف اُس کے مغز سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جیسا کہ اُس درخت کی چھال باوجود اِس کے کہ مغز سے متصل ہے، اُس کے لیے کوئی فائدہ نہیں رکھتی۔ اُن آباء کی خوبی جو قابلِ فخر ہیں، فاسد انسان کے لیے بھی کوئی فائدہ نہیں رکھتی۔ الخصال: حدیثِ اربعمائہ میں اِس باب کے مناسب مطالب آئے ہیں۔
«13»- ن، عيون أخبار الرضا عليه السلام بِإِسْنَادِ التَّمِيمِيِّ عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عَنْ عَلِيٍّ عليه السلام قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي دِينِهِ أُولَئِكَ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صلى اللّٰه عليه و آله.
عیون أخبار الرضا علیہ السلام: امام رضا علیہ السلام نے اپنے آباء سے، اُنہوں نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں پر لعنت کی ہے جو مؤمنوں سے اللہ کے دین کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی زبان سے بھی ملعون ہیں۔
«14»- ما، الأمالي للشيخ الطوسي فِي وَصِيَّةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام عِنْدَ وَفَاتِهِ دَعِ الْمُمَارَاةَ وَ مُجَارَاةَ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ وَ لَا عِلْمَ.
امالیِ شیخ طوسی: علی علیہ السلام کی اُس وصیت میں جو آپ نے وفات کے وقت فرمائی، آیا ہے: جدال اور مناظرے میں اُس شخص کا ساتھ دینا چھوڑ دو جس کے پاس نہ عقل ہے نہ علم۔