Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 113

الجاثية: «وَ ما لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ»(23)

{اور اُنہیں اِس [بات] کا کوئی علم نہیں [اور] وہ صرف گمان [کی راہ] پر چلتے ہیں۔}

الأحقاف: «أَمْ يَقُولُونَ افْتَراهُ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَلا تَمْلِكُونَ لِي مِنَ اللَّهِ شَيْئاً»(7)

الأحقاف: {یا وہ کہتے ہیں: اُس نے یہ [کتاب] گھڑ لی ہے۔ کہہ دو: اگر میں نے اُسے گھڑا ہو تو اللہ کے مقابلے میں تم میرے لیے کسی چیز کے مالک نہیں۔ وہ بہتر جانتا ہے جس [طعن] میں تم پڑے ہو۔ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے، اور وہی بخشنے والا، مہربان ہے۔}

الصف: «وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ يُدْعي إِلَى الْإِسْلامِ»(6)

الصف: {اور اُس سے بڑا ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے جبکہ اُسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو؟ اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔}

الحاقة: «وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنا بَعْضَ الْأَقاوِيلِ لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنا مِنْهُ الْوَتِينَ فَما مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حاجِزِينَ»(44 ،45 ،46 ،47)

الحاقہ: {اور اگر [وہ] ہم پر کچھ باتیں گھڑ لیتا،} {تو ہم اُس کا دایاں ہاتھ سختی سے پکڑ لیتے،} {پھر اُس کی رگِ جان کاٹ ڈالتے،} {اور تم میں سے کوئی [اُس کے عذاب میں] مانع نہ ہوتا۔}

الجن: «وَ أَنَّا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ تَقُولَ الْإِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللَّهِ كَذِباً»(4)

الجن: {اور ہم نے گمان کیا تھا کہ انسان اور جن ہرگز اللہ پر جھوٹ نہیں باندھتے۔}

«1»- كِتَابُ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ مَوْلًى لِعَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام عَلَى مِنْبَرٍ لَهُ مِنْ لَبِنٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَ أَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَ لَا تُفْتُوا النَّاسَ بِمَا لَا تَعْلَمُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ قَوْلًا آلَ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ وَ قَالَ قَوْلًا وُضِعَ عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهِ وَ كُذِبَ عَلَيْهِ فَقَامَ إِلَيْهِ عَلْقَمَةُ وَ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ فَقَالا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا نَصْنَعُ بِمَا قَدْ خُبِّرْنَا فِي هَذَا الصُّحُفِ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ سَلَا عَنْ ذَلِكَ عُلَمَاءَ آلِ مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله كَأَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ.

کتاب عاصم بن حمید: عبیدہ سلمانی کہتے ہیں: امیر المؤمنین علیہ السلام نے ہمارے لیے اینٹوں کے منبر پر خطبہ دیا۔ حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا: اے لوگو! پرہیزگار بنو اور جو تم نہیں جانتے اُس پر لوگوں کو فتویٰ نہ دو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی کچھ احادیث ہیں جو دوسروں تک پہنچی ہیں، اور کچھ باتیں ہیں جو اپنی جگہ پر نہیں رکھی گئیں، اور آپ پر جھوٹ باندھا گیا ہے۔ علقمہ اور عبیدہ سلمانی مجمع میں سے اٹھے اور کہا: اے امیر المؤمنین! اُن احادیث کے ساتھ کیا کریں جو اِن کتابوں میں پیغمبر کے اصحاب سے ہم تک پہنچی ہیں؟ آپ نے فرمایا: اِس بارے میں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کے عالموں سے پوچھو ـ گویا آپ کی مراد خود آپ تھے۔

«2»- لي، الأمالي للصدوق ابْنُ مَسْرُورٍ عَنِ ابْنِ عَامِرٍ عَنْ مُعَلًّى عَنِ ابْنِ أَسْبَاطٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سَمَاعَةَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَعْيَنَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ الْبَاقِرَ عليه السلام مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قَالَ أَنْ يَقُولُوا مَا يَعْلَمُونَ وَ يَقِفُوا عِنْدَ مَا لَا يَعْلَمُونَ.

امالیِ صدوق: زرارۃ بن اعین کہتے ہیں: میں نے امام باقر علیہ السلام سے پوچھا: اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ فرمایا: جو وہ جانتے ہیں وہ کہیں اور جو نہیں جانتے اُس میں رُک جائیں۔

«3»- لي، الأمالي للصدوق أَبِي عَنْ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصَّادِقِ عليه السلام قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى عَيَّرَ عِبَادَهُ بِآيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِهِ أَنْ لَا يَقُولُوا حَتَّى يَعْلَمُوا وَ لَا يَرُدُّوا مَا لَمْ يَعْلَمُوا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ أَ لَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثاقُ الْكِتابِ أَنْ لا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ وَ قَالَ بَلْ كَذَّبُوا بِما لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَ لَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ

امالیِ صدوق: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کی دو آیتوں میں اپنے بندوں کو ملامت کی ہے، تاکہ جب نہ جانتے ہوں تو کچھ نہ کہیں، اور جو نہ جانتے ہوں اُس کا انکار نہ کریں۔ اللہ نے فرمایا: «أَ لَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِیثاقُ الْکِتابِ أَنْ لا یَقُولُوا عَلَی اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ» {کیا اُن سے کتاب [آسمانی] کا عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہیں، جبکہ اُنہوں نے وہ سب پڑھ رکھا ہے جو اُس [کتاب] میں ہے؟} اور فرمایا: «بَلْ کَذَّبُوا بِما لَمْ یُحِیطُوا بِعِلْمِهِ وَ لَمَّا یَأْتِهِمْ تَأْوِیلُهُ» {بلکہ اُنہوں نے اُس چیز کو جھٹلایا جس کے علم پر اُنہیں احاطہ نہ تھا اور ابھی اُس کی تاویل اُن کے پاس نہیں آئی۔}

شی، تفسير العياشي عن إسحاق بن عبد العزيز مثله- شی، تفسير العياشي عن أبي السفاتج١

تفسیر عیاشی: اسحاق بن عبدالعزیز نے اوپر والی حدیث کی مانند روایت کی ہے۔

مثله

تفسیر عیاشی: ابوسفاتج سے اوپر والی حدیث کی مانند نقل ہوا ہے۔

(١)1- جمع سفتجة- بضم السين و سكون الفاء و فتح التاء- معرب سفتة، و أبو السفاتج تكون كنية إسحاق بن عبد العزيز و إسحاق بن عبد اللّٰه معا، عدهما الشيخ في رجاله من أصحاب الصادق عليه السلام، و حكی عن ابن الغضائري أنّه قال: إسحاق بن عبد العزيز البزاز كوفيّ، يكنی أبا يعقوب و يلقب أبا السفاتج روی عن أبي عبد اللّٰه عليه السلام، يعرف حديثه تارة و ينكر اخری، و يجوز أن يخرج شاهد«سُفتَجہ» کی جمع ـ سین کے ضمہ، فاء کے سکون اور تاء کے فتحہ کے ساتھ ـ «سفتہ» کا معرب۔ اور «ابوالسفاتج» اسحاق بن عبدالعزیز اور اسحاق بن عبداللہ دونوں کی کنیت ہے؛ شیخ نے دونوں کو اپنی رجال میں امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔ اور ابن الغضائری سے نقل ہے کہ اُنہوں نے کہا: اسحاق بن عبدالعزیز بزّاز، کوفی، کنیت ابویعقوب اور لقب ابوالسفاتج؛ اُنہوں نے ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت کی، اُن کی حدیث کبھی پہچانی جاتی ہے اور کبھی ناپہچانی، اور روا ہے کہ اُسے بطورِ شاہد لایا جائے۔