«24»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله يَظْهَرُ الدِّينُ حَتَّى يُجَاوِزَ الْبِحَارَ وَ يُخَاضُ الْبِحَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِكُمْ أَقْوَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَقُولُونَ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ مَنْ أَقْرَأُ مِنَّا وَ مَنْ أَفْقَهُ مِنَّا وَ مَنْ أَعْلَمُ مِنَّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ هَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ خَيْرٍ قَالُوا لَا قَالَ أُولَئِكَ مِنْكُمْ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَ أُولئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ.
اور فرمایا: اللہ اِس دین کو اتنا پھیلائے گا کہ وہ سمندروں سے پار ہو جائے گا اور اللہ کے لیے سمندر چیرے جائیں گے۔ پھر تمہارے بعد ایک گروہ آئے گا جو قرآن کی آیت تلاوت کرے گا اور کہے گا: ہم قاریِ قرآن ہیں؛ کیا دنیا میں کوئی ہم سے بڑھ کر قاری، فقیہ اور عالم ہے! پھر آپ نے اپنے اصحاب کی طرف رُخ کیا اور فرمایا: کیا اِس گروہ سے خیر کی توقع ہے؟ اُنہوں نے کہا: نہیں! فرمایا: وہ تم ہی اِس امت میں سے ہیں، اور آیتِ مبارکہ «وَ أُولئِکَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ» {اور وہی دوزخ کا ایندھن ہیں۔} کا خطاب اُنہی سے ہے۔
«25»- وَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام قَصَمَ ظَهْرِي عَالِمٌ مُتَهَتِّكٌ وَ جَاهِلٌ مُتَنَسِّكٌ فَالْجَاهِلُ يَغُشُّ النَّاسَ بِتَنَسُّكِهِ وَ الْعَالِمُ يَغُرُّهُمْ بِتَهَتُّكِهِ.
امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: دو شخصوں نے میری کمر توڑ دی: ۱۔ بے حیا عالم، ۲۔ جاہل عابد؛ پس جاہل اپنی عبادت سے لوگوں کو فریب دیتا ہے اور عالم اپنی بے حیائی اور بے پروائی سے۔
باب 16 النهى عن القول بغير علم و الإفتاء بالرأي و بيان شرائطه
باب سولہواں: علم کے بغیر بات کرنے اور رائے سے فتویٰ دینے سے پرہیز، اور اُس کی شرائط کا بیان
الآيات؛
آیات
البقرة: «فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هذا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَناً قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَ وَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ»(78) (و قال تعالى): «أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ ما لا تَعْلَمُونَ»(79)
{پس اُن لوگوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب [تحریف شدہ] لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اُس کے بدلے تھوڑی قیمت حاصل کریں؛ پس اُن کے لیے ہلاکت ہے اُس کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے لکھا، اور اُن کے لیے ہلاکت ہے اُس کے سبب جو وہ کماتے ہیں۔} {کیا تم اللہ پر وہ بات جھوٹ باندھتے ہو جو تم نہیں جانتے؟}
آل عمران: «وَ إِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتابِ وَ ما هُوَ مِنَ الْكِتابِ وَ يَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَ ما هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَ يَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ يَعْلَمُونَ»(77) (و قال تعالى): «فَمَنِ افْتَرى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ»(93)
آل عمران: {اور اُن میں سے ایک گروہ ہے جو کتاب [تحریف شدہ] پڑھتے ہوئے اپنی زبانیں مروڑتا ہے تاکہ تم اُس [گھڑی ہوئی بات] کو [آسمانی] کتاب [کے مطالب] میں سے سمجھو، حالانکہ وہ [آسمانی] کتاب میں سے نہیں؛ اور کہتے ہیں: وہ اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں، اور وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں جبکہ وہ [خود بھی] جانتے ہیں۔} {پس جو لوگ اِس کے بعد اللہ پر جھوٹ باندھیں، وہی ظالم ہیں۔}
النساء: «انْظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَ كَفی بِهِ إِثْماً مُبِيناً»(49)
النساء: {دیکھو وہ کیسے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ اور یہی ایک کھلا گناہ کافی ہے۔}
المائدة: «وَ مَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْكافِرُونَ»(43) (و قال): «وَ مَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ»(44) (و قال): «وَ مَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْفاسِقُونَ»(46) (و قال تعالی): «وَ لكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْقِلُونَ»(102)
{اور جو لوگ اُس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا، وہی کافر ہیں۔} {اور جو لوگ اُس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا، وہی ظالم ہیں۔} {اور جو لوگ اُس کے مطابق حکم نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا، وہی نافرمان ہیں۔} {لیکن جن لوگوں نے کفر کیا، وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اُن میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔}
الأنعام: «وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللَّهِ كَذِباً أَوْ كَذَّبَ بِآياتِهِ إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ»(21) (و قال تعالی): «افْتِراءً عَلَيْهِ سَيَجْزِيهِمْ بِما كانُوا يَفْتَرُونَ»(137) (و قال تعالى): «قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلادَهُمْ سَفَهاً بِغَيْرِ عِلْمٍ وَ حَرَّمُوا ما رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِراءً عَلَى اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا وَ ما كانُوا مُهْتَدِينَ»(139)
{اور اُس سے بڑا ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اُس کی آیات کو جھٹلائے؟ بے شک ظالم فلاح نہیں پاتے۔} {عنقریب [اللہ] اُنہیں اُس کا بدلہ دے گا جو وہ گھڑتے تھے۔} {جن لوگوں نے بے وقوفی اور نادانی سے اپنی اولاد کو قتل کیا، اور جو رزق اللہ نے اُنہیں دیا تھا اُسے اللہ پر افترا باندھ کر حرام ٹھہرایا، اُنہوں نے سخت نقصان اٹھایا۔ وہ واقعی گمراہ ہو گئے اور ہدایت نہ پائی۔}