«72»- وَ قَالَ صلى اللّٰه عليه و آله فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ سَبْعِينَ دَرَجَةً بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ حُضْرُ الْفَرَسِ سَبْعِينَ عَاماً وَ ذَلِكَ أَنَّ الشَّيْطَانَ يَدَعُ الْبِدْعَةَ لِلنَّاسِ فَيُبْصِرُهَا الْعَالِمُ فَيَنْهَى عَنْهَا وَ الْعَابِدُ مُقْبِلٌ عَلَى عِبَادَتِهِ لَا يَتَوَجَّهُ لَهَا وَ لَا يَعْرِفُهَا.
اور آپ نے یہ بھی فرمایا: عالم عابد پر ستّر درجے فوقیت رکھتا ہے، ہر دو درجوں کے درمیان ستّر سال گھوڑے کے دوڑنے کا فاصلہ ہے؛ اور یہ اِس لیے کہ شیطان لوگوں کے لیے بدعت رکھتا ہے، عالم اُسے دیکھ لیتا ہے اور اُس سے منع کرتا ہے؛ جبکہ عابد اپنی عبادت میں لگا ہوا ہے، نہ اُس کی طرف توجہ کرتا ہے اور نہ اُسے پہچانتا ہے۔
«73»- ضه، روضة الواعظين قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله أَ لَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ أَقْوَامٍ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَ لَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَنْبِيَاءُ وَ الشُّهَدَاءُ بِمَنَازِلِهِمْ مِنَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ١ فَقِيلَ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمُ الَّذِينَ يُحَبِّبُونَ عِبَادَ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ وَ يُحَبِّبُونَ عِبَادَ اللَّهِ إِلَيَّ قَالَ يَأْمُرُونَهُمْ بِمَا يُحِبُّ اللَّهُ وَ يَنْهَوْنَهُمْ عَمَّا يَكْرَهُ اللَّهُ فَإِذَا أَطَاعُوهُمْ أَحَبَّهُمُ اللَّهُ.
روضۃ الواعظین: اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کی خبر نہ دوں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء، مگر قیامت کے دن انبیاء اور شہداء اللہ کے حضور اُن کے مقامات پر، جو نور کے منبروں پر ہوں گے، رشک کریں گے؟ عرض کیا گیا: اے رسولِ خدا! وہ کون ہیں؟ فرمایا: وہ ہیں جو اللہ کی محبت اُس کے بندوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں اور بندوں کو اللہ کا محبوب بناتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کی محبت بندوں کے دلوں میں ڈالنا تو ہم سمجھ گئے، مگر بندوں کو اللہ کا محبوب کیسے بناتے ہیں؟ فرمایا: وہ بندوں کو اُس کا حکم دیتے ہیں جو اللہ کو پسند ہے اور اُس سے روکتے ہیں جو اُسے ناپسند ہے؛ اور جب وہ اطاعت کرتے ہیں تو اللہ اُنہیں دوست رکھتا ہے۔
«74»- غو، غوالي اللئالي قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْتَزِعُ الْعِلْمَ انْتِزَاعاً وَ لَكِنْ يَنْتَزِعُهُ بِمَوْتِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا فَأَفْتَوُا النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَ أَضَلُّوا.
عوالی اللئالی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: بے شک اللہ علم کو یکایک چھین نہیں لیتا، بلکہ علماء کی موت کے ذریعے اُسے اٹھا لیتا ہے، یہاں تک کہ اُن میں سے کوئی باقی نہیں رہتا۔ پھر لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں، تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیتے ہیں، پس خود گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔
«75»- ختص، الإختصاص قَالَ الْعَالِمُ عليه السلام مَنِ اسْتَنَّ بِسُنَّةٍ حَسَنَةٍ فَلَهُ أَجْرُهَا وَ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْ ءٌ وَ مَنِ اسْتَنَّ بِسُنَّةٍ سَيِّئَةٍ فَعَلَيْهِ وِزْرُهَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْ ءٌ.
اختصاص: امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا: جو کوئی سنتِ حسنہ کی بنیاد رکھے، اُس کا اجر اُس کے لیے ہے، اور ہر اُس شخص کا اجر بھی جو اُس سنتِ حسنہ پر عمل کرے، بغیر اِس کے کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کچھ کمی ہو؛ اور جو کوئی سنتِ سیّئہ کی بنیاد رکھے، اُس کا گناہ اُس کے ذمے ہے اور ہر اُس شخص کا گناہ بھی جو اُس پر عمل کرے، بغیر اِس کے کہ اُن کے گناہوں میں کچھ کمی ہو۔
«76»- نَوَادِرُ الرَّاوَنْدِيِّ، بِإِسْنَادِهِ عَنْ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ آبَائِهِ عليهم السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ أَوْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ أَوْ أَشَارَ بِهِ فَهُوَ شَرِيكٌ وَ مَنْ أَمَرَ بِسُوءٍ أَوْ دَلَّ عَلَيْهِ أَوْ أَشَارَ بِهِ فَهُوَ شَرِيكٌ.
نوادر الراوندی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو کوئی اچھی سفارش کرے، یا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرے، یا کسی کو کسی نیک کام کی رہنمائی کرے، یا کسی خیر کی طرف اشارہ کرے، وہ اِن نیک کاموں میں شریک ہو گا — جیسے اگر کوئی اشارے یا رہنمائی سے کسی کو کسی غلط اور ناروا کام پر آمادہ کرے تو وہ عمل اور سزا میں خطا کار کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔
«77»- كَنْزُ الْكَرَاجُكِيِّ، قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام لَمْ يَمُتْ مَنْ تَرَكَ أَفْعَالًا تُقْتَدَى بِهَا مِنَ الْخَيْرِ وَ مَنْ نَشَرَ حِكْمَةً ذُكِرَ بِهَا.
کنز الکراجکی: حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: وہ نہیں مرتا جو اپنے پیچھے ایسے نیک کام چھوڑ جائے جن کی پیروی کی جائے؛ اور جو کوئی حکمت کی بات پھیلائے، اُسے اُس کے سبب یاد کیا جاتا ہے۔
«78»- وَ مِنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: أَرْبَعٌ تَلْزَمُ كُلَّ ذِي حِجًى مِنْ أُمَّتِي قِيلَ وَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ اسْتِمَاعُ الْعِلْمِ وَ حِفْظُهُ وَ الْعَمَلُ بِهِ وَ نَشْرُهُ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: چار چیزیں ہیں جو میری امت کے ہر خردمند پر لازم ہیں۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟ فرمایا: علم سننا، اُسے یاد رکھنا، اُس پر عمل کرنا، اور اُسے پھیلانا۔
«79»- عدة، عدة الداعي عَنِ النَّبِيِّ صلى اللّٰه عليه و آله قَالَ: مِنَ الصَّدَقَةِ أَنْ يَتَعَلَّمَ الرَّجُلُ الْعِلْمَ وَ يُعَلِّمَهُ النَّاسَ.
عدۃ الداعی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: یہ بھی ایک صدقہ ہے کہ آدمی علم سیکھے اور لوگوں کو سکھائے۔