لسائر مناصب الإفادة دون منصب القضاء و بالثاني من نصب نفسه له.
کہ قضاوت کے سوا دیگر مناصب تک پہنچے۔ اور دوسرا وہ ہے جس نے خود کو منصبِ قضا کے لیے تیار کیا ہے۔
فأين يتاه بكم من التيه بمعنى التحير و الضلال أي أين يذهب الشيطان أو الناس بكم متحيرين بل أين تذهبون إضراب عما يفهم سابقا من أن الداعي لهم على ذلك غيرهم و أنهم مجبورون على ذلك أي بل أنتم باختياركم تذهبون عن الحق إلى الباطل يا من نسخ من أصلاب أصحاب السفينة النسخ الإزالة و التغيير أي كنتم في أصلاب من ركب سفينة نوح فأنزلتم عن تلك الأصلاب فاعتبروا بحال أجدادكم و تفكروا في كيفية نجاتهم فإن مثل أهل البيت كمثل سفينة نوح و تی و ذي للإشارة إلى المؤنث قسما حقا أي أقسم قسما حقا و ما أنا من المتكلفين أي المتصنعين بما لست من أهله و لست ممن يدعی الباطل و يقول الشي ء من غير حقيقة إني تارك فيكم الثقلين قال الجزري فيه إني تارك فيكم الثقلين كتاب اللّٰه و عترتي سماهما ثقلين لأن الأخذ بهما و العمل بهما ثقيل و يقال لكل خطير نفيس ثقيل فسماهما ثقلين إعظاما لقدرهما و تفخيما لشأنهما ما إن تمسكتم بهما بدل من الثقلين و إنهما لن يفترقا يدل على أن لفظ القرآن و معناه عندهم عليهم السلام ١ إلا هذا أي سبيل الحق الذي أريتكموه عَذْبٌ فُراتٌ أي شديد العذوبة وَ هذا أي سبيل الباطل الذي حذرتكموه مِلْحٌ أُجاجٌ أي مالح شديد الملوحة و المرارة.
«تیہ» کا معنی سرگردانی اور گمراہی ہے، یعنی شیطان اور لوگ اِس سرگردانی کے ساتھ تمہیں کہاں لے جا رہے ہیں؟ بلکہ تم اپنے اختیار سے حق سے باطل کی طرف جاتے ہو۔ «نسخ» دُور کرنا اور بدل دینا ہے، یعنی تم کشتیِ نوح کے سواروں کی پشتوں میں تھے؛ اپنے اجداد سے عبرت لو اور سوچو کہ وہ طوفان سے کیسے نجات پائے۔ اہلِ بیت کشتیِ نوح کی مانند ہیں۔ میں حق کی قسم کھاتا ہوں کہ میں تکلف کرنے والوں اور ظاہر سازوں میں سے نہیں، میں باطل دعویٰ نہیں رکھتا اور بغیر حقیقت کے نہیں کہتا۔ جزری کہتے ہیں: حدیثِ ثقلین میں کتاب اور عترت کو «ثقل» کہا گیا کیونکہ اُن دونوں کو تھامنا اور اُن پر عمل کرنا بھاری ہے۔ ہر قیمتی چیز کو «ثقیل» کہتے ہیں۔ اگر کتاب اور عترت کو «ثقل» کہا گیا تو یہ [اُن دونوں کی] قدر کی عظمت اور شان کی بلندی کے سبب ہے۔ حق کا یہ راستہ جو میں نے تمہیں دکھایا، نہایت شیریں اور خوشگوار پانی ہے، اور باطل کا راستہ جس سے میں نے تمہیں خبردار کیا، کھارا اور تلخ ہے۔
«60»- شی، تفسير العياشي عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِها وَ لكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقی وَ أْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوابِها فَقَالَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله أَبْوَابُ اللَّهِ وَ سَبِيلُهُ وَ الدُّعَاةُ إِلَى الْجَنَّةِ وَ الْقَادَةُ إِلَيْهَا وَ الْأَدِلَّاءُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
تفسیر عیاشی: سعد نے امام باقر علیہ السلام سے آیت «لَیْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُیُوتَ مِنْ ظُهُورِها وَ لکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقی وَ أْتُوا الْبُیُوتَ مِنْ أَبْوابِها» {اور نیکی یہ نہیں کہ تم گھروں میں اُن کی پشت سے داخل ہو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ کوئی تقویٰ اختیار کرے، اور گھروں میں اُن کے دروازوں سے داخل ہو۔} کے بارے میں پوچھا۔ امام نے فرمایا: آلِ محمد اللہ کے دروازے، اُس کا راستہ، جنت کی طرف بلانے والے اور اُس کی طرف راہنما ہیں، قیامت کے دن تک۔
«61»- شی، تفسير العياشي عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام فِي قَوْلِهِ لَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ الْآيَةَ قَالَ يَعْنِي أَنْ يَأْتِيَ الْأَمْرُ مِنْ وَجْهِهَا مِنْ أَيِّ الْأُمُورِ كَانَ.
تفسیر عیاشی: جابر بن یزید امام باقر علیہ السلام سے آیت «لَیْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُیُوتَ» کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: آیت کا معنی یہ ہے کہ کاموں میں سے ہر کام اور امور میں سے ہر امر اپنی راہ سے انجام دیا جائے۔