Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 42

مُوسَى الرِّضَا عليهما السلام ثَلَاثَةٌ مُوَكَّلٌ بِهَا ثَلَاثَةٌ تَحَامُلُ الْأَيَّامِ عَلَی ذَوِي الْأَدَوَاتِ الْكَامِلَةِ وَ اسْتِيلَاءُ الْحِرْمَانِ عَلَى الْمُتَقَدِّمِ فِي صَنَعْتِهِ وَ مُعَادَاةُ الْعَوَامِّ عَلَى أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ.

امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: تین چیزیں تین پر مقرر ہیں: اُن لوگوں پر زمانے کی سختی جو عقل، علم اور سخاوت کے اعتبار سے کامل ہیں؛ اُس شخص پر محرومی کا غلبہ جو کسی کام میں پیش قدم رہا؛ اور عوام الناس کی اہلِ معرفت و بصیرت سے دشمنی۔

بيان: قال الفيروزآبادي تحامل عليه كلفه ما لا يطيقه و الأدوات الكاملة كالعقل و العلم و السخاء من الكمالات التي هي وسائل السعادات أو الأعم منها و مما هو من الكمالات الدنيوية كالمناصب و الأموال أي يحمل الأيام و أهلها عليهم فوق طاقتهم و يلتمسون منهم من ذلك ما لا يطيقون و يحتمل أن يكون المراد جور الناس على أهل الحق و مغلوبيتهم.

فیروزآبادی کہتے ہیں: «تحامل علیہ» کا معنیٰ کسی پر وہ بوجھ ڈالنا ہے جو وہ برداشت نہ کر سکے۔ «الأدوات الکاملۃ» یا تو سخاوت اور وہ کمالات ہیں جو خوشبختی کے وسائل ہیں، یا یہ عام ہے جو اِن کمالات اور دنیوی کمالات — جیسے منصب اور مال — دونوں کو شامل ہے؛ یعنی زمانہ اور اہلِ زمانہ صاحبانِ کمال پر طاقت فرسا امور لادتے ہیں اور اُن سے وہ چیز مانگتے ہیں جو اُن کی طاقت میں نہیں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ معنیٰ یہ ہو کہ لوگ اہلِ حق پر ظلم کرتے اور اُن پر غالب آتے ہیں۔

«6»- ضه، روضة الواعظين ل، الخصال لي، الأمالي للصدوق سَيَجِی ءُ فِي خَبَرِ الْحُقُوقِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عليهما السلام وَ حَقُّ سَائِسِكَ ١ بِالْعِلْمِ التَّعْظِيمُ لَهُ وَ التَّوْقِيرُ لِمَجْلِسِهِ وَ حُسْنُ الِاسْتِمَاعِ إِلَيْهِ وَ الْإِقْبَالُ عَلَيْهِ وَ أَنْ لَا تَرْفَعَ عَلَيْهِ صَوْتَكَ وَ لَا تُجِيبَ أَحَداً يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْ ءٍ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يُجِيبُ وَ لَا تُحَدِّثَ فِي مَجْلِسِهِ أَحَداً وَ لَا تَغْتَابَ عِنْدَهُ أَحَداً وَ أَنْ تَدْفَعَ عَنْهُ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَكَ بِسُوءٍ وَ أَنْ تَسْتُرَ عُيُوبَهُ وَ تُظْهِرَ مَنَاقِبَهُ وَ لَا تُجَالِسَ لَهُ عَدُوّاً وَ لَا تُعَادِيَ لَهُ وَلِيّاً فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ شَهِدَ لَكَ مَلَائِكَةُ اللَّهِ بِأَنَّكَ قَصَدْتَهُ وَ تَعَلَّمْتَ عِلْمَهُ لِلَّهِ جَلَّ اسْمُهُ لَا لِلنَّاسِ.

روضۃ الواعظین، الخصال اور امالیِ صدوق: حدیثِ حقوق میں، جو آگے آئے گی، امام سجاد علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: تم پر تمہارے معلّم کا حق یہ ہے کہ اُس کی مجلس کی تعظیم و احترام کرو، اُسے اچھی طرح سنو، اُس کی طرف متوجہ رہو، اپنی آواز اُس پر بلند نہ کرو، اور جو سوال اُس سے کیا جائے اُس کا جواب نہ دو یہاں تک کہ وہ خود جواب دے؛ اُس کی موجودگی میں کسی سے گفتگو نہ کرو اور کسی کی غیبت نہ کرو۔ اگر اُس کی برائی کی جائے تو تم اُس کا دفاع کرو؛ اُس کے عیب چھپاؤ اور اُس کے مناقب ظاہر کرو؛ اُس کے دشمن کے ساتھ نہ بیٹھو اور اُس کے دوست سے دشمنی نہ کرو۔ جب تم ایسا کرو گے تو اللہ کے فرشتے تمہارے گواہ ہوں گے کہ تم نے اُس کی طرف رخ کیا اور اللہ جلّ اسمہ کے لیے علم سیکھا، نہ کہ لوگوں کی خاطر۔

«7»- ل، الخصال مع، معاني الأخبار ابْنُ الْوَلِيدِ عَنِ الصَّفَّارِ عَنِ ابْنِ هَاشِمٍ عَنِ النَّوْفَلِيِّ عَنِ السَّكُونِيِّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ آبَائِهِ عَنْ عَلِيٍّ عليه السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله غَرِيبَتَانِ فَاحْتَمِلُوهُمَا كَلِمَةُ حِكْمَةٍ مِنْ سَفِيهٍ فَاقْبَلُوهَا وَ كَلِمَةُ سَفَهٍ مِنْ حَكِيمٍ فَاغْفِرُوهَا.

الخصال اور معانی الأخبار: امام صادق علیہ السلام نے اپنے آباء سے، اُنہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: دو اجنبی ہیں جن کی مہمان نوازی تمہیں کرنی چاہیے: حکمت کی وہ بات جو کسی سفیہ سے نکلے، اُسے قبول کرو؛ اور سفیہانہ بات جو کسی حکیم سے نکلے، اُس سے درگزر کرو۔

«8»- ل، الخصال عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْوَارِيِّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ عَنْ عِيسَى عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّمَا الْخَوْفُ ٢عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي ثَلَاثُ خِصَالٍ أَنْ يَتَأَوَّلُوا الْقُرْآنَ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ أَوْ يَتَّبِعُوا زَلَّةَ الْعَالِمِ أَوْ يَظْهَرَ فِيهِمُ الْمَالُ حَتَّى يَطْغَوْا وَ يَبْطَرُوا وَ سَأُنَبِّئُكُمُ الْمَخْرَجَ مِنْ ذَلِكَ أَمَّا الْقُرْآنُ فَاعْمَلُوا بِمُحْكَمِهِ وَ آمِنُوا بِمُتَشَابِهِهِ- وَ أَمَّا الْعَالِمُ فَانْتَظِرُوا فَيْئَهُ ٣ وَ لَا تَتَّبِعُوا زَلَّتَهُ وَ أَمَّا الْمَالُ فَإِنَّ الْمَخْرَجَ مِنْهُ شُكْرُ النِّعْمَةِ وَ أَدَاءُ حَقِّهِ.

الخصال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: میں اپنی امت پر اپنی موت کے بعد تین خصلتوں سے ڈرتا ہوں: یہ کہ وہ قرآن کی تفسیر اُس کے حقیقی اور صحیح معنیٰ کے سوا کسی اور طرح کریں؛ یا یہ کہ کسی دینی عالم کی لغزش اور خطا کی پیروی کریں؛ یا یہ کہ مال و دولت اُن میں نمایاں ہو جائے اور وہ سرکشی، بے راہ روی اور عیش پرستی کرنے لگیں۔ اب میں تمہیں اِن مصیبتوں سے نکلنے کی راہ بتاتا ہوں: رہا قرآن، تو تمہارا فریضہ یہ ہے کہ اُس کی محکمات پر عمل کرو، یعنی وہ آیات جو واضح عملی احکام بتاتی ہیں؛ اور اُس کی متشابہات پر ایمان و عقیدہ رکھو، یعنی وہ آیات جو عالمِ غیب کے مطالب اور قبر و قیامت و بہشت و دوزخ کے احوال بیان کرتی ہیں اور جن کا مفاد تمہاری ناقص فہم کے بس میں نہیں۔ رہا عالم، تو اُس کی آزمائش اور امتحان کے منتظر رہو اور اُس پر نظر رکھو اور اُس کی لغزش و خطا کی پیروی نہ کرو۔ اور رہا دنیا کا مال و دولت، تو اُس کا علاج نعمت کا شکر اور اُس کا حق ادا کرنا ہے۔

(١)1- 1 أي مؤدبك.یعنی تمہارا اُستاد۔
(٢)2- 2 و في نسخة: أتخوّف.اور ایک نسخے میں: «أتخوّف»۔
(٣)3- 3 و في نسخة: فئته.اور ایک نسخے میں: «فئتہ»۔