دَخَلَ الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَ كَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ وَ أَحَبِّهِمْ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقِينَ وَ حَشَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ النَّبِيِّينَ وَ الصِّدِّيقِينَ وَ الشُّهَداءِ وَ الصَّالِحِينَ وَ حَسُنَ أُولئِكَ رَفِيقاً
وہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہو گا اور انبیاء و اوصیاء کے بعد اللہ کے نزدیک سب سے افضل اور سب سے محبوب لوگوں میں ہو گا؛ اور اللہ اُسے قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ محشور کرے گا، جو بہترین رفیق ہیں۔
بيان: ظاهر هذا الخبر أنه لا يشترط في حفظ الأربعين حديثا كونها منفصلة بعضها عن بعض في النقل بل يكفي لذلك حفظ خبر واحد يشتمل على أربعين حكما إذ كل منها يصلح لأن يكون حديثا برأسه و يحتمل أن يكون المراد بيان مورد هذه الأحاديث أي أربعين حديثا يتعلق بهذه الأمور و شرح هذه الخصال سيأتي في أبوابها و تصحيح عدد الأربعين إنما يتيسر بجعل بعض الفقرات المكررة ظاهرا تفسيرا و تأكيدا لبعض ١.
اِس حدیث کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ چالیس حدیثیں یاد کرنے میں احادیث کا نقل میں ایک دوسرے سے جدا ہونا شرط نہیں، بلکہ ایسی ایک حدیث کافی ہے جو چالیس احکام پر مشتمل ہو؛ کیونکہ اُن میں سے ہر ایک اِس صلاحیت کا ہے کہ مستقل حدیث قرار پائے۔ اور احتمال ہے کہ مراد اُن احادیث کے موارد کا بیان ہو جو اِن امور سے تعلق رکھتے ہیں؛ اور اِن خصلتوں کی شرح عنقریب اپنے ابواب میں آئے گی۔ اور عددِ چالیس کی تصحیح اُسی وقت ممکن ہے جب حدیث میں بعض مکرر فقرے بعض دیگر کی تفسیر یا تاکید کے طور پر ہوں۔
«8»- صح، صحيفة الرضا عليه السلام عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عليهم السلام قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ حَفِظَ عَلَى أُمَّتِي أَرْبَعِينَ حَدِيثاً يَنْتَفِعُونَ بِهَا بَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقِيهاً عَالِماً.
صحیفۃ الرضا علیہ السلام: اسناد کے ساتھ نقل ہوا، امام رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: جو میری امت کے لیے چالیس حدیثیں محفوظ رکھے تاکہ وہ اُن سے فائدہ اٹھائیں، اللہ اُسے قیامت کے دن فقیہ اور عالم مبعوث کرے گا۔
«9»- غو، غوالي اللئالي رَوَى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ حَفِظَ عَلَى أُمَّتِي أَرْبَعِينَ حَدِيثاً مِنْ أَمْرِ دِينِهَا بَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي زُمْرَةِ الْفُقَهَاءِ وَ الْعُلَمَاءِ.
عوالی اللئالی: معاذ بن جبل کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: میری امت میں سے جو اپنی آخرت کے امر کی چالیس حدیثیں یاد کرے، اللہ اُسے قیامت کے دن فقہاء اور علماء کے زمرے میں مبعوث کرے گا۔
«10»- غو، غوالي اللئالي قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه و آله مَنْ حَفِظَ عَلَى أُمَّتِي أَرْبَعِينَ حَدِيثاً يَنْتَفِعُونَ بِهَا فِي أَمْرِ دِينِهِمْ بَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقِيهاً عَالِماً.
عوالی اللئالی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: میری امت میں سے جو ایسی چالیس حدیثیں یاد کرے جن سے وہ اپنے دین کے معاملے میں فائدہ اٹھائے، اللہ اُسے قیامت کے دن فقیہ عالم مبعوث کرے گا۔
بيان: هذا المضمون مشهور مستفيض بين الخاصة و العامة بل قيل إنه متواتر و اختلف فيما أريد بالحفظ فيها فقد قيل إن المراد الحفظ عن ظهر القلب فإنه هو المتعارف المعهود في الصدر السالف فإن مدارهم كان على النقش على الخواطر لا على الرسم في الدفاتر حتى منع بعضهم من الاحتجاج بما لم يحفظه الراوي عن ظهر القلب
اِن احادیث کا مضمون شیعہ و سنی کے درمیان مشہور و مستفیض ہے، بلکہ کہا گیا ہے کہ تواتر کی حد تک پہنچ چکا ہے؛ لیکن حدیث کے «حفظ» کے معنی میں اختلاف ہوا۔ کہا گیا ہے: حفظ سے مراد یہ ہے کہ اُسے دل میں محفوظ رکھے، جیسا کہ یہ معنی لوگوں میں متعارف ہے اور گزشتہ لوگوں کا طریقہ بھی اِسی پر تھا کہ احادیث حافظوں پر نقش ہوتی تھیں نہ کہ دفتروں پر؛ یہاں تک کہ بعض محدثین ایسی حدیث سے استدلال کو منع کرتے تھے جسے اُس کا راوی زبانی یاد نہ رکھتا ہو۔