علمه و فقهه بين المسلمين أنه سئل عن شي ء فقال لا أحسنه فقال السائل إني جئت إليك لا أعرف غيرك فقال القاسم لا تنظر إلى طول لحيتي و كثرة الناس حولي و اللّٰه ما أحسنه فقال شيخ من قريش جالس إلى جنبه يا ابن أخي الزمها [الْزِمْهُ فقال فو اللّٰه ما رأيتك في مجلس أنبل منك اليوم فقال القاسم و اللّٰه لأن يقطع لساني أحب إلى أن أتكلم بما لا علم لي به.
فقاہت تمام مسلمانوں کے اتفاق سے مسلّم تھی، کسی مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں نے کہا: اِس مسئلے کا صحیح جواب میں نہیں جانتا۔ سائل نے کہا: میں اِسی مقصد سے آپ کی طرف دوڑا آیا ہوں، کیونکہ آپ کے سوا کسی اور کو اہل نہیں جانتا تھا۔ قاسم نے کہا: میری ڈاڑھی کی درازی اور اُن بہت سے لوگوں کو نہ دیکھو جو میرے پاس بیٹھے ہیں؛ اللہ کی قسم! اِس مسئلے کا صحیح جواب میں نہیں جانتا۔ تو قریش کے ایک بوڑھے نے جو اُن کے پاس بیٹھا تھا کہا: بھتیجے! اِسے مسئلے کا جواب بتا دو اور اُسے اپنے پاس سے نہ ہٹاؤ؛ اللہ کی قسم، جس مجلس میں بھی میں نے تمہیں دیکھا، تم سے زیادہ عالم کسی کو نہ پایا۔ قاسم نے کہا: اللہ کی قسم، اگر میری زبان جڑ سے اکھاڑ دی جائے تو یہ میرے لیے اِس سے محبوب تر ہے کہ میں اُس چیز کے بارے میں بات کروں جس کا مجھے علم نہیں۔
باب 17 ما جاء في تجويز المجادلة و المخاصمة في الدين و النهي عن المراء
باب سترھواں: دین میں جدال اور دشمنی کا جواز اور ہٹ دھرمی سے پرہیز
الآيات؛
آیات
آل عمران: «ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيما لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَ اللَّهُ يَعْلَمُ وَ أَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ»(65)
{سنو! تم [اہلِ کتاب] وہی ہو جنہوں نے اُس بارے میں بحث کی جس کا تمہیں علم تھا؛ پھر اُس بارے میں کیوں بحث کرتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں؟ حالانکہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔}
الأعراف: «أَ تُجادِلُونَنِی فِي أَسْماءٍ سَمَّيْتُمُوها أَنْتُمْ وَ آباؤُكُمْ ما نَزَّلَ اللَّهُ بِها مِنْ سُلْطانٍ الأنفال يُجادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ ما تَبَيَّنَ»(5)
{اُس نے کہا: بے شک تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے عذاب اور [سخت] غضب مقرر ہو چکا۔ کیا تم مجھ سے اُن ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے [بتوں کے لیے] رکھ لیے، اور اللہ نے اُن کے [حق ہونے پر] کوئی دلیل نہیں اتاری؟ پس انتظار کرو، میں [بھی] تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔} {وہ تم سے حق کے بارے میں ـ بعد اِس کے کہ وہ روشن ہو چکا ـ جھگڑتے ہیں؛ گویا اُنہیں موت کی طرف ہانکا جا رہا ہو اور وہ [اُسے] دیکھ رہے ہوں۔}
النحل: «وَ جادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ»(124)
{اور اُن سے اُس [طریقے] سے بحث کرو جو بہترین ہے۔}
الكهف: «فَلا تُمارِ فِيهِمْ إِلَّا مِراءً ظاهِراً وَ لا تَسْتَفْتِ فِيهِمْ مِنْهُمْ أَحَداً»(21) (و قال تعالی): «وَ كانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْ ءٍ جَدَلًا»(53) (و قال تعالی): «وَ يُجادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْباطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوا آياتِي وَ ما أُنْذِرُوا هُزُواً»(55)
{پس اُن کے بارے میں ظاہری صورت کے سوا جھگڑا نہ کرو اور اُن کے بارے میں کسی سے نہ پوچھو۔} {اور بے شک ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال بیان کی، مگر انسان ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔} {اور ہم رسولوں کو صرف بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجتے ہیں، اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ باطل کے ساتھ جھگڑتے ہیں تاکہ اُس کے ذریعے حق کو پامال کریں، اور اُنہوں نے میری نشانیوں اور اُس چیز کو جس سے اُنہیں ڈرایا گیا مذاق بنا لیا۔}
مريم: «وَ تُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُدًّا»(96)
{اور اُس کے ذریعے جھگڑالو قوم کو ڈراؤ۔}
الحج: «وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُجادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَ يَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطانٍ مَرِيدٍ»(2) (و قال تعالی): «وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُجادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَ لا هُدیً وَ لا كِتابٍ مُنِيرٍ ثانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُ فِي الدُّنْيا خِزْيٌ وَ نُذِيقُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ عَذابَ الْحَرِيقِ»(7 ، 8) (و قال تعالی): «وَ إِنْ جادَلُوكَ فَقُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِما تَعْمَلُونَ»(67)
الحج: {اور بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم کے جھگڑتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔} {اور لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم، بغیر کسی رہنمائی اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑتا ہے، [وہ بھی] تکبر کی بنا پر، تاکہ [لوگوں کو] اللہ کی راہ سے گمراہ کرے۔ اِس دنیا میں اُس کے لیے رسوائی ہے، اور قیامت کے دن ہم اُسے جلتی آگ کا عذاب چکھائیں گے۔} {اور اگر وہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو: اللہ بہتر جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔}
الفرقان: «فَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ وَ جاهِدْهُمْ بِهِ جِهاداً كَبِيراً»(51)
الفرقان: {پس کافروں کی اطاعت نہ کرو، اور [قرآن سے الہام لے کر] اُن سے بڑا جہاد کرو۔}
النمل: «قُلْ هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ»(63)
النمل: {یا وہ جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر اُسے دوبارہ لوٹاتا ہے، اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی معبود ہے؟ کہہ دو: اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔}
العنكبوت: «وَ لا تُجادِلُوا أَهْلَ الْكِتابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ»(45)
العنکبوت: {اور اہلِ کتاب سے اُس [طریقے] کے سوا جو بہتر ہے بحث نہ کرو ـ سوائے اُن کے جنہوں نے ظلم کیا ـ اور کہو: ہم اُس پر ایمان لائے جو ہماری طرف نازل ہوا اور [جو] تمہاری طرف نازل ہوا؛ اور ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔}