أَمَّا الْمُبْطِلُونَ فَيَجْعَلُونَ ضَعْفَ الضَّعِيفِ مِنْكُمْ إِذَا تَعَاطَى مُجَادَلَتَهُ وَ ضَعُفَ فِي يَدِهِ حُجَّةً لَهُ عَلَى بَاطِلِهِ وَ أَمَّا الضُّعَفَاءُ مِنْكُمْ فَتُغَمُّ قُلُوبُهُمْ لِمَا يَرَوْنَ مِنْ ضَعْفِ الْمُحِقِّ فِي يَدِ الْمُبْطِلِ وَ أَمَّا الْجِدَالُ الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَهُوَ مَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ نَبِيَّهُ أَنْ يُجَادِلَ بِهِ مَنْ جَحَدَ الْبَعْثَ بَعْدَ الْمَوْتِ وَ إِحْيَاءَهُ لَهُ فَقَالَ اللَّهُ حَاكِياً عَنْهُ وَ ضَرَبَ لَنا مَثَلًا وَ نَسِيَ خَلْقَهُ قالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظامَ وَ هِيَ رَمِيمٌ فَقَالَ اللَّهُ فِي الرَّدِّ عَلَيْهِ قُلْ يَا مُحَمَّدُ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَها أَوَّلَ مَرَّةٍ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ مِنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ ناراً فَإِذا أَنْتُمْ مِنْهُ تُوقِدُونَ فَأَرَادَ اللَّهُ مِنْ نَبِيِّهِ أَنْ يُجَادِلَ الْمُبْطِلَ الَّذِي قَالَ كَيْفَ يَجُوزُ أَنْ يُبْعَثُ هَذِهِ الْعِظَامُ وَ هِيَ رَمِيمٌ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَها أَوَّلَ مَرَّةٍ أَ فَيَعْجِزُ مَنِ ابْتَدَأَ بِهِ لَا مِنْ شَيْ ءٍ أَنْ يُعِيدَهُ بَعْدَ أَنْ يَبْلَى بَلِ ابْتِدَاؤُهُ أَصْعَبُ عِنْدَكُمْ مِنْ إِعَادَتِهِ ثُمَّ قَالَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ مِنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ ناراً أَيْ إِذَا كَمَنَ النَّارَ الْحَارَّةَ فِي الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ الرَّطْبِ يَسْتَخْرِجُهَا فَعَرَّفَكُمْ أَنَّهُ عَلَى إِعَادَةِ مَا بَلِىَ أَقْدَرُ ثُمَّ قَالَ أَ وَ لَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ بِقادِرٍ عَلى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلى وَ هُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ أَيْ إِذَا كَانَ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ أَعْظَمَ وَ أَبْعَدَ فِي أَوْهَامِكُمْ وَ قَدَرِكُمْ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِ مِنْ إِعَادَةِ الْبَالِي فَكَيْفَ جَوَّزْتُمْ مِنَ اللَّهِ خَلْقَ هَذَا الْأَعْجَبِ عِنْدَكُمْ وَ الْأَصْعَبِ لَدَيْكُمْ وَ لَمْ تُجَوِّزُوا مِنْهُ مَا هُوَ أَسْهَلُ عِنْدَكُمْ مِنْ إِعَادَةِ الْبَالِي قَالَ الصَّادِقُ عليه السلام فَهَذَا الْجِدَالُ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ لِأَنَّ فِيهَا قَطْعَ عُذْرِ الْكَافِرِينَ وَ إِزَالَةَ شُبَهِهِمْ وَ أَمَّا الْجِدَالُ بِغَيْرِ الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ بِأَنْ تَجْحَدَ حَقّاً لَا يُمْكِنُكَ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ بَاطِلِ مَنْ تُجَادِلُهُ وَ إِنَّمَا تَدْفَعُهُ عَنْ بَاطِلِهِ بِأَنْ تَجْحَدَ الْحَقَّ فَهَذَا هُوَ الْمُحَرَّمُ لِأَنَّكَ مِثْلُهُ جَحَدَ هُوَ حَقّاً وَ جَحَدْتَ أَنْتَ حَقّاً آخَرَ.
لیکن اہلِ باطل اُس نقطۂ ضعف کو، تم میں سے ناتوان افراد سے بحث کے وقت، اپنی پوچی پر حجت اور دلیل بنا لیتے ہیں۔ اور تمہارے ناتوان لوگ یہ حال دیکھ کر دلگیر اور غمگین ہوتے ہیں۔ اور رہا مجادلۂ احسن، تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اللہ نے اپنے پیغمبر کو منکرینِ حشر سے بحث میں سکھایا کہ: «وَ ضَرَبَ لَنا مَثَلًا وَ نَسِیَ خَلْقَهُ قالَ مَنْ یُحْیِ الْعِظامَ وَ هِیَ رَمِیمٌ» {اور اُس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی خلقت بھول گیا؛ کہا: اِن ہڈیوں کو کون زندگی بخشے گا جو اِس طرح بوسیدہ ہو چکی ہیں؟}، اور اللہ نے اُن کے رد میں فرمایا: کہہ دو اے محمد: «یُحْیِیهَا الَّذِی أَنْشَأَها أَوَّلَ مَرَّةٍ وَ هُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیمٌ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ مِنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ ناراً فَإِذا أَنْتُمْ مِنْهُ تُوقِدُونَ» {کہہ دو: وہی اُنہیں زندگی دے گا جس نے پہلی بار اُنہیں پیدا کیا، اور وہ ہر طرح کی خلقت کو جاننے والا ہے۔ وہی جس نے تمہارے لیے سبز درخت میں آگ رکھی کہ تم اُس سے [جب حاجت ہو] آگ سلگاتے ہو۔} اِس طرح اللہ نے اپنے پیغمبر سے چاہا کہ حشر و قیامت کے مخالفوں سے، اُن لوگوں سے جنہوں نے کہا کہ یہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ کیسے زندہ ہوں گی، مجادلہ کریں؛ اور اُن سے فرمایا: «قُلْ یُحْیِیهَا الَّذِی أَنْشَأَها أَوَّلَ مَرَّةٍ»۔ کیا اللہ اُس کے لوٹانے سے عاجز اور ناتوان ہو جائے گا جسے اُس نے آغاز میں پیدا کیا، بعد اِس کے کہ وہ بوسیدہ ہو جائے؟ بلکہ تمہارے خیال میں آغازِ خلقت اُس کے لوٹانے سے زیادہ مشکل ہے؟ «الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ مِنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ ناراً» {وہی جس نے تمہارے لیے سبز درخت میں آگ رکھی۔} یعنی جب اللہ نے گرم آگ سبز ـ تر و تازہ ـ درخت میں چھپا رکھی اور پھر اُسے باہر نکالا اور ظاہر کیا، تو اِس کام سے تمہیں سمجھایا کہ وہی خلقت کے اعادے اور جو بوسیدہ ہو گیا اُسے [دوبارہ] زندہ کرنے پر بھی قادر و توانا ہے۔ پھر فرمایا: «أَوَلَیْسَ الَّذِی خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ بِقادِرٍ عَلی أَنْ یَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلی وَ هُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِیمُ» {کیا وہ جس نے آسمان اور زمین پیدا کیے، اِس پر قادر نہیں کہ [دوبارہ] اُن جیسے پیدا کرے؟ ہاں، وہی پیدا کرنے والا، جاننے والا ہے۔} یعنی: کیا تم جو اِتنی ساری عجائب کے ساتھ ایک جہان کی خلقت ـ جو تمہارے نزدیک دشوار تر ہے ـ اللہ سے جائز سمجھتے ہو، بوسیدہ ہڈی کے زندہ کرنے کو ـ جو تمہارے نزدیک آسان تر ہے ـ روا نہیں سمجھتے؟ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: یہ مجادلۂ احسن کا معنی ہے، جس میں مخالف کے لیے کسی عذر اور بہانے کی جگہ باقی نہیں رہتی، اور اُس کے شبہے اور اعتراض کا جواب اُس کی فہم کے مطابق دیا جاتا ہے۔ اور رہا جدالِ غیر احسن، تو وہ یہ ہے کہ تم کسی ایسے حق کا انکار کرو جو تم سے فریقِ بحث کے حق و باطل کی تمیز سلب کر دے، اور اِس کام سے تم صرف اُسے اُس کے باطل سے دُور کرتے ہو، نہ کہ حق کے قریب؛ اور یہ روش ممنوع اور حرام ہے، کیونکہ تم دونوں حق کے منکر ہو۔
م، تفسير الإمام عليه السلام فَقَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ أَ فَجَادَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله فَقَالَ الصَّادِقُ مَهْمَا ظَنَنْتَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مِنْ شَيْ ءٍ فَلَا تَظُنَّ بِهِ مُخَالَفَةَ اللَّهِ أَ وَ لَيْسَ اللَّهُ تَعَالَى قَالَ وَ جادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ وَ قَالَ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَها أَوَّلَ مَرَّةٍ لِمَنْ ضَرَبَ لِلَّهِ مِثْلًا أَ فَتَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله خَالَفَ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ فَلَمْ يُجَادِلْ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ وَ لَمْ يُخْبِرْ عَنِ اللَّهِ بِمَا أَمَرَهُ أَنْ يُخْبِرَ بِهِ.
تفسیرِ امام حسن عسکری علیہ السلام: ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا: اے فرزندِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ! کیا رسول اللہ نے مجادلہ کیا ہے؟ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے بارے میں جو کچھ گمان کرو، اللہ کی مخالفت کا گمان نہ کرو! کیا اللہ نے قرآن میں نہیں فرمایا: «وَ جادِلْهُمْ بِالَّتِی هِیَ أَحْسَنُ»؟ اور فرمایا: «قُلْ یُحْیِیهَا الَّذِی أَنْشَأَها أَوَّلَ مَرَّةٍ» (اُس شخص کے لیے جس نے اللہ کے لیے مثال بیان کی)۔ کیا تم گمان کرتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی اور جس میں اللہ نے اُنہیں حکم دیا اُس میں مجادلہ نہ کیا؟ اور جو اللہ نے حکم دیا کہ اُس کی طرف سے خبر دیں، وہ خبر نہ دی؟
بيان: الشجر الأخضر الذي ينقدح منه النار هو شجر المرخ و العفار نوعان من
«سبز درخت جس سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں»: درختِ «مرخ» اور «عفار» دو قسمیں ہیں