«46»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ.
منیۃ المرید: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: بھوکے کا سیر ہونے کا اظہار (جو اُس کے پاس ہے اُس سے زیادہ دکھانا) اُس شخص کی مانند ہے جس نے جھوٹ کا لباس پہن رکھا ہو۔
بيان: قال في النهاية فيه المتشبع بما لا يملك كلابس ثوبي زور أي المتكثر بأكثر مما عنده و يتجمل بذلك كالذي يرى أنه شبعان و ليس كذلك و من فعله فإنما يسخر من نفسه و هو من أفعال ذوي الزور بل هو في نفسه زور أي كذب.
کتابِ نہایہ میں آیا ہے: «المتشبع بما لا یملک کلابس ثوبی زور» یعنی جو خود کو دوسروں کے مال سے سیر کرے، وہ اُس کی مانند ہے جس نے جھوٹ کا لباس پہنا ہو۔ یعنی جو اپنے پاس جو کچھ ہے اُس سے زیادہ خود کو غنی ظاہر کرے اور اُس سے آرائش کرے، وہ اُس کی مانند ہے جو سمجھتا ہے کہ سیر ہے جبکہ وہ بھوکا ہے۔ جو ایسا کرے، اُس نے خود کا مذاق اڑایا، اور یہ جھوٹ کے کاموں میں سے ہے، بلکہ خود جھوٹ ہے۔
«47»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: مَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا مِنْ غَيْرِ تَثَبُّتٍ وَ فِي لَفْظٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ.
منیۃ المرید: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اگر کوئی ایسا فتویٰ لے جسے فتویٰ دینے والے نے ضروری آگاہی کے بغیر صادر کیا ہو، تو مستفتی کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے۔
«48»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله أَجْرَؤُكُمْ عَلَى الْفَتْوَى أَجْرَؤُكُمْ عَلَى النَّارِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: تم میں سے جو فتویٰ دینے اور حکم صادر کرنے میں زیادہ جرأت اور جسارت رکھتا ہے، وہ شخص جہنم کی آگ کی طرف زیادہ جری ہے۔
«49»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله أَشَدُّ النَّاسِ عَذَاباً يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ قَتَلَ نَبِيّاً أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ رَجُلٌ يُضِلُّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَوْ مُصَوِّرٌ يُصَوِّرُ التَّمَاثِيلَ.
قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب پانے والے یہ لوگ ہیں: ۱۔ وہ جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو۔ ۲۔ وہ جسے کسی نبی نے قتل کیا ہو۔ ۳۔ وہ جو بغیر علم کے فتویٰ دے اور لوگوں کو گمراہ کرے۔ ۴۔ وہ جو کسی جاندار کی تصویر بنائے۔
«50»- و روی عن القاسم بن محمد بن أبي بكر١ أحد فقهاء المدينة المتفق على
جب قاسم بن محمد بن ابوبکر سے، جو مدینے کے فقہاء میں سے تھے اور جن کا علم اور