Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 128

«6»- لي، الأمالي للصدوق ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ عَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ عَنْبَسَةَ الْعَابِدِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصَّادِقِ عليه السلام قَالَ: إِيَّاكُمْ وَ الْخُصُومَةَ فِي الدِّينِ فَإِنَّهَا تَشْغَلُ الْقَلْبَ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ تُورِثُ النِّفَاقَ وَ تَكْسِبُ الضَّغَائِنَ وَ تَسْتَجِيرُ الْكَذِبَ.

امالیِ صدوق: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خبردار! دین میں جھگڑا نہ کرو کہ وہ دل کو یادِ خدا سے پھیر دیتا ہے اور نفاق اور کینے کا سبب بنتا ہے، اور مجادلے میں ناچار جھوٹ اور باطل گفتار تک لے جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ گویا یہ کام جائز ہے۔

إيضاح: الضغائن جمع الضغينة و هي الحقد و العداوة و البغضاء قوله تستجير في بعض النسخ بالزاي المعجمة أي يضطر في المجادلة إلى الكذب و قول الباطل فيظنه جائزا للضرورة بزعمه و في بعضها بالمهملة أي يطلب الإجارة و الأمان من الكذب و يلجأ إليه للتخلص من غلبة الخصم.

«الضغائن» ضغینہ کی جمع ہے بمعنیٔ کینہ، دشمنی اور بغض۔ «تستجیر» بعض نسخوں میں «تستجیز» آیا ہے، یعنی مجادلے میں انسان کو جھوٹ اور باطل گفتار پر مجبور کر دیتا ہے اور وہ اپنے دل میں سوچتا ہے کہ یہ کام ضرورت کے سبب جائز ہے۔ اور بعض نسخوں میں «یستجیر» آیا ہے، یعنی وہ اللہ کی پناہ مانگتا ہے، اور دشمن کے غلبے سے بچنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔

«7»- لي، الأمالي للصدوق أَبِي عَنْ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ هَاشِمٍ عَنِ الدِّهْقَانِ عَنْ دُرُسْتَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ الصَّادِقِ عليه السلام قَالَ: مَنْ لَاحَى الرِّجَالَ ذَهَبَتْ مُرُوءَتُهُ الْخَبَرَ.

امالیِ صدوق: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو لوگوں سے جھگڑے، اُس کی مروت جاتی رہے… حدیث کے آخر تک۔

«8»- ل، الخصال الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّرَّاجِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ قُرْعَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُسَيْدٍ عَنْ جَبَلَةَ الْإِفْرِيقِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ وَ بَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ وَ بَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَ إِنْ كَانَ مُحِقّاً وَ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَ إِنْ كَانَ هَازِلًا وَ لِمَنْ حَسُنَ خُلُقُهُ.

الخصال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: میں جنت کے سبزہ زار میں ایک گھر کا، جنت کے وسط میں ایک گھر کا اور جنت کے بالائی حصے میں ایک گھر کا ضامن اور کفیل ہوں: اُس کے لیے جو مجادلہ چھوڑ دے خواہ حق اُسی کے ساتھ ہو؛ اور اُس کے لیے جو جھوٹ نہ بولے خواہ مذاق ہی میں ہو؛ اور اُس کے لیے جو اپنا اخلاق اچھا کرے۔

بيان: الزعيم الكفيل و الضامن و ربض الجنة أي سافلها و ما قرب من بابها و سورها قال في النهاية فيه أنا زعيم ببيت في ربض الجنة هو بفتح الباء ما حولها خارجا عنها تشبيها بالأبنية التي تكون حول المدن و تحت القلاع انتهى و الهزل نقيض الجد.

«الزعیم» کا معنی کفیل اور ضامن ہے۔ «ربض الجنۃ» یعنی جنت کا نچلا حصہ، جنت کے دروازے اور دیوار کے قریب۔ ابن اثیر نے کتاب النہایہ میں کہا ہے: «أنا زعیم ببیت فی ربض الجنۃ» یعنی میں جنت کے گرد اور باہر ایک گھر کا ضامن ہوتا ہوں، اُن عمارتوں سے تشبیہ کے باب سے جو شہروں کے اطراف اور قلعوں کے نیچے ہوتی ہیں۔ «الہزل» کا معنی مذاق اور سنجیدگی کی ضد ہے۔

«9»- ل، الخصال ابْنُ الْمُتَوَكِّلِ عَنْ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارِ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: مَنْ يَضْمَنُ لِي أَرْبَعَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْيَاتٍ فِي الْجَنَّةِ مَنْ أَنْفَقَ وَ لَمْ يَخَفْ فَقْراً وَ أَنْصَفَ النَّاسَ مِنْ نَفْسِهِ وَ أَفْشَی السَّلَامَ فِي الْعَالَمِ وَ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَ إِنْ كَانَ مُحِقّاً.

الخصال: امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: کون ہے جو میرے لیے چار خصلتوں کا ذمہ لے تاکہ میں اُس کے لیے جنت میں چار گھروں کا ذمہ لوں؟ جو انفاق کرے

سن، المحاسن أبي عن محمد بن سنان مثله.

اور فقر سے نہ ڈرے، اور اپنی طرف سے لوگوں کو انصاف دے، اور دنیا میں سلام کو آشکار کرے، اور باوجود اِس کے کہ حق بھی اُسی کے ساتھ ہو، مجادلہ چھوڑ دے۔ المحاسن: اُس حدیث کی مانند آیا ہے۔

«10»- ل، الخصال ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ هَارُونَ عَنِ ابْنِ صَدَقَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله أَرْبَعٌ يُمِتْنَ الْقُلُوبَ الذَّنْبُ عَلَى الذَّنْبِ وَ كَثْرَةُ مُنَاقَشَةِ النِّسَاءِ يَعْنِي مُحَادَثَتَهُنَّ وَ مُمَارَاةُ الْأَحْمَقِ تَقُولُ وَ يَقُولُ وَ لَا يَرْجِعُ إِلَی

الخصال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: چار چیزیں دل کو مار ڈالتی ہیں: گناہ پر گناہ، عورتوں کے ساتھ بہت ہم نشینی، اُس بے عقل سے مجادلہ جو پے در پے بولتا ہے اور حق قبول نہیں کرتا،