دَانَ بِفِرْيَةِ بَاطِلٍ عَلَى اللَّهِ وَ لَا دِينَ لِمَنْ دَانَ بِجُحُودِ شَيْ ءٍ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ.
اور جو اللہ کی آیتوں میں سے کسی چیز کے انکار پر دینداری کرے اُس کا کوئی دین نہیں۔
«39»- كش، رجال الكشي حَمْدَوَيْهِ وَ إِبْرَاهِيمُ ابْنَا نُصَيْرٍ عَنِ ابْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ مُسْلِمٍ النَّحْوِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: قَالَ لِي بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقْعُدُ فِي الْجَامِعِ فَتُفْتِي النَّاسَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَ قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِنِّي أَقْعُدُ فِي الْجَامِعِ فَيَجِی ءُ الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي عَنِ الشَّيْ ءِ فَإِذَا عَرَفْتُهُ بِالْخِلَافِ لَكُمْ أَخْبَرْتُهُ بِمَا يَقُولُونَ وَ يَجِي ءُ الرَّجُلُ أَعْرِفُهُ بِحُبِّكُمْ أَوْ بِمَوَدَّتِكُمْ فَأُخْبِرُهُ بِمَا جَاءَ عَنْكُمْ وَ يَجِي ءُ الرَّجُلُ لَا أَعْرِفُهُ وَ لَا أَدْرِي مَنْ هُوَ فَأَقُولُ جَاءَ عَنْ فُلَانٍ كَذَا وَ جَاءَ عَنْ فُلَانٍ كَذَا فَأُدْخِلُ قَوْلَكُمْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ لِيَ اصْنَعْ كَذَا فَإِنِّي أَصْنَعُ كَذَا.
رجال الکشی: معاذ نحوی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے مجھ سے فرمایا: میں نے سنا ہے کہ تم جامع مسجد میں بیٹھتے ہو اور لوگوں کو فتویٰ دیتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اور میں چاہتا تھا کہ یہاں سے جانے سے پہلے اِس بارے میں آپ سے پوچھوں: میں جامع مسجد میں بیٹھتا ہوں، کوئی آتا ہے اور مجھ سے کچھ پوچھتا ہے؛ جب میں اُسے پہچان لوں کہ وہ آپ کا مخالف ہے تو اُنہی کے فتوے کے مطابق خبر دیتا ہوں۔ اور کوئی آتا ہے جسے میں جانتا ہوں کہ وہ آپ کا دوست ہے یا آپ کی دوستی کا دعویٰ کرتا ہے، تو میں آپ کی احادیث سے اُسے خبر دیتا ہوں۔ اور کوئی اور آتا ہے جسے میں نہیں جانتا کہ کون ہے، تو میں کہتا ہوں: فلاں سے یوں حدیث آئی ہے اور فلاں سے یوں، پھر گفتگو کے درمیان آپ کی حدیث داخل کر دیتا ہوں۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں، اپنا کام جاری رکھو۔
«40»- نَوَادِرُ الرَّاوَنْدِيِّ، بِإِسْنَادِهِ عَنْ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ آبَائِهِ عليهم السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ أَفْتَى بِغَيْرِ عِلْمٍ لَعَنَتْهُ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ ١وَ مَلَائِكَةُ الْأَرْضِ.
نوادر الراوندی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو بغیر علم و دانائی کے فتویٰ دے، آسمان اور زمین کے فرشتے اُس پر لعنت کرتے ہیں۔
«41»- نهج، نهج البلاغة قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام مَنْ تَرَكَ قَوْلَ لَا أَدْرِي أُصِيبَتْ مَقَاتِلُهُ.
نہج البلاغہ: اور فرمایا: جو «نہیں جانتا» کہنا چھوڑ دے، وہ خود کو قتل گاہ تک پہنچا دیتا ہے۔
بيان: أي من أجاب عن كل سؤال هلك و في بعض النسخ أصبيت كلمته بتقديم الموحدة أي أميلت كلمته في الجواب إلى الجهل.
یعنی جو ہر سوال کا جواب دے، وہ نابود ہو جائے۔ بعض نسخوں میں «اصیبت کلمۃ» ہے، یعنی جواب دینے میں اُس کی گفتار نادانی کی طرف کھنچ جاتی ہے۔
«42»- نهج، نهج البلاغة لَا تَقُلْ مَا لَا تَعْلَمُ بَلْ لَا تَقُلْ كُلَّ مَا تَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ قَدْ فَرَضَ عَلَى جَوَارِحِكَ كُلِّهَا فَرَائِضَ يَحْتَجُّ بِهَا عَلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
نہج البلاغہ: اور فرمایا: جو نہیں جانتے وہ نہ کہو، بلکہ جو کچھ جانتے ہو وہ سب بھی نہ کہو؛ کیونکہ اللہ نے تمہارے اعضاء پر کچھ چیزیں واجب کی ہیں اور قیامت کے دن اُنہی اعضاء کے ذریعے تم پر حجت قائم کرے گا۔
«43»- وَ قَالَ عليه السلام عَلَامَةُ الْإِيمَانِ أَنْ تُؤْثِرَ الصِّدْقَ حَيْثُ يَضُرُّكَ عَلَى الْكَذِبِ حَيْثُ يَنْفَعُكَ وَ أَنْ لَا يَكُونَ فِي حَدِيثِكَ فَضْلٌ عَنْ عِلْمِكَ وَ أَنْ تَتَّقِيَ اللَّهَ فِي حَدِيثِ غَيْرِكَ.
اور فرمایا: ایمان کی نشانی یہ ہے کہ تم سچ کو ـ خواہ وہ تمہارے نقصان میں ہو ـ اُس جھوٹ پر ترجیح دو جو تمہیں فائدہ دے؛ اور تمہاری گفتار تمہارے کردار سے زیادہ نہ ہو؛ اور جب تم کسی دوسرے کے بارے میں بات کرو تو تمہارے دل میں اللہ کا خوف آئے۔
بيان: لعل الضرر محمول على ما لا يبلغ حدا يجب فيه التقية و حديث الغير يحتمل الرواية و الغيبة و أشباههما أو المراد عدم مبادرة كلام الغير بالرد و إنكاره مع العلم بحقيته حسدا و مراء.
«ضرر» سے یہاں ممکن ہے وہ ضرر مراد ہو جس میں تقیہ واجب نہ ہو۔ «حدیث الغیر» سے احتمال ہے کہ دوسروں سے روایت یا غیبت وغیرہ مراد ہو؛ یا مراد یہ ہو کہ حسد اور بحث و تکرار کی بنا پر دوسروں کے کلام کے رد اور انکار میں جلدی نہ کی جائے، جبکہ وہ دوسروں کے کلام کی حقیقت خوب جانتا ہو۔
«44»- نهج، نهج البلاغة فِي وَصِيَّتِهِ لِلْحَسَنِ عليه السلام لَا تَقُلْ مَا لَا تَعْلَمُ وَ إِنْ قَلَّ مَا تَعْلَمُ.
نہج البلاغہ: آپ نے امام حسن علیہ السلام کو ایک وصیت میں فرمایا: جو تم نہیں جانتے وہ نہ کہو، خواہ جو تم جانتے ہو وہ تھوڑا ہی ہو۔
«45»- كَنْزُ الْكَرَاجُكِيِّ، قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام لَوْ سَكَتَ مَنْ لَا يَعْلَمُ سَقَطَ الِاخْتِلَافُ.
کنز الکراجکی: اگر نادان خاموش رہتا تو اختلاف مٹ جاتا۔