Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 127

الشجر في البادية يسحق المرخ على العفار و هما خضراوان يقطر منهما الماء فينقدح النار و يظهر من تفسيره عليه السلام أنه تظهر منه النار الكامنة فيه لا أنها تحصل من سحقهما بالاستحالة كما هو المشهور بين الحكماء و سيأتي تفصيل القول فيه في كتاب السماء و العالم قوله عليه السلام و قدركم محركة أي طاقتكم أو بسكون الدال أي قوتكم ذكرهما الفيروزآبادي.

صحرا کے درختوں کی: «مرخ» کی لکڑی کو سبز «عفار» پر ملا جاتا ہے، اور اُن دونوں سے پانی قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے، پھر آگ روشن ہوتی ہے۔ اور ائمہ علیہم السلام کی تفسیر سے جو ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اُس درخت سے وہ آگ ظاہر ہوتی ہے جو اُس کے اندر پوشیدہ ہے، نہ یہ کہ اُن دو لکڑیوں کے رگڑنے سے آگ روشن ہوتی ہے ـ جیسا کہ حکماء کہتے ہیں، اور یہ بات اُن میں مشہور ہے۔ کتابِ آسمان و جہان میں اِس قول کی تفصیل آئے گی۔ «قَدَر» کا معنی طاقت ہے اور «قدْر» کا معنی قوت و توانائی؛ یہ دونوں معانی فیروزآبادی نے ذکر کیے ہیں۔

«3»- لي، الأمالي للصدوق فِي رِوَايَةِ يُونُسَ بْنِ ظَبْيَانَ عَنِ الصَّادِقِ عليه السلام فِيمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله مِنْ جَوَامِعِ كَلِمَاتِهِ أَنَّهُ قَالَ: أَوْرَعُ النَّاسِ مَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَ إِنْ كَانَ مُحِقّاً.

امالیِ صدوق: سب سے زیادہ پارسا وہ ہے جو مجادلہ چھوڑ دے، خواہ حق اُسی کے ساتھ ہو۔

بيان: المراء الجدال و يظهر من الأخبار أن المذموم منه هو ما كان الغرض فيه الغلبة و إظهار الكمال و الفخر أو التعصب و ترويج الباطل و أما ما كان لإظهار الحق و رفع الباطل و دفع الشبه عن الدين و إرشاد المضلين فهو من أعظم أركان الدين لكن التميز بينهما في غاية الصعوبة و الإشكال و كثيرا ما يشتبه أحدهما بالآخر في بادي النظر و للنفس فيه تسويلات خفية لا يمكن التخلص منها إلا بفضله تعالى.

«مراء» کا معنی جدال اور بحث و تکرار ہے۔ احادیث سے جو ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مذموم مراء صرف وہ ہے جس میں مقصد فریقِ مقابل پر غلبہ، اپنے کمال کا اظہار اور فخر فروشی یا تعصب اور ترویجِ باطل ہو؛ لیکن جو حق کے اظہار، باطل کے دُور ہونے، دین سے شبہے کے دفع اور گمراہوں کی رہنمائی کا سبب ہو، وہ دین کے سب سے بڑے ارکان میں سے ہے۔ مگر اُن دونوں کا فرق نہایت دشوار ہے اور بہت اوقات آغاز میں ایک دوسرے سے خلط ہو جاتا ہے، اور اِس بارے میں انسان کا نفس پوشیدہ اشتباہات رکھتا ہے جن سے رہائی پروردگار کے فضل کے سوا ممکن نہیں۔

«4»- لي، الأمالي للصدوق أَبِي عَنْ سَعْدٍ عَنِ النَّهْدِيِّ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ الْخَزَّازِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: سُئِلَ الصَّادِقُ عليه السلام عَنِ الْخَمْرِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّ أَوَّلَ مَا نَهَانِي عَنْهُ رَبِّي عَزَّ وَ جَلَّ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ وَ شُرْبِ الْخَمْرِ وَ مُلَاحَاةِ الرِّجَالِ الْخَبَرَ.

امالیِ صدوق: محمد بن مسلم نے کہا: امام صادق علیہ السلام سے شراب کے بارے میں پوچھا گیا۔ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: سب سے پہلی چیزیں جن سے میرے پروردگار عزوجل نے مجھے منع فرمایا، بتوں کی پرستش، شراب نوشی، اور لوگوں سے بحث و تکرار اور دشمنی تھیں۔

بيان: قال الجزري فيه نهيت عن ملاحاة الرجال أي مقاولتهم و مخاصمتهم تقول لاحيته ملاحاة و لحاء إذا نازعته.

جزری کہتے ہیں: «نہیت عن ملاحاۃ الرجال» یعنی مجھے لوگوں سے بحث و تکرار اور اُن سے دشمنی سے منع کیا گیا۔ تم کہتے ہو: «لاحیتہ ملاحاۃً و لحاءً» جب تم اُس سے جھگڑا اور جدال کرو۔

«5»- لي، الأمالي للصدوق أَبِي عَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنِ ابْنِ عِيسَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُمْرَانَ عَنِ الْحَذَّاءِ ١ قَالَ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عليه السلام يَا زِيَادُ إِيَّاكَ وَ الْخُصُومَاتِ فَإِنَّهَا تُورِثُ الشَّكَّ وَ تُحْبِطُ الْعَمَلَ وَ تُرْدِی صَاحِبَهَا وَ عَسَى أَنْ يَتَكَلَّمَ الرَّجُلُ بِالشَّیْ ءِ لَا يُغْفَرُ لَهُ الْخَبَرَ.

امالیِ صدوق: امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: اے زیاد! خبردار! جھگڑے میں نہ پڑو کہ وہ شک لاتا ہے، عمل کو بے اجر کرتا ہے اور اپنے صاحب کو ہلاک کر دیتا ہے۔ اور بسا اوقات آدمی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس پر اُسے بخشا نہیں جاتا۔

بيان: لعل المراد الخصومة فيما نهي عن التكلم فيه من التفكر في ذاته تعالى أو في كنه صفاته أو في مسألة القضاء و القدر و الجبر و الاختيار و أمثالها كما يومي إليه آخر الكلام.

«خصومت» سے مراد جس کے بارے میں اِس حدیث میں بات کرنے سے منع کیا گیا، اللہ تعالیٰ کی ذات میں غور و فکر، یا اُس کی صفات کی حقیقت میں، یا قضا و قدر اور جبر و اختیار کے مسئلے اور اُن جیسی چیزوں میں ہو سکتا ہے، جیسا کہ خبر کا آخری حصہ اِس مطلب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

(١)1- بفتح الحاء المهملة و الذال المعجمة المشددة هو زياد بن عيسى أبو عبيدة الحذاء الكوفيّ الثقة، روی عن أبی جعفر و أبي عبد اللّٰه عليهما السلام.حاءِ بے نقطہ کے فتحہ اور ذالِ نقطہ دار مشدد کے ساتھ؛ وہ زیاد بن عیسیٰ، ابوعبیدہ حذّاء کوفی، ثقہ ہیں؛ اُنہوں نے ابوجعفر اور ابوعبداللہ علیہما السلام سے روایت کی۔