Misbah Library
علامہ محمد باقر مجلسی 2 257

الحقيقة بذلك المستند الضعيف بل بالأخبار الكثيرة التي بعضها صحيح.

جواب: استحباب کا حکم اُس جگہ جہاں اُس حکم کا مستند ضعیف ہو، وہ حکم حقیقتاً اُس مستندِ ضعیف کی وجہ سے نہیں، بلکہ اُن بہت سی اخبار کی وجہ سے ہے جن میں سے بعض صحیح ہیں۔

و الثاني تلك الروايات لا تشمل العمل الوارد في خبر ضعيف من غير ذكر ثواب فيه و الجواب أن الأمر بشي ء من العبادات يستلزم ترتب الثواب على فعله و الخبر يدل على ترتب الثواب التزاما و هذا يكفي في شمول تلك الأخبار له و فيه نظر.

دوم: باب ۳۰ کی یہ روایات اُس عمل کو شامل نہیں ہوتیں جو کسی ضعیف خبر میں بغیر ذکرِ ثواب کے وارد ہوا ہو۔ جواب: عبادات میں سے کسی چیز کا امر جو اُس فعل پر ثواب کے مترتب ہونے کا مستلزم ہے، اور خبر بھی اُس ثواب کے ترتب پر دلالت کرتی ہے جو اُس کا لازمہ ہے، یہ مقدار اُن اخبار کے عبادات کے امر کو شامل ہونے کے لیے کافی ہے۔ اِس جواب میں اشکال موجود ہے۔ سوم: جس طرح مستحب کے لیے ثواب ہے، اُسی طرح واجب کے لیے بھی ثواب ہے، تو علماء نے حکم کو مستحب سے مختص کیوں کیا؟ جواب: علماء کی غرض و مقصد یہ ہے کہ یہ روایات اُس فعل پر ثواب کے ترتب کے سوا کچھ ثابت نہیں کرتیں جس کے بارے میں کوئی خبر وارد ہوئی ہو۔ اور وہ اُس میں ثواب کے ترتب پر دلالت کرتی ہیں، نہ یہ کہ اُس کے ترک کی صورت میں عقاب ہو گا، اگرچہ خبر میں، خبر کے اُس حکم کے اثبات سے قاصر ہونے کی وجہ سے، اِس موضوع کی تصریح کی گئی ہے، اور وہ

و الثالث أن الثواب كما يكون للمستحب كذلك يكون للواجب فلم خصصوا الحكم بالمستحب و الجواب أن غرضهم أن بتلك الروايات لا تثبت إلا ترتب الثواب على فعل ورد فيه خبر يدل على ترتب الثواب عليه لا أنه يعاقب على تركه و إن صرح في الخبر بذلك لقصوره من إثبات ذلك الحكم و تلك الروايات لا تدل عليه فالحكم الثابت لنا من هذا الخبر بانضمام تلك الروايات ليس إلا الحكم الاستحبابي.

روایات اِس مطلب پر کوئی دلالت نہیں کرتیں؛ پس وہ حکم جو ہمارے لیے اِس خبر سے اُن روایات کے ساتھ ثابت ہوتا ہے، حکمِ استحبابی کے سوا کچھ نہیں۔

و الرابع أن بين تلك الروايات و بين ما يدل على عدم العمل بقول الفاسق من قوله تعالى إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا عموما من وجه فلا ترجيح لتخصيص الثاني بالأول بل العكس أولى لقطعية سنده و تأيده بالأصل إذ الأصل عدم التكليف و براءة الذمة منه و يمكن أن يجاب بأن الآية تدل على عدم العمل بقول الفاسق بدون التثبت و العمل به فيما نحن فيه بعد ورود الروايات ليس عملا بلا تثبت فلم تخصص الآية بالأخبار بل بسبب ورودها خرجت تلك الأخبار الضعيفة عن عنوان الحكم المثبت في الآية الكريمة.

چہارم: اِن روایات اور اُس چیز کے درمیان جو فاسق کے قول کی عدمِ قبولیت پر دلالت کرتی ہے ـ یعنی آیتِ قرآن: «إِنْ جاءَکُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا» {اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اچھی طرح چھان بین کر لو} ـ عمومِ من وجہ ہے، پس آیت کو صرف اُس واجب حکم کے مورد سے مختص کرنے کے لیے کوئی ترجیح نہیں جہاں فاسق کا قول قبول نہیں کیا جاتا۔ بلکہ برعکس، پہلا بہتر ہے، یعنی ہم فاسق کا قول کسی مورد میں قبول نہ کریں اور حتیٰ استحباب و کراہت کے موارد میں بھی تبیّن کریں۔ اِس دوسری دلیل کی سند قطعی ہے اور یہ مطلب اصل سے تائید شدہ ہے، کیونکہ اصل عدمِ تکلیف اور اُس حکم سے برائتِ ذمہ ہے۔ ممکن ہے اِس اشکال کا جواب یہ دیا جائے کہ آیتِ مبارکہ بغیر تحقیق کے فاسق کے قول پر عمل نہ کرنے پر دلالت کرتی ہے، اور «ما نحن فیہ» میں فاسق کے قول پر عمل روایات کے وارد ہونے کے بعد ہے کہ یہ عمل بغیر تفحص کے عمل نہیں؛ پس آیت اخبار کے واسطے سے تخصیص نہیں پاتی۔ بلکہ اِس آیتِ مبارکہ کے وارد ہونے کے سبب، اخبارِ ضعیفہ سے اعم، حکم کے عنوان سے، اُس حکم کے عنوان سے جو آیت میں ہے، تخصصاً خارج ہو جاتا ہے۔

ثم اعلم أن بعض الأصحاب يرجعون في المندوبات إلى أخبار المخالفين و رواياتهم و يذكرونها في كتبهم و هو لا يخلو من إشكال لورود النهي في كثير من الأخبار عن الرجوع إليهم و العمل بأخبارهم لا سيما إذا كان ما ورد في أخبارهم هيئة مخترعة و عبادة مبتدعة لم يعهد مثلها في الأخبار المعتبرة و اللّٰه تعالى يعلم.

پس جان لو کہ ہمارے بعض علماء مستحبات میں اہلِ تسنن کی اخبار اور اُن کی روایات کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اُنہیں اپنی کتابوں میں ذکر کرتے ہیں۔ یہ موضوع اشکال سے خالی نہیں، کیونکہ بہت سی اخبار میں اہلِ سنت کی طرف رجوع کرنے اور اُن کی اخبار پر عمل کرنے سے نہی وارد ہوئی ہے، خاص طور پر جب اُن کی اخبار میں کوئی اختراعی شکل یا کوئی بدعتی عبادت وارد ہوئی ہو جس کی مانند اہلِ بیت علیہم السلام کی اخبارِ معتبرہ میں مشہود نہ ہو۔ خدا جانتا ہے۔