قَالُوا فَوَقَعَ عَلَيْنَا مِنَ الْفَرَحِ وَ السُّرُورِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى وَ عَلَی الرَّجُلِ وَ الْمُتَعَصِّبِينَ لَهُ مِنَ الْحُزْنِ وَ الْغَمِّ مِثْلُ مَا لَحِقَنَا مِنَ السُّرُورِ فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى الْإِمَامِ قَالَ لَنَا إِنَّ الَّذِي فِي السَّمَاوَاتِ مِنَ الْفَرَحِ وَ الطَّرَبِ بِكَسْرِ هَذَا الْعَدُوِّ لِلَّهِ كَانَ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ بِحَضْرَتِكُمْ وَ الَّذِي كَانَ بِحَضْرَةِ إِبْلِيسَ وَ عُتَاةِ ١ مَرَدَتِهِ مِنَ الشَّيَاطِينِ مِنَ الْحُزْنِ وَ الْغَمِّ أَشَدُّ مِمَّا كَانَ بِحَضْرَتِهِمْ وَ لَقَدْ صَلَّى عَلَى هَذَا الْكَاسِرِ لَهُ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ وَ الْحُجُبِ وَ الْكُرْسِيِّ وَ قَابَلَهَا اللَّهُ بِالْإِجَابَةِ فَأَكْرَمَ إِيَابَهُ وَ عَظَّمَ ثَوَابَهُ وَ لَقَدْ لَعَنَتْ تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ عَدُوَّ اللَّهِ الْمَكْسُورَ وَ قَابَلَهَا اللَّهُ بِالْإِجَابَةِ فَشَدَّدَ حِسَابَهُ وَ أَطَالَ عَذَابَهُ.
اِس کامیابی سے اہلِ بیت کے اصحاب و دوست اِس قدر خوش ہوئے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور اُسی قدر مخالفین و معاندین غمگین اور شکستہ ہوئے۔ جب وہ امام کے پاس لوٹے تو آپ نے فرمایا: اہلِ آسمان اُس دشمنِ خدا کی شکست اور مغلوبیت پر تم سے زیادہ مسرور ہوئے، اور ابلیس اور اُس کے مستکبر ساتھی مخالفین سے کئی گنا زیادہ غمگین اور مغموم ہوئے، اور آسمانوں، عرش اور کرسی کے فرشتوں نے اِس غالب شخص کے لیے رحمت و مغفرت طلب کی، اور اُس مخالف دشمن پر لعن و نفرین کی — اور اللہ نے سب کو مستجاب فرمایا۔
بيان: التسمع الاستماع و اكسر غرته أي غلبته و شوكته و الفل الكسر و الحد طرف السيف و غيره و من الرجل بأسه و شدته أي اكسر حدته و بأسه و لا تبق له باقية أي حجة باقية فأكرم إيابه أي رجوعه إلى اللّٰه عز و جل.
«التَسَمُّع» بمعنی سننا ہے۔ «اکسر غُرّتہ» یعنی اُس کا غلبہ اور شوکت توڑ دے۔ «الفلّ» بمعنی توڑنا، «الحدّ» تلوار وغیرہ کی دھار کو کہتے ہیں؛ اور «من الرجل بأسہ و شدتہ» یعنی «حدّ» جب کسی مرد کی طرف منسوب ہو تو اُس کی عظمت و شوکت کے معنیٰ میں آتا ہے، یعنی اُس کی شوکت توڑ دے اور اُس کے لیے کوئی حجت باقی نہ چھوڑے؛ پس حدیث کا مفہوم یہی بنتا ہے۔ «فاکرم ایابہ» یعنی اُس کی اللہ عزّوجل کی طرف بازگشت کو گرامی رکھا۔
«24»- م، تفسير الإمام عليه السلام قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ الْعَسْكَرِيُّ عليه السلام إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عليهما السلام بِرَجُلٍ يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلُ أَبِيهِ فَاعْتَرَفَ فَأَوْجَبَ عَلَيْهِ الْقِصَاصَ وَ سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ لِيُعْظِمَ اللَّهُ ثَوَابَهُ فَكَأَنَّ نَفْسَهُ لَمْ تَطِبْ بِذَلِكَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليهما السلام لِلْمُدَّعِي لِلدَّمِ الْوَلِيِّ الْمُسْتَحِقِّ لِلْقِصَاصِ إِنْ كُنْتَ تَذْكُرُ لِهَذَا الرَّجُلِ عَلَيْكَ فَضْلًا فَهَبْ لَهُ هَذِهِ الْجِنَايَةَ وَ اغْفِرْ لَهُ هَذَا الذَّنْبَ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ لَهُ عَلَىَّ حَقٌّ وَ لَكِنْ لَمْ يَبْلُغْ أَنْ أَعْفُوَ عَنْ قَتْلِ وَالِدِي قَالَ فَتُرِيدُ مَا ذَا قَالَ أُرِيدُ الْقَوَدَ ٢ فَإِنْ أَرَادَ لِحَقِّهِ عَلَىَّ أَنْ أُصَالِحَهُ عَلَى الدِّيَةِ صَالَحْتُهُ وَ عَفَوْتُ عَنْهُ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليهما السلام فَمَا ذَا حَقُّهُ عَلَيْكَ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ لَقَّنَنِي تَوْحِيدَ اللَّهِ وَ نُبُوَّةَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ وَ إِمَامَةَ عَلِیٍّ وَ الْأَئِمَّةِ عليهم السلام فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ عليهما السلام فَهَذَا لَا يَفِي بِدَمِ أَبِيكَ بَلَى وَ اللَّهِ هَذَا يَفِي بِدِمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ كُلِّهِمْ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ سِوَی الْأَنْبِيَاءِ وَ الْأَئِمَّةِ عليهم السلام إِنْ قُتِلُوا فَإِنَّهُ لَا يَفِي بِدِمَائِهِمْ شَيْ ءٌ أَنْ يُقْنَعَ مِنْهُ بِالدِّيَةِ قَالَ بَلَى قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ لِلْقَاتِلِ أَ فَتَجْعَلُ لِي ثَوَابَ تَلْقِينِكَ لَهُ حَتَّى أَبْذُلَ لَكَ الدِّيَةَ فَتَنْجُوَ بِهَا مِنَ الْقَتْلِ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ أَنَا مُحْتَاجٌ إِلَيْهَا وَ أَنْتَ مُسْتَغْنٍ عَنْهَا فَإِنَ
تفسیرِ امام حسن عسکری علیہ السلام: امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: ایک شخص ایک دوسرے آدمی کے ہمراہ امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں آیا جسے وہ اپنے باپ کا قاتل سمجھتا تھا؛ اُس نے اعتراف کر لیا تھا اور اُس پر قصاص واجب ہو چکا تھا۔ قاتل نے اُس شخص سے درخواست کی کہ اُسے معاف کر دے تاکہ اللہ اُسے بہت ثواب دے، مگر گویا اُس کا نفس اِس پر راضی نہ ہوا۔ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: اے خون کے طالب اور ولی اور قصاص کے مستحق! اگر تم سمجھتے ہو کہ اِس شخص کی تم پر کوئی فضیلت ہے تو اِس جنایت کو معاف کر دو اور اِس کا یہ گناہ بخش دو۔ اُس نے کہا: اے فرزندِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ! اِس کا مجھ پر حق تو ہے، مگر اِس قدر نہیں کہ میں اپنے باپ کا خون چھوڑ دوں! آپ نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ اُس نے کہا: میں قصاص چاہتا ہوں؛ اور اگر وہ چاہے تو دیت پر مصالحت کر لوں اور اُسے معاف کر دوں۔ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: اُس کا تم پر کیا حق ہے؟ اُس نے کہا: اے فرزندِ رسولِ خدا! اُس نے مجھے پروردگار کی توحید، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی نبوت، اور علی علیہ السلام اور ائمہ علیہم السلام کی امامت کی تلقین کی اور سکھائی۔ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: کیا یہ تمہارے باپ کے خون کے برابر نہیں؟ کیوں نہیں! اللہ کی قسم، یہ کام اہلِ زمین کے اوّلین و آخرین سب کے خون کے برابر ہے، سوائے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کے؛ کیونکہ اگر وہ دیت پر راضی ہو جائیں تو اُن کے خون کی کوئی چیز تلافی نہیں کر سکتی۔ مگر مقتول کے ولی نے کہا: جی ہاں۔ امام سجاد علیہ السلام نے قاتل سے فرمایا: کیا تم اپنی تلقین کا ثواب میرے لیے قرار دیتے ہو تاکہ میں تمہاری طرف سے دیت ادا کروں اور تم قتل سے بچ جاؤ؟ اُس نے کہا: اے فرزندِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ! میں اُس کا محتاج ہوں اور آپ اُس سے بے نیاز ہیں،