Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 117

عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ حُمْرَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام يَقُولُ مَنِ اسْتَأْكَلَ بِعِلْمِهِ افْتَقَرَ فَقُلْتُ لَهُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنَّ فِي شِيعَتِكَ وَ مَوَالِيكَ قَوْماً يَتَحَمَّلُونَ عُلُومَكُمْ وَ يَبُثُّونَهَا فِي شِيعَتِكُمْ فَلَا يَعْدَمُونَ عَلَى ذَلِكَ مِنْهُمُ الْبِرَّ وَ الصِّلَةَ وَ الْإِكْرَامَ فَقَالَ عليه السلام لَيْسَ أُولَئِكَ بِمُسْتَأْكِلِينَ إِنَّمَا الْمُسْتَأْكِلُ بِعِلْمِهِ الَّذِي يُفْتِي بِغَيْرِ عِلْمٍ وَ لَا هُدًی مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ لِيُبْطِلَ بِهِ الْحُقُوقَ طَمَعاً فِي حُطَامِ الدُّنْيَا.

حمزۃ بن حمران کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے سنا، فرما رہے تھے: جو اپنے علم کو اپنی روزی کا ذریعہ بنائے، وہ تنگ دستی میں مبتلا ہو گا۔ میں نے عرض کیا: آپ پر قربان! آپ کے شیعوں اور دوستوں میں ایک گروہ ہے جو وہ علوم جو اُنہوں نے آپ سے سیکھے، اُن مقامات پر لے جاتا ہے جہاں آپ کے شیعہ رہتے ہیں اور اُن میں پھیلاتا ہے، اور وہ لوگ بھی اِس کام کے بدلے میں نیکی اور عطا سے دریغ نہیں کرتے اور اُن کے احترام سے باز نہیں رہتے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ اپنے علم کے ذریعے روزی کھانے والے نہیں؛ بلکہ اپنے علم سے روزی کھانے والا وہ ہے جو بغیر اِس کے کہ اُس کے پاس کوئی علم ہو یا اللہ کی طرف سے اُسے رہنمائی ملی ہو، ایسا فتویٰ دے جس سے دنیا کے تھوڑے مال کی امید میں حقوق پامال کرے۔

«15»- مع، معاني الأخبار ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ ابْنِ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ حُمْرَانَ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام إِنَّ مَنْ أَجَابَ فِي كُلِّ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ لَمَجْنُونٌ.

معانی الأخبار: حمزۃ بن حمران کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بے شک وہ آدمی جو ہر اُس بات کا جواب دے جو اُس سے پوچھی جائے، دیوانہ ہے۔

«16»- مع، معاني الأخبار أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ سَهْلٍ عَنْ جَعْفَرٍ الْكُوفِيِّ عَنِ الدِّهْقَانِ عَنْ دُرُسْتَ عَنِ ابْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله اتَّقُوا تَكْذِيبَ اللَّهِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ كَيْفَ ذَاكَ قَالَ يَقُولُ أَحَدُكُمْ قَالَ اللَّهُ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ كَذَبْتَ لَمْ أَقُلْهُ وَ يَقُولُ لَمْ يَقُلِ اللَّهُ فَيَقُولُ عَزَّ وَ جَلَّ كَذَبْتَ قَدْ قُلْتُهُ.

معانی الأخبار: ابوابراہیم کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اِس سے بچو کہ اللہ کی تکذیب کرو۔ عرض کیا گیا: اے رسولِ خدا! وہ کیسے؟ فرمایا: تم میں سے کوئی کہتا ہے: اللہ نے یوں فرمایا ـ اور اللہ فرماتا ہے: تم نے جھوٹ کہا، میں نے یہ نہیں کہا؛ یا کہتا ہے: اللہ نے نہیں فرمایا ـ تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: تم نے جھوٹ کہا، میں نے یہ کہا تھا۔

«17»- ثو، ثواب الأعمال مَاجِيلَوَيْهِ عَنْ عَمِّهِ عَنِ الْكُوفِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَسَدِيِّ عَنْ أَبِي خَدِيجَةَ ١ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام قَالَ: الْكَذِبُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ عَلَی رَسُولِهِ وَ عَلَی الْأَوْصِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَ السَّلَامُ مِنَ الْكَبَائِرِ.

ثواب الأعمال: ابوخدیجہ کہتے ہیں: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اللہ پر، رسول پر اور رسول کے اوصیاء پر جھوٹ باندھنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔

وَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو مجھ پر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم کی آگ میں تیار کر لے۔

سن، المحاسن محمد بن علی و علي بن عبد اللّٰه عن عبد الرحمن بن محمد الأسدي مثله.

المحاسن: اُس حدیث کی مانند روایت ہوا ہے۔

«18»- كش، رجال الكشي سَعْدٌ عَنِ الْيَقْطِينِيِّ عَنْ أَخِيهِ جَعْفَرِ بْنِ عِيسَى وَ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الرِّضَا عليه السلام قَالَ: وَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ يَكْذِبُ عَلَيْنَا إِلَّا وَ يُذِيقُهُ اللَّهُ حَرَّ الْحَدِيدِ.

رجال الکشی: امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اللہ کی قسم، کوئی ہم پر جھوٹ نہیں باندھتا مگر یہ کہ اللہ اُسے تلوار کی چمک چکھا دیتا ہے۔

«19»- سن، المحاسن أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي الْجَارُودِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي سُخَيْلَةَ ٢ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيّاً عليه السلام عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ ثَلَاثٌ لَا دِينَ لَهُمْ لَا دِينَ لِمَنْ دَانَ بِجُحُودِ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَ لَا دِينَ لِمَنْ دَانَ بِفِرْيَةِ بَاطِلٍ عَلَى اللَّهِ وَ لَا دِينَ لِمَنْ دَانَ بِطَاعَةِ مَنْ عَصَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ لَا خَيْرَ فِي دِينٍ لَا تَفَقُّهَ فِيهِ

المحاسن: ابوسخیلہ کہتے ہیں: میں نے امام علی علیہ السلام سے کوفہ کے منبر پر سنا، فرما رہے تھے: اے لوگو! تین کے پاس دین نہیں: وہ جو کتابِ خدا کی کسی آیت کے انکار پر دینداری کرے، وہ جو اللہ پر باطل جھوٹ باندھ کر دینداری کرے، اور وہ جو ایسے شخص کی اطاعت کرے جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔ پھر فرمایا: اے لوگو! اُس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں سمجھ نہ ہو، اور اُس دنیا میں کوئی خیر نہیں جس میں غور و فکر نہ ہو،

(١)1- هو سالم بن مكرم بن عبد اللّٰه، و كان كنيته أبی سلمة فغيّرها و كنّاه بذلك.وہ سالم بن مکرم بن عبداللہ ہیں؛ اُن کی کنیت ابوسلمہ تھی جسے بدل دیا گیا اور اُنہیں اِس کنیت سے پکارا گیا۔
(٢)2- بضم السين و فتح الخاء المعجمة هو عاصم بن ظريف.سین کے ضمہ اور خاءِ نقطہ دار کے فتحہ کے ساتھ؛ وہ عاصم بن ظریف ہیں۔