وَ أَسْمَاءِ خُلَفَائِهِمَا وَ يُلَقَّبُ بِأَلْقَابِهِمْ فَيَقُولُ ذَلِكَ وَ يُبَلِّغُ اللَّهُ جَمِيعَ أَهْلِ الْعَرَصَاتِ فَلَا يَبْقَى كَافِرٌ وَ لَا جَبَّارٌ وَ لَا شَيْطَانٌ إِلَّا صَلَّى عَلَى هَذَا الْكَاسِرِ لِأَعْدَاءِ مُحَمَّدٍ وَ لَعَنَ الَّذِينَ كَانُوا يُنَاصِبُونَهُ فِي الدُّنْيَا مِنَ النَّوَاصِبِ لِمُحَمَّدٍ وَ عَلِیٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا.
اور خود کو اُن کے القاب سے ملقب کیا — پس اللہ یہ کہتا ہے اور تمام اہلِ محشر تک پہنچاتا ہے، اور کوئی کافر، ظالم اور شیطان ایسا نہیں بچتا مگر یہ کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے دشمنوں کو توڑنے والے اِس شخص پر درود بھیجتا ہے، اور اُن لوگوں پر لعنت کرتا ہے جو دنیا میں اُس سے دشمنی کرتے تھے، یعنی محمد و علی — صلوات اللہ علیہما — کے دشمنوں پر۔
«21»- م، تفسير الإمام عليه السلام ج، الإحتجاج بِالْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى الرِّضَا عليهما السلام أَفْضَلُ مَا يُقَدِّمُهُ الْعَالِمُ مِنْ مُحِبِّينَا وَ مَوَالِينَا أَمَامَهُ لِيَوْمِ فَقْرِهِ وَ فَاقَتِهِ وَ ذُلِّهِ وَ مَسْكَنَتِهِ أَنْ يُغِيثَ فِي الدُّنْيَا مِسْكِيناً مِنْ مُحِبِّينَا مِنْ يَدِ نَاصِبٍ عَدُوٍّ لِلَّهِ وَ لِرَسُولِهِ يَقُومُ مِنْ قَبْرِهِ وَ الْمَلَائِكَةُ صُفُوفٌ مِنْ شَفِيرِ قَبْرِهِ ١ إِلَى مَوْضِعِ مَحَلِّهِ مِنْ جِنَانِ اللَّهِ فَيَحْمِلُونَهُ عَلَى أَجْنِحَتِهِمْ وَ يَقُولُونَ طُوبَاكَ طُوبَاكَ يَا دَافِعَ الْكِلَابِ عَنِ الْأَبْرَارِ وَ يَا أَيُّهَا الْمُتَعَصِّبُ لِلْأَئِمَّةِ الْأَخْيَارِ.
تفسیرِ امام حسن عسکری علیہ السلام: امام حسن عسکری علیہ السلام سے نقل ہے کہ حضرت رضا علیہ السلام نے فرمایا: بہترین زادِ راہ جو ہمارا دوستدار عالم اپنے فقر و حاجت و ذلت کے دن کے لیے ذخیرہ کرتا ہے، وہ ہمارے ناتواں دوستوں کا علمی دفاع اور اُنہیں دشمنانِ خدا و رسول کے چنگل سے نجات دلانا ہے۔ پھر جب وہ قبر سے اٹھے گا تو فرشتوں کی صفیں دیکھے گا جو اُس کی قبر کی جگہ سے لے کر جنتِ بریں میں اُس کے مقام تک صف باندھے کھڑی ہوں گی، اور وہ اُسے اپنے پروں پر اٹھا کر جنت میں اُس کی خاص عمارت تک لے جائیں گی، اور اُس سے کہیں گی: شاباش! تمہیں مبارک ہو، اے وہ جس نے نیکوں کے دشمنوں کو مقہور کیا اور اپنے ائمۂ اطہار کی حمایت و طرفداری کی!
«22»- م، تفسير الإمام عليه السلام قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ عليه السلام قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوَادُ عليهما السلام إِنَّ حُجَجَ اللَّهِ عَلَى دِينِهِ أَعْظَمُ سُلْطَاناً يُسَلِّطُ اللَّهُ بِهَا عَلَى عِبَادِهِ فَمَنْ وَفَّرَ مِنْهَا حَظَّهُ فَلَا يَرَيَنَّ ٢ أَنَّ مَنْ مَنَعَهُ ذَاكَ فَقَدْ فَضَّلَهُ عَلَيْهِ وَ لَوْ جَعَلَهُ فِي الذِّرْوَةِ ٣ الْعُلْيَا مِنَ الشَّرَفِ وَ الْمَالِ وَ الْجَمَالِ فَإِنَّهُ إِنْ رَأَى ذَلِكَ فَقَدْ حَقَّرَ عَظِيمَ نِعَمِ اللَّهِ لَدَيْهِ وَ إِنَّ عَدُوّاً مِنْ أَعْدَائِنَا النَّوَاصِبِ يَدْفَعُهُ بِمَا تَعَلَّمَهُ مِنْ عُلُومِنَا أَهْلَ الْبَيْتِ لَأَفْضَلُ لَهُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لِمَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ وَ لَوْ تَصَدَّقَ بِأَلْفِ ضِعْفِهِ.
تفسیرِ امام حسن عسکری علیہ السلام: امام حسن عسکری علیہ السلام نے امام جواد علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: اللہ کی حجتیں اُس کے دین پر سب سے بڑی سلطنت اور عطا ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کو بخشی اور اُن پر مسلط کی ہیں۔ جو شخص اللہ کی حجتوں سے اپنا حصہ بڑھائے، وہ کبھی محسوس نہیں کرے گا کہ جو اِن حجتوں سے بے بہرہ ہے اُس نے اُس پر کوئی فضیلت پائی ہے، خواہ وہ بے بہرہ شخص مقام، مال اور جمال کی بلند ترین چوٹی پر ہو۔ لیکن اگر وہ جو اُن حجتوں سے بہرہ مند ہے یہ گمان کرے کہ صاحبِ مقام و مال و جمال اُس پر برتری رکھتا ہے، تو بلا شبہ اُس نے اللہ کی اُس عظیم نعمت کو حقیر سمجھا جو اُس کے پاس ہے۔ اُس کا ہمارے ناصبی دشمنوں میں سے کسی کا شر اُس علم کے ذریعے دفع کرنا جو اُس نے ہم اہلِ بیت سے سیکھا، اُس کے لیے اُس سارے مال سے بہتر ہے جو اُس برتر دکھائی دینے والے شخص کو دیا گیا — خواہ اُس نے اُس کا ہزار گنا صدقہ کیا ہو۔
«23»- م، تفسير الإمام عليه السلام ج، الإحتجاج وَ بِالْإِسْنَادِ إِلَى أَبِي مُحَمَّدٍ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ لِبَعْضِ تَلَامِذَتِهِ لَمَّا اجْتَمَعَ قَوْمٌ مِنَ الْمَوَالِي وَ الْمُحِبِّينَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله بِحَضْرَتِهِ وَ قَالُوا يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ إِنَّ لَنَا جَاراً مِنَ النُّصَّابِ يُؤْذِينَا وَ يَحْتَجُّ عَلَيْنَا فِي تَفْضِيلِ الْأَوَّلِ وَ الثَّانِي وَ الثَّالِثِ عَلَی أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام وَ يُورِدُ عَلَيْنَا حُجَجاً لَا نَدْرِي كَيْفَ الْجَوَابُ عَنْهَا وَ الْخُرُوجُ مِنْهَا قَالَ مُرَّ بِهَؤُلَاءِ إِذَا كَانُوا مُجْتَمِعِينَ يَتَكَلَّمُونَ فَتَسَمَّعْ عَلَيْهِمْ فَيَسْتَدْعُونَ مِنْكَ الْكَلَامَ فَتَكَلَّمْ وَ أَفْحِمْ صَاحِبَهُمْ وَ اكْسِرْ غِرَّتَهُ وَ فُلَّ حَدَّهُ وَ لَا تُبْقِ لَهُ بَاقِيَةً فَذَهَبَ الرَّجُلُ وَ حَضَرَ الْمَوْضِعَ وَ حَضَرُوا وَ كَلَّمَ الرَّجُلَ فَأَفْحَمَهُ وَ صَيَّرَهُ لَا يَدْرِي فِي السَّمَاءِ هُوَ أَوْ فِي الْأَرْضِ
تفسیرِ امام حسن عسکری علیہ السلام اور الاحتجاج: اور اسی سابقہ سند سے نقل ہے: ایک دن آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے محبوں کا ایک گروہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے فرزندِ رسولِ خدا! ہمارے پڑوس میں اہلِ بیت کے دشمنوں میں سے ایک شخص رہتا ہے جو ہمیں مسلسل اذیت دیتا ہے اور امیر المؤمنین علیہ السلام پر تین خلفاء کی برتری کے ایسے دلائل پیش کرتا ہے جن کا جواب ہم نہیں دے پاتے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: میں تمہاری طرف ایک شخص بھیجوں گا جو اُسے مجاب کرے اور اُس کے دلائل باطل کرے۔ پھر آپ نے اپنے ایک شاگرد کو مامور فرمایا کہ وہ اُس شخص کے ساتھ اُن کی بحث کی مجلس میں حاضر ہو اور اُن کی گفتگو سنے، اور جب وہ بولنے کی اجازت مانگے تو حتی الامکان اُس شخص کی بات کے بطلان اور اُس کے عقیدے کے کھوکھلے پن کو ثابت کرنے کی کوشش کرے اور اُسے مکمل طور پر مجاب کرے۔ چنانچہ وہ اٹھا اور اُن کے ہمراہ اُن کی بحث کی مجلس میں حاضر ہوا، اور امام علیہ السلام ہی کے انداز میں بحث میں داخل ہوا اور اُسے سخت شکست دی اور مجاب کر دیا۔