Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 120

«30»- سن، المحاسن ابْنُ فَضَّالٍ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام رَجُلَانِ تَدَارَءَا فِي شَيْ ءٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا أَشْهَدُ أَنَّ هَذَا كَذَا وَ كَذَا بِرَأْيِهِ فَوَافَقَ الْحَقَّ وَ كَفَّ الْآخَرُ فَقَالَ الْقَوْلُ قَوْلُ الْعُلَمَاءِ فَقَالَ هَذَا أَفْضَلُ الرَّجُلَيْنِ أَوْ قَالَ أَوْرَعُهُمَا.

المحاسن: عبید بن زرارہ ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے دو ایسے افراد کے بارے میں جو کسی چیز پر بحث کرتے ہیں اور ہر ایک اپنے نقطۂ نظر کا دفاع کرتا ہے ـ ایک اپنی رائے کی بنیاد پر کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ بات یہی ہے، اور اُس کی رائے حق کے مطابق بھی نکلتی ہے، اور دوسرا رائے دینے سے باز رہتا ہے اور کہتا ہے: علماء کا کلام درست ہے ـ فرمایا: یہ دوسرا شخص پہلے سے بہتر ہے؛ یا یوں فرمایا کہ وہ اُن میں زیادہ باتقویٰ ہے۔

بيان: قال الجوهري تدارءوا تدافعوا في الخصومة.

جوہری کہتے ہیں: «تدارأوا» یعنی دشمنی میں ایک دوسرے پر دباؤ ڈالا اور سختی کی۔

«31»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: لَوْ أَنَّ الْعِبَادَ إِذَا جَهِلُوا وَقَفُوا لَمْ يَجْحَدُوا وَ لَمْ يَكْفُرُوا.

المحاسن: زرارہ امام باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بندے جب نادان ہوں، اگر وہ رائے دینے سے باز رہیں تو [حق کا] انکار نہیں کرتے اور نتیجے میں کفر کی طرف نہیں جاتے۔

«32»- سن، المحاسن أَبِي عَمَّنْ حَدَّثَهُ رَفَعَهُ إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: إِنَّهُ لَا يَسَعُكُمْ فِيمَا يَنْزِلُ بِكُمْ مِمَّا لَا تَعْلَمُونَ إِلَّا الْكَفُّ عَنْهُ وَ التَّثَبُّتُ فِيهِ وَ الرَّدُّ إِلَى أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يُعَرِّفُوكُمْ فِيهِ الْحَقَّ وَ يَحْمِلُوكُمْ فِيهِ عَلَى الْقَصْدِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ

المحاسن: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو تم نہیں جانتے، اُس کے بارے میں اگر رُک جاؤ اور رائے دینے سے باز رہو تو تم کشائش میں رہو گے؛ ایسے موارد ائمۂ حق کے سامنے پیش کرو کہ وہ تمہیں حق پہچنوائیں اور سیدھی راہ کی ہدایت کریں۔ پھر آپ نے آیت «فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ» {پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر سے پوچھو۔} تلاوت فرمائی۔

«33»- سن، المحاسن ابْنُ فَضَّالٍ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الطَّيَّارِ أَنَّهُ عَرَضَ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام بَعْضَ خُطَبِ أَبِيهِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَوْضِعاً مِنْهَا قَالَ لَهُ كُفَّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام اكْتُبْ فَأَمْلَى عَلَيْهِ أَنَّهُ لَا يَنْفَعُكُمْ فِيمَا يَنْزِلُ بِكُمْ مِمَّا لَا تَعْلَمُونَ إِلَّا الْكَفُّ عَنْهُ وَ التَّثَبُّتُ فِيهِ وَ رَدُّهُ إِلَى أَئِمَّةِ الْهُدَى حَتَّى يَحْمِلُوكُمْ فِيهِ عَلَى الْقَصْدِ.

المحاسن: حمزۃ بن طیّار سے روایت ہے کہ اُنہوں نے امام باقر علیہ السلام کے بعض خطبے امام صادق علیہ السلام کے سامنے پیش کیے، یہاں تک کہ ایک جگہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: خاموش ہو جاؤ۔ اور فرمایا: لکھو۔ پس آپ نے اُن پر املا کرایا کہ: جو تم نہیں جانتے، اُس میں صرف خاموشی ہی تمہارے لیے فائدہ مند ہے؛ اور رُک جاؤ اور اُسے ائمۂ ہدیٰ کے سامنے پیش کرو تاکہ وہ تمہیں سیدھی راہ کی ہدایت فرمائیں۔

بيان: الأمر بالكف و السكوت إما لأن من عرض الخطبة فسر هذا الموضع برأيه و أخطأ أو لأنه كان في هذا الموضع غموض و لم يتثبت عنده و لم يطلب تفسيره أو لأنه عليه السلام أراد إنشاء ذلك فاستعجل لشدة الاهتمام.

خود کو روکنے اور خاموشی کا حکم یا راوی کی خطبے کے بارے میں تفسیر بالرائے اور غلطی کے سبب ہے، یا خطبے کے اُس حصے میں کچھ مشکلات اور دشواریاں تھیں جو راوی کے نزدیک ثابت نہ ہوئیں اور اُس نے اُن کی تفسیر بھی نہ چاہی؛ یا اِس سبب سے کہ امام علیہ السلام نے چاہا کہ خطبہ درست پڑھا جائے اور راوی نے جلدی کی، اور امام علیہ السلام کے شدید اہتمام کے سبب آپ نے ایسا حکم فرمایا۔

«34»- مص، مصباح الشريعة قَالَ الصَّادِقُ عليه السلام لَا تَحِلُّ الْفُتْيَا لِمَنْ لَا يَسْتَفْتِي مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ بِصَفَاءِ سِرِّهِ وَ إِخْلَاصِ عَمَلِهِ وَ عَلَانِيَتِهِ وَ بُرْهَانٍ مِنْ رَبِّهِ فِي كُلِّ حَالٍ لِأَنَّ مَنْ أَفْتَى فَقَدْ حَكَمَ وَ الْحُكْمُ لَا يَصِحُّ إِلَّا بِإِذْنٍ مِنَ اللَّهِ وَ بُرْهَانِهِ وَ مَنْ حَكَمَ بِالْخَبَرِ بِلَا مُعَايَنَةٍ فَهُوَ جَاهِلٌ مَأْخُوذٌ بِجَهْلِهِ مَأْثُومٌ بِحُكْمِهِ قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله أَجْرَؤُكُمْ بِالْفُتْيَا أَجْرَؤُكُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ أَ وَ لَا يَعْلَمُ الْمُفْتِي أَنَّهُ هُوَ الَّذِي يَدْخُلُ بَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى وَ بَيْنَ عِبَادِهِ وَ هُوَ الْحَاجِزُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ ١.

مصباح الشریعۃ: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: حلال یا حرام کے مسائل میں فتویٰ دینا اُس شخص کے لیے جائز نہیں جو اللہ تعالیٰ سے باطن کی صفائی، ظاہر میں عمل کے اخلاص اور ہر حال میں اپنے پروردگار کی طرف سے برہان کے ساتھ استفتا نہ کرے؛ کیونکہ جو فتویٰ دیتا ہے وہ حکم صادر کرتا ہے، اور حکم اللہ کی اجازت اور اُس کی برہان کے بغیر جائز نہیں۔ اور جو کسی حدیث پر اُس حدیث کا معنی، اُس کے صدور کی وجہ اور اُس حدیث اور دیگر احادیث کے درمیان جمع کی کیفیت جانے بغیر فتویٰ دے، وہ نادان ہے جس سے اُس کی نادانی کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور اُس کا حکم کرنا گناہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: تم میں فتویٰ پر سب سے زیادہ جرأت کرنے والا، اللہ عزوجل کے خلاف تم میں سب سے زیادہ دلیر ہے۔ کیا مفتی نہیں جانتا کہ اُس نے خود کو اللہ اور اُس کے بندوں کے درمیان داخل کیا ہے اور جنت و دوزخ کے درمیان پردہ بن گیا ہے؟

(١)1- يحتمل أن يكون هو تتمة كلام الصادق عليه السلام أو حديثا مستقلا رواه صاحب المصباح، و الاحتمالان يجريان في قوله بعد ذلك: قال أمير المؤمنين عليه السلام، فعلى الاحتمال الأول أدرج صاحب المصباح كلاما لنفسه بين الجملتين و هو قوله: قال سفيان إلخ.ممکن ہے یہ امام صادق علیہ السلام کے کلام کا تسلسل ہو یا ایک مستقل حدیث جو صاحبِ «المصباح» نے روایت کی؛ اور یہی دونوں احتمال اُس کے بعد والے کلام ـ «قال أمیر المؤمنین علیہ السلام» ـ کے بارے میں بھی جاری ہیں۔ پہلے احتمال کی بنا پر صاحبِ المصباح نے اپنا ایک کلام دو جملوں کے درمیان شامل کیا ہے، اور وہ «قال سفیان…» ہے۔