Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 105

«62»- قَالَ وَ رَوَی سَعِيدُ بْنُ مُنَخَّلٍ فِي حَدِيثٍ لَهُ رَفَعَهُ قَالَ: الْبُيُوتُ الْأَئِمَّةُ عليهم السلام وَ الْأَبْوَابُ أَبْوَابُهَا.

سعید بن منخّل روایت کرتے ہیں کہ آیت میں «بیوت» سے مراد ائمہ ہیں اور «ابواب» سے مراد اُن بیوت کے دروازے ہیں۔

«63»- شی، تفسير العياشي عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام وَ أْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوابِها قَالَ ائْتُوا الْأُمُورَ مِنْ وَجْهِهَا ١.

تفسیر عیاشی: جابر نے امام باقر علیہ السلام سے آیتِ مبارکہ «وَ أْتُوا الْبُیُوتَ مِنْ أَبْوابِها» کی تفسیر میں روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ہر کام میں اُس کی اپنی راہ سے داخل ہو۔

«64»- غو، غوالي اللئالي قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله خُذُوا الْعِلْمَ مِنْ أَفْوَاهِ الرِّجَالِ.

عوالی اللئالی: پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: علم کو مردوں کے مونہوں سے لو۔

«65»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله وَ إِيَّاكُمْ وَ أَهْلَ الدَّفَاتِرِ وَ لَا يَغُرَّنَّكُمُ الصَّحَفِيُّونَ.

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: دفتر والوں سے بچو اور صحیفہ والے تمہیں فریب نہ دیں۔

«66»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ يَأْخُذُهَا حَيْثُ وَجَدَهَا.

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: حکمت مؤمن کی گمشدہ چیز ہے، جہاں پائے لے لیتا ہے۔

«67»- نی، الغيبة للنعماني رُوِيَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام أَنَّهُ قَالَ: مَنْ دَخَلَ فِي هَذَا الدِّينِ بِالرِّجَالِ أَخْرَجَهُ مِنْهُ الرِّجَالُ كَمَا أَدْخَلُوهُ فِيهِ وَ مَنْ دَخَلَ فِيهِ بِالْكِتَابِ وَ السُّنَّةِ زَالَتِ الْجِبَالُ قَبْلَ أَنْ يَزُولَ.

الغیبۃ للنعمانی: امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جو اِس دین میں لوگوں کے واسطے سے داخل ہو، لوگ اُسے اُسی طرح نکال باہر کریں گے جیسے وہ داخل ہوا؛ اور جو اِس دین میں قرآن و سنت کے واسطے سے داخل ہوا، پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اِس سے پہلے کہ وہ اپنی جگہ سے ہلے۔

«68»- نی، الغيبة للنعماني سَلَّامُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ دَاوُدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ بَابَوَيْهِ عَنْ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي الْخَطَّابِ ٢ عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ زُرَارَةَ عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام مَنْ دَانَ اللَّهَ بِغَيْرِ سَمَاعٍ مِنْ عَالِمٍ صَادِقٍ أَلْزَمَهُ اللَّهُ التِّيهَ إِلَى الْفَنَاءِ وَ مَنِ ادَّعَى سَمَاعاً مِنْ غَيْرِ الْبَابِ الَّذِي فَتَحَهُ اللَّهُ لِخَلْقِهِ فَهُوَ مُشْرِكٌ وَ ذَلِكَ الْبَابُ هُوَ الْأَمِينُ الْمَأْمُونُ عَلَى سِرِّ اللَّهِ الْمَكْنُونِ ٣.

الغیبۃ للنعمانی: مفضل نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو کسی سچے عالم سے سنے بغیر دینداری کرے، اللہ اُس کی سرگردانی کو نابودی تک پہنچائے۔ اور جو اللہ کے حکم کو اُس دروازے کے سوا کسی اور دروازے سے سننے کا دعویٰ کرے جو اللہ نے اپنی مخلوق کے لیے کھلا رکھا ہے، وہ مشرک ہے؛ اور وہ باب وہ امانت دار ہے جو اللہ کے پوشیدہ راز پر مامون ہے۔

نی، الغيبة للنعماني الكليني عن بعض رجاله عن عبد العظيم الحسني عن مالك بن عامر عن المفضل مثله.

الغیبۃِ نعمانی: حضرت عبدالعظیم نے مفضل سے اوپر والی حدیث کی مانند روایت کی ہے۔

باب 15 ذم علماء السوء و لزوم التحرز عنهم

باب پندرھواں: بُرے عالموں کی مذمت اور اُن سے دُوری کا لزوم

الآيات؛

آیات

الأعراف: «وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْناهُ آياتِنا فَانْسَلَخَ مِنْها فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطانُ فَكانَ مِنَ الْغاوِينَ وَ لَوْ شِئْنا لَرَفَعْناهُ بِها وَ لكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَواهُ

{اور اُس شخص کی خبر اُنہیں پڑھ کر سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات دی تھیں، پھر وہ اُن سے نکل گیا؛ پس شیطان اُس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اُن [آیات] کے ذریعے اُس کا درجہ بلند کرتے، مگر وہ زمین [یعنی دنیا] کی طرف جھک گیا اور اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کی۔}

(١)1- اتّحاده مع الحديث 61 ظاهر.حدیث ۶۱ کے ساتھ اِس کا متحد ہونا روشن ہے۔
(٢)2- و في نسخة: عن ابن أبی طالب.اور ایک نسخے میں: «عن ابن ابی طالب»۔
(٣)3- تقدم صدره عن جابر تحت الرقم 24اِس کا آغاز جابر سے نمبر ۲۴ کے تحت گزرا۔