و كتاب الكر و الفر مشهور و مشتمل على أجوبة شريفة.
اور کتاب الکر و الفر مشہور ہے اور شریف جوابات پر مشتمل ہے۔
و كتاب الأربعين من الكتب المعروفة و الشيخ إبراهيم القطيفي رحمه اللّٰه كان في غاية الفضل و كان معاصرا للشيخ نور الدين المروج و كانت بينهما مناظرات و مباحثات كثيرة.
اور کتاب الأربعین معروف کتابوں میں سے ہے؛ اور شیخ ابراہیم القطیفی رحمہ اللہ نہایت فضل والے تھے اور شیخ نور الدین مروّج کے ہم عصر تھے، اور اُن دونوں کے درمیان بہت سے مناظرے اور مباحثے ہوئے۔
ثم اعلم أنا سنذكر بعض أخبار الكتب المتقدمة التي لم نأخذ منها كثيرا لبعض الجهات مع ما سيتجدد من الكتب في كتاب مفرد سميناه بمستدرك البحار إن شاء اللّٰه الكريم الغفار إذ الإلحاق في هذا الكتاب يصير سببا لتغيير كثير من النسخ المتفرقة في البلاد و اللّٰه الموفق للخير و الرشد و السداد.
پھر جان لو کہ ہم مذکورہ بالا کتابوں کی بعض روایات، جن سے ہم نے بعض وجوہ کی بنا پر زیادہ نہیں لیا، اُن کتابوں کے ساتھ جو نئی سامنے آئیں، ایک الگ کتاب میں لائیں گے جس کا نام ہم نے «مستدرک البحار» رکھا، ان شاء اللہ الکریم الغفار؛ کیونکہ اِس کتاب میں اضافہ شہروں میں پھیلے ہوئے بہت سے نسخوں کی تبدیلی کا سبب بنے گا۔ اور اللہ ہی خیر، رشد اور درستی کی توفیق دینے والا ہے۔
الفصل الثالث في بيان الرموز التي وضعناها للكتب المذكورة
تیسری فصل: اُن رموز کا بیان جو ہم نے مذکورہ کتابوں کے لیے مقرر کیے
و نوردها في صدر كل خبر ليعلم أنه مأخوذ من أي أصل و هل هو في أصل واحد أو متكرر في الأصول و لو كان في السند اختلاف نذكر الخبر من أحد الكتابين و نشير إلى الكتاب الآخر بعده و نسوقه إلى محل الوفاق و لو كان في المتن اختلاف مغير للمعنى نبينه و مع اتحاد المضمون و اختلاف الألفاظ و مناسبة الخبر لبابين نورد بأحد اللفظين في أحد البابين و باللفظ الآخر في الباب الآخر.
اور ہم اُنہیں ہر روایت کے آغاز میں لاتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ وہ کس اصل سے لی گئی ہے اور آیا وہ ایک ہی اصل میں ہے یا اصول میں مکرر ہے۔ اور اگر سند میں اختلاف ہو تو ہم روایت دونوں کتابوں میں سے ایک سے لاتے ہیں اور اُس کے بعد دوسری کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اُسے موافقت کے مقام تک لے جاتے ہیں۔ اور اگر متن میں ایسا اختلاف ہو جو معنیٰ بدل دے تو اُسے واضح کرتے ہیں۔ اور اگر مضمون ایک ہو اور الفاظ مختلف اور روایت دو ابواب سے مناسبت رکھتی ہو تو ایک باب میں ایک لفظ کے ساتھ اور دوسرے باب میں دوسرے لفظ کے ساتھ لاتے ہیں۔
و لنذكر الرموز ن لعيون أخبار الرضا عليه السلام لعلل الشرائع ك لإكمال الدين يد للتوحيد ل للخصال لي لأمالي الصدوق ثو لثواب الأعمال مع لمعاني الأخبار هد للهداية عد للعقائد و أما سائر كتب الصدوق و كتابا والده فلم نحتج فيها إلى الرمز لقلة أخبارها ب لقرب الإسناد ير لبصائر الدرجات ما لأمالي الشيخ غط لغيبة الشيخ مصبا للمصباحين شا للإرشاد جا لمجالس المفيد ختص لكتاب الإختصاص و سائر كتب المفيد و
اور اب رموز ذکر کریں: «ن» عیون أخبار الرضا علیہ السلام کے لیے؛ «ع» علل الشرائع کے لیے؛ «ک» إکمال الدین کے لیے؛ «ید» التوحید کے لیے؛ «ل» الخصال کے لیے؛ «لی» امالئ صدوق کے لیے؛ «ثو» ثواب الأعمال کے لیے؛ «مع» معانی الأخبار کے لیے؛ «ہد» الہدایۃ کے لیے؛ «عد» العقائد کے لیے۔ اور صدوق کی باقی کتابوں اور اُن کے والد کی دونوں کتابوں کے لیے ہمیں رمز کی حاجت نہ ہوئی، کیونکہ اُن کی روایات کم ہیں۔ «ب» قرب الإسناد کے لیے؛ «یر» بصائر الدرجات کے لیے؛ «ما» امالئ شیخ کے لیے؛ «غط» غیبتِ شیخ کے لیے؛ «مصبا» دونوں مصباح کے لیے؛ «شا» الإرشاد کے لیے؛ «جا» مجالسِ مفید کے لیے؛ «ختص» کتاب الاختصاص کے لیے۔ اور مفید اور