أَنَا بِهِ زَعِيمٌ إِنَّهُ لَا يَهِيجُ عَلَى التَّقْوَى زَرْعُ قَوْمٍ وَ لَا يَظْمَأُ عَنْهُ سِنْخُ أَصْلٍ وَ إِنَّ الْخَيْرَ كُلَّهُ فِيمَنْ عَرَفَ قَدْرَهُ وَ كَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَنْ لَا يَعْرِفَ قَدْرَهُ وَ إِنَّ أَبْغَضَ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ وَكَلَهُ إِلَى نَفْسِهِ جَائِرٌ عَنْ قَصْدِ السَّبِيلِ مَشْغُوفٌ بِكَلَامِ بِدْعَةٍ قَدْ لَهِجَ فِيهَا بِالصَّوْمِ وَ الصَّلَاةِ فَهُوَ فِتْنَةٌ لِمَنِ افْتَتَنَ بِهِ ضَالٌّ عَنْ هَدْىِ مَنْ كَانَ قَبْلَهُ مُضِلٌّ لِمَنِ اقْتَدَى بِهِ حَمَّالٌ خَطَايَا غَيْرِهِ رَهِينٌ بِخَطِيئَتِهِ قَدْ قَمَشَ جَهْلًا فِي جُهَّالٍ غَشُوهُ غَارٌّ بِأَغْبَاشِ الْفِتْنَةِ عَمًى عَنِ الْهُدَى قَدْ سَمَّاهُ أَشْبَاهُ النَّاسِ عَالِماً وَ لَمْ يَغْنَ فِيهِ يَوْماً سَالِماً بَكَّرَ فَاسْتَكْثَرَ مِمَّا ١قَلَّ مِنْهُ خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ حَتَّى إِذَا ارْتَوَى مِنْ آجِنٍ وَ اسْتَكْثَرَ مِنْ غَيْرِ طَائِلٍ جَلَسَ لِلنَّاسِ قَاضِياً ضَامِناً لِتَخْلِيصِ مَا الْتَبَسَ عَلَى غَيْرِهِ إِنْ خَالَفَ مَنْ سَبَقَهُ لَمْ يَأْمَنْ مِنْ نَقْضِ حُكْمِهِ مَنْ يَأْتِي بَعْدَهُ كَفِعْلِهِ بِمَنْ كَانَ قَبْلَهُ وَ إِنْ نَزَلَتْ بِهِ إِحْدَى الْمُهِمَّاتِ هَيَّأَ لَهَا حَشْواً مِنْ رَأْيِهِ ثُمَّ قَطَعَ عَلَيْهِ فَهُوَ مِنْ لَبْسِ الشُّبُهَاتِ فِي مِثْلِ غَزْلِ الْعَنْكَبُوتِ لَا يَدْرِي أَصَابَ أَمْ أَخْطَأَ وَ لَا يَرَى أَنَّ مِنْ وَرَاءِ مَا بَلَغَ مَذْهَباً إِنْ قَاسَ شَيْئاً بِشَيْ ءٍ لَمْ يُكَذِّبْ رَأْيَهُ وَ إِنْ أَظْلَمَ عَلَيْهِ أَمْرٌ اكْتَتَمَ بِهِ لِمَا يَعْلَمُ مِنْ نَفْسِهِ مِنَ الْجَهْلِ وَ النَّقْصِ وَ الضَّرُورَةِ كَيْلَا يُقَالَ إِنَّهُ لَا يَعْلَمُ ثُمَّ أَقْدَمَ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَهُوَ خَائِضُ عَشَوَاتٍ رَكَّابُ شُبُهَاتٍ خَبَّاطُ جَهَالاتٍ لَا يَعْتَذِرُ مِمَّا لَا يَعْلَمُ فَيَسْلَمَ وَ لَا يَعَضُّ فِي الْعِلْمِ بِضِرْسٍ قَاطِعٍ فَيَغْنَمَ يَذْرِي الرِّوَايَاتِ ذَرْوَ الرِّيحِ الْهَشِيمَ تَبْكِي مِنْهُ الْمَوَارِيثُ وَ تَصْرُخُ مِنْهُ الدِّمَاءُ وَ يُسْتَحَلُّ بِقَضَائِهِ الْفَرْجُ الْحَرَامُ وَ يُحَرَّمُ بِهِ الْحَلَالُ لَا يَسْلَمُ بِإِصْدَارِ مَا عَلَيْهِ وَرَدَ وَ لَا يَنْدَمُ عَلَى مَا مِنْهُ فَرَّطَ أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَ الْمَعْرِفَةِ بِمَنْ لَا تُعْذَرُونَ بِجَهَالَتِهِ فَإِنَّ الْعِلْمَ الَّذِي هَبَطَ بِهِ آدَمُ وَ جَمِيعَ مَا فُضِّلَتْ بِهِ النَّبِيُّونَ إِلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ فِي عِتْرَةِ مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه و آله فَأَيْنَ يُتَاهُ بِكُمْ بَلْ أَيْنَ تَذْهَبُونَ يَا مَنْ نُسِخَ مِنْ أَصْلَابِ أَصْحَابِ السَّفِينَةِ فَهَذِهِ مَثَلُهَا فِيكُمْ فَارْكَبُوهَا فَكَمَا نَجَا فِي هَاتِيكَ مَنْ نَجَا كَذَلِكَ يَنْجُو فِي هَذِي ٢ مَنْ دَخَلَهَا أَنَا رَهِينٌ بِذَلِكَ قَسَماً حَقّاً وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ الْوَيْلُ لِمَنْ تَخَلَّفَ ثُمَّ الْوَيْلُ لِمَنْ تَخَلَّفَ أَ مَا بَلَغَكُمْ مَا قَالَ فِيهِمْ نَبِيُّكُمْ صلى اللّٰه عليه و آله حَيْثُ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي وَ إِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِّي فِيهِمَا أَلَا هذا عَذْبٌ فُراتٌ فَاشْرَبُوا وَ هذا مِلْحٌ أُجاجٌ فَاجْتَنِبُوا.
اُس کی درستی کا ضامن ہوں: بے شک اُن لوگوں کی کھیتی جو تقویٰ اور پرہیزگاری کی بنیاد پر ہو، خشک اور زرد نہیں ہوتی، اور اُس کی جڑ پیاسی اور بے آب نہیں رہتی؛ اور سارا خیر و بھلائی اُس شخص میں ہے جو اپنی قدر و قیمت پہچانے۔ اور آدمی کی نادانی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی قدر نہ پہچانے۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے اُس کے حال پر چھوڑ دیا اور وہ سیدھی راہ سے ایک طرف ہٹ گیا: وہ بدعت کی بات پر خوش ہوتا ہے اور اپنے روزے اور نماز پر فریفتہ ہے؛ ایسا شخص اُن لوگوں کے لیے فتنہ (اور آزمائش) ہے جو اُس کی باتوں سے فریب کھائیں۔ وہ اُس راہِ ہدایت سے بھٹک گیا جس پر اُس سے پہلے لوگ چلے، اور جو اُس کی پیروی کریں اُنہیں گمراہ کرتا ہے۔ وہ دوسروں کی خطاؤں اور گناہوں کا بوجھ اٹھانے والا ہے اور اپنی خطا کا رہن ہے۔ اُس نے اِدھر اُدھر سے نادانیوں کو اندھے دل نادانوں کے درمیان اپنے اندر جمع کیا، اور فتنہ و فساد کی تاریکیوں میں ہر جگہ سے بے خبر ہے، اور رہبر بننے اور ہدایت سے اندھا ہو چکا ہے۔ جو لوگ محض انسان کی صورت میں ہیں، وہ ایسے شخص کو عالم اور دانشور کہتے ہیں، حالانکہ اُس نے اُس کی تحصیل میں ایک دن بھی نہیں گزارا؛ جس دن بھی اُس نے صبح کی، وہ اُس چیز کو بڑھانے کے پیچھے تھا جس کا کم ہونا اُس کے زیادہ ہونے سے بہتر ہے؛ یہاں تک کہ وہ اُس تک پہنچ گیا اور اُس باسی، بدبودار پانی سے سیراب ہوا، اور بے فائدہ چیزوں میں زیادہ روی کی (یا بے کار چیزوں سے خود کو بھر لیا)۔ وہ لوگوں کے فیصلے کے لیے بیٹھ گیا (اور خود کو تیار کر لیا) اور اُس چیز کے بیان کرنے کی ضمانت لی جو دوسروں پر پوشیدہ اور مشتبہ ہو۔ اگر فیصلے میں وہ گزشتہ لوگوں کی مخالفت کرے تو اُسے اطمینان نہیں کہ اُس کے بعد آنے والے اُس کا حکم نہ توڑیں گے (اور اُس کے خلاف فیصلہ نہ کریں گے)، جیسا کہ اُس نے گزشتہ لوگوں کے ساتھ کیا؛ اور اگر کوئی مشکل مسئلہ اُس کے سامنے پیش کیا جائے تو اُس سوال کے جواب کے لیے اپنی رائے سے بے معنی اور بے کار باتیں تیار کرتا ہے، پھر اُنہی (بے کار اور بے معنی) باتوں پر یقین کر لیتا ہے جو اُس نے کہیں۔ ایسا شخص حقائق کے پوشیدہ رہ جانے اور مشتبہات (اور واہی و کمزور امور میں جا پڑنے) کے سبب اُس شخص کی مانند ہے جو مکڑی کے جالے میں جا پڑا ہو: وہ نہیں جانتا کہ اُس نے درست کہا (اور حکم کیا) یا خطا کی، اور جس تک وہ پہنچا اُس کے پیچھے کوئی راہ نہیں دیکھتا (اور یہی سمجھتا ہے کہ صرف وہی صحیح ہے جو اُس نے اپنی کوتاہ فہم اور فاسد رائے سے سمجھا)۔ اگر وہ کسی چیز کو کسی چیز سے ناپے تو جو اُس سے سمجھا اور حاصل کیا، اُسے جھوٹ نہیں سمجھتا؛ اور اگر کوئی بات اُس پر پوشیدہ رہ جائے تو اُسے چھپا لیتا ہے، کیونکہ وہ اپنی نادانی اور کوتاہی سے آگاہ ہے، اور جو وہ نہیں جانتا تھا اُس پر ناچار بول پڑا تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ وہ نہیں جانتا۔ پھر (اِن حالات میں) وہ حقیقت سے ناواقفی کے ساتھ (اُس کام پر) اقدام کرتا ہے اور (جہل و نادانی کی) تاریکیوں میں ڈوب جاتا ہے، اور بہت سے شبہات کی سواری پر سوار ہوتا ہے، اور نادانیوں میں بہت غلطیاں کرتا ہے۔ جو وہ نہیں جانتا (اور ناجانتے ہوئے جس پر حکم کیا) اُس پر معذرت نہیں کرتا تاکہ (نتیجتاً) آسودہ اور سالم رہے، اور اُس نے علم میں کاٹنے والا دانت نہیں گاڑا (اور اُس میں تحقیق نہیں کی) تاکہ فائدہ اٹھائے۔ وہ روایتوں کو یوں ہوا میں اڑاتا ہے جیسے ہوا خشک گھاس کو بکھیر دے۔ میراثیں (جو اُس کے ناحق حکم کے سبب اپنے مالکوں تک نہ پہنچیں) اُس کے (ظلم) پر روتی ہیں، اور وہ خون (جو اُس کے باطل فتوے سے بہایا گیا) فریاد کرتے ہیں۔ اُس کے (بے جا) فیصلے کے سبب حرام شرمگاہیں حلال ہو جاتی ہیں اور حرام حلال ہو جاتا ہے۔ جو اُس سے سرزد ہوا اُس کے لوٹانے سے وہ آسودہ اور سالم نہیں رہتا، اور جو (نادانی سے) اُس سے صادر ہوا اُس پر پشیمان نہیں ہوتا۔ اے گروہِ مردم! تم پر لازم ہے اُس کی پیروی اور شناخت جس کے پہچاننے میں تم معذور نہیں (مراد ائمۂ دین علیہم السلام کی شناخت اور اُن کی پیروی ہے)، کیونکہ وہ علم و دانش جو آدم علیہ السلام (آسمان سے) لائے، اور وہ سب کچھ جس کے ذریعے انبیاء نے برتری پائی یہاں تک کہ وہ تمہارے پیغمبر خاتم النبیین تک پہنچا، سب کا سب تمہارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کی عترت (اور خاندان) کے پاس ہے؛ پس تم کہاں سرگرداں ہو؟ بلکہ کہاں جا رہے ہو؟ اے وہ لوگو جو کشتی والوں کی پشتوں سے نکالے (یا پیدا کیے) گئے ہو (یعنی اے اُن لوگوں کی اولاد جو کشتیِ نوح پر سوار ہوئے)! تمہارے درمیان عترت کی مثال کشتیِ نوح جیسی ہے، پس اُس پر سوار ہو جاؤ؛ اور جس طرح اُس کشتی میں نجات پانے والوں نے نجات پائی، جو اِس کشتی میں داخل ہو وہ بھی نجات پائے گا۔ اور جو کچھ میں کہتا ہوں، قسم کے ساتھ اِس کلام کا رہن ہوں، اور میں جھوٹ نہیں کہتا؛ اور افسوس اُس پر جو (اِس سے) رُخ پھیرے، پھر افسوس اُس پر جو رُخ پھیرے! کیا تم تک وہ بات نہیں پہنچی (اور تم نے نہیں سنی) جو تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے اُن کے بارے میں فرمائی، کہ حجۃ الوداع کے سفر میں فرمایا: (لوگو!) بے شک میں تمہارے درمیان دو بھاری اور گراں چیزیں چھوڑے جاتا ہوں؛ ایسی چیزیں کہ اگر تم اُنہیں تھام لو تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے: (ایک) کتابِ خدا (قرآن) اور (دوسری) میری عترت، میرے اہلِ بیت؛ اور (بے شک) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس آئیں۔ پس دیکھو کہ میرے بعد اِن دونوں کے بارے میں تم کیسا سلوک کرتے ہو۔ آگاہ رہو کہ یہ (یعنی عترت سے تمسک) خوشگوار اور شیریں پانی ہے، پس پیو؛ اور وہ دوسری (یعنی اُن سے رُخ پھیرنا) کھارا اور تلخ پانی ہے، اُس سے بچو۔