يؤوونها و ينصرونها.
جو فتنوں کو پناہ دیتے اور اُن کی مدد کرتے ہیں۔
«15»- غو، غوالي اللئالي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله أَنَّهُ قَالَ: الْفُقَهَاءُ أُمَنَاءُ الرُّسُلِ مَا لَمْ يَدْخُلُوا فِي الدُّنْيَا قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ مَا دُخُولُهُمْ فِي الدُّنْيَا قَالَ اتِّبَاعُ السُّلْطَانِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَاحْذَرُوهُمْ عَلَى دِينِكُمْ.
عوالی اللئالی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: فقہاء رسولوں کے امین ہیں، جب تک وہ دنیا میں داخل نہ ہوں۔ عرض کیا گیا: اے رسولِ خدا! اُن کا دنیا میں داخل ہونا کیا ہے؟ فرمایا: بادشاہ کی پیروی؛ پس جب وہ بادشاہ کی پیروی کریں تو اپنے دین پر اُن سے ڈرو۔
«16»- ختص، الإختصاص قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ تَعَلَّمَ عِلْماً لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ أَوْ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ يَصْرِفَ بِهِ النَّاسَ إِلَى نَفْسِهِ يَقُولُ أَنَا رَئِيسُكُمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ إِنَّ الرِّئَاسَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِأَهْلِهَا فَمَنْ دَعَا النَّاسَ إِلَی نَفْسِهِ وَ فِيهِمْ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ مِنْهُ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
الاختصاص: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو علم اِس لیے سیکھے کہ اُس سے علماء پر فخر کرے، یا نادانوں سے جھگڑا کرے، یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچے، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں تیار کر لے۔ یقیناً سرداری اہل کے سوا کسی کے لائق نہیں۔ جو لوگوں کو اپنی طرف بلائے جبکہ اُن میں اُس سے زیادہ جاننے والا موجود ہو، اللہ قیامت کے دن اُس پر نظرِ رحمت نہ ڈالے گا۔
«17»- نهج، نهج البلاغة قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام رُبَّ عَالِمٍ قَدْ قَتَلَهُ جَهْلُهُ وَ عِلْمُهُ مَعَهُ لَا يَنْفَعُهُ.
نہج البلاغہ: اور آپ نے فرمایا: کتنے ہی عالم ہیں جنہیں اُن کی نادانی نے مار ڈالا، جبکہ اُن کا علم اُن کے ساتھ تھا مگر اُنہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔
بيان: قيل أراد العلماء بما لا نفع فيه من العلوم كالسحر و النيرنجات و غير ذلك و يحتمل أن يراد بالجهل الأهواء الباطلة و الشهوات الفاسدة فإنها ربما غلبت العقل و العلم.
کہا گیا ہے کہ آپ کی مراد وہ عالم ہیں جو اپنے علوم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے، جیسے علمِ سحر اور نیرنگیاں وغیرہ؛ اور احتمال ہے کہ نادانی سے مراد باطل خواہشیں اور فاسد شہوتیں ہوں، کیونکہ یہی عقل اور علم پر غالب آتی ہیں۔
«18»- كَنْزُ الْكَرَاجُكِيِّ، قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً وَ أَعْظَمُهُمْ عَنَاءً مَنْ بُلِیَ بِلِسَانٍ مُطْلَقٍ وَ قَلْبٍ مُطْبَقٍ فَهُوَ لَا يُحْمَدُ إِنْ سَكَتَ وَ لَا يُحَسَّنُ إِنْ نَطَقَ.
کنز الکراجکی: امام علی علیہ السلام نے فرمایا: سب سے زیادہ بلا اٹھانے والا اور سب سے زیادہ رنج اٹھانے والا وہ ہے جس کی زبان بے لگام اور دل بند ہو؛ اگر خاموش رہے تو قابلِ تعریف نہیں اور اگر بولے تو اچھا نہیں بولتا۔
«19»- وَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعاً يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ وَ لَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَ أَضَلُّوا.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: بے شک اللہ علم کو یوں قبض نہیں کرتا، بلکہ اللہ علم کو علماء کی موت سے قبض کرتا ہے یہاں تک کہ کوئی عالم نہ رہے اور لوگ نادان پیشوا چن لیں اور اُن سے پوچھیں اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں؛ پس وہ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔
«20»- مُنْيَةُ الْمُرِيدِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: إِنِّي لَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي مُؤْمِناً وَ لَا مُشْرِكاً فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَحْجُزُهُ إِيمَانُهُ وَ أَمَّا الْمُشْرِكُ فَيَقْمَعُهُ كُفْرُهُ ١ وَ لَكِنْ أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ مُنَافِقاً عَلِيمَ اللِّسَانِ يَقُولُ مَا تَعْرِفُونَ وَ يَعْمَلُ مَا تُنْكِرُونَ.
منیۃ المرید: پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر نہ مؤمن کا ڈر ہے نہ مشرک کا، کیونکہ مؤمن کا ایمان اُس کی نگہبانی کرتا ہے اور مشرک کا کفر و ناسپاسی اُس کی نابودی کا سبب بنتی ہے؛ لیکن مجھے تم پر اُس منافق اور دو رُخے شخص کا سخت ڈر ہے جو چرب زبان عالم ہے: وہ ایسی باتیں کہتا ہے جنہیں تم نیک کام سمجھتے ہو، مگر عمل میں ایسے کام کرتا ہے جنہیں تم برا جانتے ہو۔
«21»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: میرے بعد مجھے مسلمان قوم پر سب سے زیادہ ڈر چرب زبان منافق سے ہے۔
«22»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ وَ إِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ خِيَارُ الْعُلَمَاءِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: آگاہ رہو! بدترین بد بُری سیرت والے عالم ہیں، اور بہترین بہتر پاک سیرت عالم۔
«23»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ قَالَ أَنَا عَالِمٌ فَهُوَ جَاهِلٌ.
اور آپ ہی نے فرمایا: اگر کوئی کہے کہ میں عالم ہوں، تو جان لو کہ وہ نادان سے زیادہ کچھ نہیں۔