ظلمة آخر الليل و الجمع أغباش أي غفل و انخدع و اغتر بسبب ظلمة الفتن و الجهالات أو فيها و لم يغن فيه يوما سالما قال الجزري و في حديث علي عليه السلام و رجل سماه الناس عالما و لم يغن في العلم يوما تاما من قولك غنيت بالمكان أغنى إذا أقمت به انتهى قوله سالما أي من النقص بأن يكون نعتا لليوم أو سالما من الجهل بأن يكون حالا عن ضمير الفاعل بكر فاستكثر مما قل منه خير مما كثر أي خرج في الطلب بكرة كناية عن شدة طلبه و اهتمامه في كل يوم أو في أول العمر و ابتداء الطلب و ما موصولة و هي مع صلتها صفة لمحذوف أي من شي ء ما قل منه خير مما كثر و يحتمل أن تكون ما مصدرية أيضا و قيل قل مبتدأ بتقدير أن و خير خبره كقولهم تسمع بالمعيدي خير من أن تراه و المراد بذلك الشي ء أما الشبهات المضلة و الآراء الفاسدة و العقائد الباطلة أو زهرات الدنيا حتى إذا ارتوى من آجن الآجن الماء المتعفن المتغير استعير للآراء الباطلة و الأهواء الفاسدة و استكثر من غير طائل قال الجوهري هذا أمر لا طائل فيه إذا لم يكن فيه غناء و مزية و إن نزلت به إحدى المهمات و في الكتابين المبهمات هيأ لها حشوا أي كثيرا لا فائدة فيها ثم قطع عليه أي جزم به فهو من لبس الشبهات في مثل غزل العنكبوت قال ابن ميثم وجه هذا التمثيل أن الشبهات التي تقع على ذهن مثل هذا الموصوف إذا قصد حل قضية مبهمة تكثر فتلتبس على ذهنه وجه الحق منها فلا يهتدي له لضعف ذهنه فتلك الشبهات في الوهاء تشبه نسج العنكبوت و ذهنه فيها يشبه الذباب الواقع فيه فكما لا يتمكن الذباب من خلاص نفسه من شباك العنكبوت لضعفه كذلك ذهن هذا الرجل لا يقدر على التخلص من تلك الشبهات.
کا معنی رات کے آخری حصے کی تاریکی ہے، یعنی اُس نے غفلت برتی اور فتنوں اور جہالت کی تاریکی کے سبب دھوکا کھایا۔ جزری کہتے ہیں کہ علی علیہ السلام کی روایت میں آیا ہے: لوگ ایک شخص کو عالم سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ ایک دن بھی علمی مسائل اور بحث میں ثابت قدم نہیں رہا۔ امام کا قول «سالماً» یعنی نقص سے سالم، جو یا «یوم» کی صفت ہے یا یعنی جہل سے سالم، جو فاعل کی ضمیر سے حال ہے۔ عبارت «بکّر فاستکثر مما قلّ منہ خیر مما کثر» یعنی وہ صبح سویرے طلب میں نکلتا ہے، جو اُس کی شدتِ طلب اور ہر روز اُس کے اہتمام کا کنایہ ہے، یا اُس کی عمر کے آغاز اور طلب کی ابتدا کا؛ اِس صورت میں «ما» موصولہ ہے اور اپنے صلے کے ساتھ ایک محذوف کی صفت ہے، یعنی اُس کا کم اُس کے زیادہ سے بہتر ہے۔ «شیء» سے مراد گمراہ کرنے والے شبہات، فاسد آراء، باطل عقائد یا دنیا کی خوشیاں ہیں۔ «أجن» بدبودار پانی ہے جو باطل آراء اور فاسد نفسانی خواہشوں کے لیے استعارہ لایا گیا ہے۔ «لا طائل فیہ» یعنی وہ بے نیاز کرنے والا نہیں اور اُس کا کوئی امتیاز نہیں۔ «حشو» یعنی بہت اور بے فائدہ۔ ابن میثم کہتے ہیں: یہ تشبیہ اُن شبہات کے سبب ہے جو ایسے شخص کے ذہن میں آتے ہیں؛ اور اگر وہ کسی مبہم اور پوشیدہ مسئلے کو حل کرنا چاہے تو حق اُس کے ذہن میں مشتبہ ہو جاتا ہے اور اپنے ذہن کی سبکی کے سبب وہ کوئی ہدایت نہیں پاتا۔
أقول: و يحتمل أيضا أن يكون المراد تشبيه ما يلبس على الناس من الشبهات بنسج العنكبوت لضعفها و ظهور بطلانها لكن تقع فيها ضعفاء العقول فلا يقدرون على التخلص منها لجهلهم و ضعف يقينهم و الأول أنسب بما بعده.
چنانچہ شک و شبہ مکڑی کے جالے کی مانند ہے؛ اُس کا ذہن مچھر کی مانند ہے جو مکڑی کے جالے میں پھنس جاتا ہے اور خود کو چھڑا نہیں سکتا ـ اِسی طرح یہ شخص بھی خود کو شبہے سے چھڑا نہیں سکتا۔ مؤلف: احتمال ہے کہ لوگوں کے شبہات کو اُن کے کمزور ہونے کے سبب مکڑی کے جالے سے تشبیہ دی گئی ہو، پس اصلِ شبہ اور شک باطل و کمزور ہے، مگر کمزور عقل والے انسان اِس شبہے میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور نادانی اور ضعفِ یقین کے سبب اُس سے رہائی نہیں پا سکتے۔ لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے۔
لا يرى أن من وراء ما بلغ مذهبا أي أنه لوفور جهله يظن أنه بلغ غاية العلم فليس بعد ما بلغ إليه فكره لأحد مذهب و موضع تفكر فهو خائض عشوات أي يخوض و يدخل في ظلمات الجهالات و الفتن خباط جهالات الخبط المشي على غير استواء
وہ اپنی نادانی کی کثرت کے سبب گمان کرتا ہے کہ وہ علم کے آخری مرحلے تک پہنچ گیا ہے، ایسے کہ کسی کے لیے سوچنے اور رائے دینے کی جگہ باقی نہیں رہی۔ ایسا شخص نادانیوں اور فتنوں کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے،